دشمنِ جاں

نوبل انعام یافتہ پیرل بک کی لا جواب اور شاہکار کہانی ”دی اینمی” کااردو ترجمہ۔ دوسری جنگ عظیم میں ایٹم بم کے استعمال کے بعد پیش آنے والی ایک حیران کن سچی اور جذبۂ انسانیت سے لبریز داستان
ترجمہ:فیصل نذیر
ریسرچ اسکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی۔ 9818697294

(پہلی قسط)
ڈاکٹر سداؤ کا گھر جاپانی سمندر کے ساحل پر بنا ہوا تھا اور بچپن میں وہ اکثر یہاں اپنے والد کے ساتھ کھیلا کرتے تھے، ان کا گھر کچھ اونچائی پر تھا اور نیچے پتھر رکھے ہوئے تھے، ان کے گھر میں ایک بڑا سا باغیچہ تھا، سداؤ کے والد جاپان کے مشہور بزنس مین تھے اور سداؤ کو ہمیشہ اچھی نصیحت کرتے اور ان کی تعلیم و تربیت پر مکمل توجہ دیتے تھے۔ سداؤ اکلوتے بیٹے تھے اور انہوں نے اپنے والد کی ہر خواہش پوری کی تھی، وہ سمجھتے تھے کہ ان کے والد ان کی پڑھائی کے تئیں بہت فکر مند رہتے ہیں۔
ان کے والد نے انہیں ڈاکٹری کے لئے امریکہ بھیجا، جہاں وہ آٹھ سال پڑھنے کے بعد لوٹے، خوشی کی بات یہ تھی کہ ان کے خوش نصیب والد نے جیتے جی اپنے بیٹے کی کامیابی دیکھی اور ان کی حیات میں ہی وہ نہ صرف پورے جاپان میں ایک اچھے سرجن کے طور پر مشہور ہوئے؛ بلکہ ایک سائنسداں کے طور پر پہچانے جانے لگے؛ کیوں کہ وہ ایک ایسی دوا دریافت کرنے میں مشغول تھے، جو زخم کو اس کے نشان کو مکمل طورپرختم کردے۔ سداؤ کو فوج کے ساتھ مختلف مقامات پرنہیں بھیجا گیا؛ کیوں کہ آرمی کے ہیڈ بوڑھے جنرل کو کبھی بھی آپریشن کی ضرورت پڑسکتی تھی؛اسی لئے انہیں جاپان میں ہی رکنا پڑا۔
کچھ دنوں سے اچانک ٹھنڈ بڑھ گئی تھی اور شام تک کہرا چھانے لگتا تھا، انھوں نے سوچا رات تک تو کہرا گھر کو گھیر لے گا؛چنانچہ وہ کھڑکی بند کرکے دوسرے کمرے میں جانے والے تھے، جہاں ان کی بیوی ہانا اور دو چھوٹے چھوٹے بچے انتظار کر رہے تھے، مگر اسی وقت ہانا اس کمرے میں آگئی اور بڑے پیار سے اس نے سمندر کی طرف دیکھتے ہوئے سداؤ کے کندھے پر اپنا چہرہ رکھ دیا، وہ مسکراتی رہی اور کچھ نہیں بولی۔
ڈاکٹر سداؤ ہانا سے امریکہ میں ملے تھے، مگر انہوں نے اس وقت تک اپنی محبت کا اظہار نہیں کیا، جب تک یہ معلوم نہ کر لیا کہ وہ بھی جاپانی ہے۔ سداؤ کے والد شادی کے لئے اسی وقت راضی ہوئے ،جب انہیں مکمل اعتماد ہوگیا کہ ہانا بھی ان کے خاندان کی طرح مہذب اور ایک ہی نسل سے تعلق رکھتی ہے۔ سداؤ اکثر سوچتے کہ اگر ہانا جیسی سمجھدار بیوی انہیں نہیں ملی ہوتی ،تو ان کا ،ان کے دو بچوں کا اور ان کی ڈاکٹری کا کیا ہوتا۔ان کی پہلی ملاقات ایک عجیب اتفاق تھی، ان کے ایک امریکی پروفیسر، جو اپنے غیر ملکی طلبہ کو اکثر کھانے پر بلایا کرتے تھے، اگر چہ کوئی ان کے گھر کوئی جانا نہیں چاہتا تھا ؛کیوں کہ کھانا بڑا بے مزہ اور سادہ ہوتا، کمرہ تنگ اور کتابوں سے بھرا ہوا ہوتا، ان کی بیوی بڑی باتونی اور پکاؤ تھی؛لیکن پھر بھی پروفیسر کی شفقت کی وجہ سے سداؤ نے دعوت قبول کر لی تھی،وہ اکثر ہانا سے کہتے تھے کہ انہوں نے اس رات پروفیسر کے گھر نہ جانے کی ٹھانی تھی، مگر خوش بختی کہ وہ گئے اور وہاں انہیں ہانا مل گئی، جو کہ اس پروفیسر کی نئی اسٹوڈنٹ تھی، پھر دونوں میں محبت ہوگئی اور دونوں نے تعلیم مکمل کر نے کے بعد جاپان آکر شادی کی،دونوں سمندر کی طرف رخ کر کے باتیں کررہے تھے کہ اچانک اندھیرے میں سے کچھ آتا ہوا دکھائی دیا، پھر وہ کہرے میں چھپ گیا،ہانا چلائی کہ کیا ہے؟ پھر دونوں غور سے اس طرف دیکھنے لگے، انہوں نے دیکھا کہ ایک آدمی ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل چلنے کی کوشش کررہا ہے، پھر وہ اچانک منہ کے بل گر پڑا۔
ڈاکٹر سداؤ نے کہا: ہوسکتا ہے کوئی مچھیرا ہو اور اپنی کشتی سے گر گیا ہو۔ ڈاکٹر سداؤ کے گھر سے دو کلو میٹر کی دوری پر ایک جزیرہ تھا، جہاں دور دور کے مچھیرے آتے تھے اور شکار کرتے تھے، وہ جزیرہ پتھروں سے بھرا ہوا تھا۔ انہوں نے سوچا شاید پتھروں میں لگ کر زخمی ہوگیا ہوگا،ڈاکٹر سداؤ گھر سے تیزی سے باہر نکل کر اس شخص کی طرف لپکے اور ہانا بھی ان کے پیچھے دوڑی۔ ڈاکٹر سداؤ اس کو دیکھ کر بولے یہ تو بہت بری طرح زخمی ہے ،اسے سیدھا کیا، اس کا چہرہ دیکھتے ہی ہانا چلائی :یہ تو امریکی گورا شخص ہے اور وہ واقعی امریکی باشندہ تھا، مکمل بھیگا ہواتھا، ٹوپی اس کے سر سے ہٹتے ہی اس کا چہرہ بالکل صاف دکھنے لگا،کئی ہفتوں سے اس نے بال نہیں کاٹے تھے اور داڑھی بھی ہلکی بڑھی ہوئی تھی ، وہ بے سدھ ہوکر پڑا ہوا تھا۔
سداؤ اپنے ہاتھوں سے اس کا زخم ٹٹولنے لگے ،ان کے ہاتھ لگاتے ہی ایک زخم بہنے لگا ،انہوں نے دیکھا کہ اس کے کندھے پر ایک گولی بھی لگی ہوئی ہے، جو ابھی اندر ہی ہے۔اس وقت تک اندھیرا گہراہو چکا تھا اور ساحلِ سمندر پر دور دور تک کوئی بھی نہیں تھا، ڈاکٹر سداؤ نے سمندر کے کنارے موجود جھاگ، کائی اور گھاس سے اس کے خون کے بہاؤ کو بند کیا اور ہانا کی طرف دیکھتے ہوئے بولے :اس آدمی کا ہم کیا کریں؟ پھر خود ہی جواب دیتے ہوئے بولے: بہتر یہ ہوگا کہ ہم اس شخص کو دوبارہ پانی میں پھینک دیں،اب تک اس کے خون کا بہاؤ بند ہو چکا تھا ،وہ شخص تھوڑا کراہا پھر بے حرکت پڑا رہا۔ہانا تیزی سے بولی: ہاں! بالکل صحیح، یہی درست ہے ،مگر وہ لگاتار اس بے ہوش پڑے شخص کو دیکھتی رہی،سداؤ نے کہا :اگر ہم اس اجنبی شخص کو اپنے گھر میں پناہ دیں گے، تو یقیناً ملک سے غداری کے جرم میں ہمیں گرفتار کر لیا جائے گا اور پھانسی بھی ہوسکتی ہے اور اگر ہم اسے ابھی فوراً پولس کے حوالے کر دیں تو یہ زخم سے مرجائے گا۔
ہانا بولی اس بیچارے کے لئے سب سے اچھا یہی ہوگا کہ ہم اسے واپس سمندر میں ڈال دیں، مگر دونوں کے متفق ہونے کے باوجود کوئی نہیں ہلا اور دونوں ایک عجیب رحم و نفرت کے ملے جلے جذبات سے اسے دیکھتے رہے،ہانا کچھ لمحے بعد بولی: کون ہوسکتا ہے یہ؟ ڈاکٹر سداؤ نے اس کی گری ہوئی ٹوپی اٹھائی، اس پر امریکی بحریہ کا نشان تھا، جو تقریباً مٹ چکا تھا، سداؤ نے کہا: لگتا ہے امریکی بحریہ کا کپتان ہے ،جو جنگ کے دوران قیدی بنا لیا گیا تھا اور پھر کسی طرح سے جاپانی قید سے بھاگنے میں کامیاب ہوگیا، اسے قید کے دوران بہت سخت سزائیں دی گئی ہوں گی اور لگتا ہے بھاگتے وقت ہی اسے گولی لگ گئی۔
سداؤ نے ہچکچاتے ہوئے کہا کہ اگر یہ شخص صحیح سلامت ہوتا ،تو میں بلا تامل پولس کے حوالے کردیتا ؛کیونکہ آخر کار یہ ایک امریکی ہے اور تمام امریکی ہمارے دشمن ہیں، انہوں نے ہمارے ملک پر ایٹم بم گرا کر اسے تباہ کردیا، چونکہ یہ بری طرح زخمی ہے تو..؟ہانا نے سر ہلاتے ہوئے کہا: ہاں مجھ سے تو اسے واپس سمندر میں نہیں ڈھکیلا جائے گا، ایک ہی راستہ ہے ،ہم اسے گھر لے چلتے ہیں،ڈاکٹر سداؤ نے کہا: مگر ہم نوکروں کو کیا بتائیں گے؟
ہانا: ہم انہیں سچ بتا دیں گے کہ ہم اسے پولس کے حوالے کرنے والے ہیں اور ہم ضرورایساہی کریں گے، آپ کے عہدے، شہرت اور بچوں کے مستقبل کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ اگر ہم نے اسے جنگی قیدی کے طور پر حکومت کے سپرد نہیں کیا ،تو ہم سب دہشت گرد کو پناہ دینے والے اور غدارِ وطن کہلائیں گے۔
وہ اسے کونے والے کمرے میں لے گئے، یہ کمرہ سداؤ کے والد کا تھا، ان کے انتقال کے بعد وہ کمرہ خالی ہی رہتا تھا، اس میں زیادہ تر سامان جاپانی ہی تھے، سداؤ کے والد اتنے سخت وطن پرست تھے کہ وہ اپنی زندگی میں کبھی بھی بدیسی بستر پر نہیں سوئے ،نا ہی بدیسی سامان استعمال کیا،ان دونوں نے اس امریکی کو موٹے فرش پر لٹا دیا، ہانا نے الماری سے بہت ہی نفیس اور ملائم رضائی اور ریشمی چھالر والا تکیہ نکالا، وہ اس قیمتی سامان کے استعمال میں تھوڑا ہچکچائی۔ہانا دھیرے سے بولی: اووہ! اس شخص پر کتنی گندگی ہے، سداؤ نے ہامی بھرتے ہوئے کہا: بالکل، بہتر ہوگا اگر ہم اسے پہلے دھو دیں، تم اگر گرم پانی لے آؤ، تو میں اسے دھو دونگا۔ہانا: میں نہیں چاہتی کہ تم اسے اس طرح ہاتھ لگاؤ، ہمیں نوکروں کو بتانا ہی پڑے گا کہ یہ شخص یہاں ہے، میں یامی کو کہتی ہوں کہ کچھ دیر کے لیے بچوں کو چھوڑ کر اسے دھو دے۔
ڈاکٹر سداؤ نے اتفاق کرتے ہوئے کہا: ٹھیک ہے تم یامی کو بتا دو ،میں باقی نوکروں کو بتا دیتا ہوں۔ اس آدمی کا چہرہ پیلا پڑنے لگا تھا، ڈاکٹر سداؤ نے کہا: اگر اس کا آپریشن نہیں کیا گیا ،تو یہ مرجائے گا ؛کیونکہ یہ بہت ٹھنڈا ہوگیا ہے ،مگر اس کا دل ابھی بھی دھڑک رہا ہے۔ ہانا ڈر سے چلائی، اسے بچانے کی کوشش بھی مت کیجئے، وہ زندہ رہ کے بھی ہمارے لیے مصیبت ہی بنا رہے گا۔سداؤ نے کہا :یہ آدمی بڑا ہی سخت جان ہے ،ورنہ اب تک یہ مر گیا ہوتا، اب کہیں آپریشن کے دوران نہ مرجائے، ہمیں کچھ تو کرنا ہی ہوگا، پہلے اس کے زخموں کو دھونا پڑے گا۔ ڈاکٹر سداؤ گھر سے باہر نکلے، ان کے پیچھے ہانا بھی نکلی، ہانا کمرے میں اکیلے اس امریکی آدمی کے ساتھ نہیں رکنا چاہتی تھی، امریکہ سے لوٹنے کے بعد یہ پہلا امریکی شخص تھا، جسے ہانا نے دیکھا اور اس شخص کا ان لوگوں سے کچھ لینا دینا نہیں تھا ،جنہیں وہ امریکہ میں قیام کے دوران وہ جانتی تھی، یہاں وہ ایک دشمن اور آفتِ جان تھا ،زندہ ہویا مردہ۔

  • فیصل نذیر
    11 فروری, 2019 at 12:15

    شکریہ قندیل

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*