دشمنِ جاں

نوبل انعام یافتہ پیرل بک کی لا جواب اور شاہکار کہانی ”دی اینمی” کااردو ترجمہ۔ دوسری جنگ عظیم میں ایٹم بم کے استعمال کے بعد پیش آنے والی ایک حیران کن، سچی اور جذبۂ انسانیت سے لبریز داستان ۔
ترجمہ:فیصل نذیر
ریسرچ اسکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی
رابطہ: 9818697294

(آخری قسط)
کسی بھی حالت میں ہمیں اس پریشانی سے نجات چاہئے۔
بالکل ملے گی: ضعیف جنرل نے ڈاکٹر کو یقین دلاتے ہوئے کہا۔
سداؤ نے کہا: عزت مآب، جنرل صاحب، مجھے اس شخص سے کوئی ہمدردی نہیں ہے، بس یہ کہ وہ مرنے کے قریب تھا تو میں نے آپریشن کردیا جو کامیاب رہا۔
جنرل نے سر ہلاتے ہوئے کہا: بالکل، تمہاری اس مہارت سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ تم میرے لئے کتنے اہم ہو۔ تمہارے ہاتھوں میں وہ جادو اور اثر ہے کہ تم کسی کی بھی جان بچاسکتے ہو۔ تم کہہ رہے تھے کہ آج جیسا دل کا دورہ مجھے آیا وہ نارمل بات ہے؟ میں ایسے دورے جھیل سکتا ہوں؟
سداؤ نے کہا: اب آپ کو صحت کا خیال رکھنا چاہئے، ایک سے زیادہ دورہ آپ کے لئے جان لیوا ہوسکتا ہے۔
مست جنرل نے آرام سے لیٹتے ہوئے کہا: تم بے فکر رہو، میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا، تمہیں کوئی گرفتار نہیں کرسکتا، ذرا سوچو اگر تمہیں پھانسی ہوگئی اور اگلے ہی دن مجھے دورہ آگیا، تو میرا علاج کون کرے گا؟
سداؤ نے ادب سے جواب دیا: اور بھی ماہر ڈاکٹر ہیں۔ جنرل نے فورا جواب دیا: اووہ! مجھے کسی پر اعتماد نہیں، ہمارے اکثر ڈاکٹر جرمنی سے پڑھ کر آئے ہیں اور ان میں امریکہ کی تعلیم والی مہارت نہیں ہے، وہ اکثر آپریشن کرنے کے بعد کچھ نہ کچھ پیٹ میں بھول جاتے ہیں، اگر ان جاہلوں نے میرا آپریشن کیا ،تو میرے مر جانے کے بعد بھی یہ اس آپریشن کو کامیاب آپریشن کا نام دیں گے، میں خود امریکہ میں پڑھا ہوں، وہاں سے ڈاکٹری کئے ہوئے انسان کی بات ہی جدا ہے، یہ اور بات ہے کہ ابھی ہمارے درمیان جنگ چل رہی ہے۔ تم میرے اتنے معتمد ہو کہ اگر تمہارے قیدی کو پھانسی بھی ہوگئی، پھر بھی تم بے ہوشی میں میری جان نہیں لوگے، جنرل نے آنکھ مارتے ہوئے کہا۔ جنرل بڑا مزاحیہ اور خوش طبع آدمی تھا۔
کچھ دیر آنکھ بند کر کے آرام کرنے کے بعد اس نے کہا: عجیب بات ہے ،وہ قیدی تمہارے دروازے پر کیسے پہنچ گیا؟
سداؤ نے ادب سے کہا: جی جنرل، مجھے بھی حیرت ہے۔
سب سے بہتر یہ ہوگا کہ اس کو خاموشی سے قتل کردیا جائے، تم نہیں کروگے ؛بلکہ میرے کچھ لوگ کردیں گے، جو اسے جانتے تک نہیں، میرے پاس اس طرح کی صفائی کے لیے کچھ لوگ ہیں، وہ بہت ماہر ہیں، آج کل ایسے بھی گرمی ہے اس کے روم کا دروازہ کھلا رکھنا۔ سداؤ نے کہا: جناب! سمندر کے رخ والا دروازہ کھلا ہی رہتا ہے۔
جنرل نے انگڑائی لیتے ہوئے کہا: بہت اچھا، تم فکر مت کرو، میرے آدمی بہت ماہر ہیں، وہ اس طرح اس کا کام تمام کریں گے کہ ذرا بھی شور نہیں ہوگا اور اگر تم چاہو، تو وہ لاش بھی ٹھکانے لگا دیں گے۔
ہانا کی فکر کرتے ہوئے سداؤ نے جلدی سے کہا: یہ سب سے اچھا ہوگا۔
آرمی جنرل کو دوا دینے کے بعد ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سداؤ وہاں سے سیدھے گھر آئے اور پلان کے سلسلے میں سوچتے رہے، اس طرح سارا معاملہ درست ہوجائے گا اور میں جواب دہی سے بھی بچ جاؤنگا اور ہانا سے اس سلسلے میں کچھ نہیں بتاؤں گا، ورنہ گھر میں قتل کے پلان سے وہ گھبرا جائے گی۔ حکومت چلانے کے لئے اس طرح کے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہی ہے اور اس طرح کے موجودہ حالات میں جاپان جیسے ملک میں حکومت کے مخالف لوگوں کو چپ کرنے کے لئے اس طرح کے لوگ رکھنے پڑتے ہیں۔
غرضیکہ مختلف دلیلوں کے ذریعے انہوں نے اپنے دل کو اس قتل کاجواز فراہم کردیا اور وہ اس کمرے میں گئے، جہاں وہ قیدی تھا ،مگر وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ٹام بستر پر نہیں تھا اور دھیرے دھیرے باغیچے کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
سداؤ غصے میں چلائے: ارے! یہ کیا ہے؟ تمہیں اپنا روم چھوڑ کر دوسرے روم میں جانے کی اجازت کس نے دی؟
ٹام نے خوشی میں جھومتے ہوئے کہا: میں اجازت لینے کا عادی نہیں، واو! میں بہت اچھا محسوس کر رہا ہوں، مگر کیا یہ داہنے کندھے کا زخم ایسا ہی رہے گا؟ ڈاکٹر سداؤ ساری سختی بھول کر اس کی طرف لپکے ،اس کو سہارا دیکر بٹھایا اور اس کے زخم کا معائنہ کرتے ہوئے بولے: اچھا، کوئی بات نہیں، یہ اگر ورزش سے ٹھیک نہ ہوا، تو مالش سے ہوجائے گا۔
ٹام نے کہا: زیادہ تکلیف نہیں ہے۔ ڈاکٹر میں بہت دنوں سے آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر میں آپ جیسے ماہر ڈاکٹر اور نیک دل انسان سے نہیں ملتا ،تو میں کب کا مر چکا ہوتا۔
سداؤ نے جاپانی انداز میں اس کا شکریہ قبول کرتے ہوئے سر جھکا دیا، مگر کچھ کہا نہیں۔
ٹام نے گرم جوشی سے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: اگر تمام جاپانی آپ کی طرح ہوں ،تو یہ جنگ ہی نہ ہو اور ہم سب اس تباہی سے بچ جائیں۔
سداؤ نے گہری آہ بھرتے ہوئے کہا: شاید، اچھا اب مجھے لگتا ہے تمہیں آرام کرنا چاہئے۔ انہوں نے ٹام کو سہارا دیکر بستر پر لٹا دیا، اور گڈ نائٹ کہہ کر چلے آئے۔
سداؤ اس رات بمشکل ہی سو پائے، وہ پوری رات مختلف ہلکی آوازوں سے بیدار ہوتے رہے، اکثر انہیں لگتا کہ انہوں نے کچھ قدموں کی آہٹ سنی، یا باغیچے میں کسی نے کوئی پتھر ہٹایایا کوئی کچھ بھاری سامان اٹھا کر لے جا رہا ہو، پھر وہ تھوڑی دیر بعد سوگئے۔
صبح میں وہ بہانا کر کے سب سے پہلے ٹام کے کمرے میں گئے، یہ سوچتے ہوئے کہ اگر امریکی کا معاملہ صاف ہوگیا ہوگا ،تو وہ ہانا کو بتا دیں گے کہ جنرل نے ایسا ہی کرنے کا حکم دیا تھا۔ مگر انہوں نے دروازہ کھولا، تو انہیں پتہ چلا کہ رات کچھ نہیں ہوا، سارا شور ان کا وہم تھا، وہ بڑے آرام سے خرّاٹے مار کر سورہا تھا، سداؤ نے فوراً خاموشی سے دروازہ بند کردیااور ہانا کو سامنے دیکھ کر بولے: وہ سو رہا ہے، اب وہ اتنا اچھا ہوگیا ہے کہ اس طرح کی گہری اور بے فکر نیند سو سکتا ہے۔
ہانا کچھ بولے بغیر ان کا منہ تکتی رہی اور بولی: آخر کیا کریں اس آفت کا؟
سداؤ نے اسے مکمل تسلّی دیتے ہوئے کہا: بس دو تین دن اور برداشت کرلو، میں کچھ کرتا ہوں۔
سداؤ نے دل میں سوچا آج کی رات یقیناًاس کا کام تمام ہوجائے گا اور انہوں نے رات میں ٹہنیوں کے ٹوٹنے اور دروازوں کے کھلنے بند ہونے کی آوازیں سنیں، ہانا بھی بیدار ہوگئی اور بولی: ہمیں قیدی کے کمرے کا دروازہ بند کردینا چاہئے۔
سداؤ نے کہا: نہیں، اب وہ اس قابل ہوگیا ہے کہ اپنا کام خود کرسکے۔
دوسری صبح امریکی زندہ ہی تھا، سداؤ نے دل کو تسلی دی کہ تیسری رات یقیناًوہ رات ہوگی۔
اس رات ہوا تیز چل رہی تھی اور بارش بھی ہونے لگی ، بجلی بھی تیز چمک رہی تھی، سداؤ کو نیند آگئی ،مگر آدھی رات کو کچھ ٹوٹنے کی آواز سے ڈر کر سداؤ ایک دم سہم کر اٹھ گئے۔
ہانا بیدار ہوکر زور سے چلائی: کیسی آواز تھی یہ؟ ان کے شور سے بچے بھی بیدار ہوگئے اور زور سے رونے لگے۔
ہانا بستر سے اٹھتے ہوئے بولی: میں دیکھ کر آتی ہوں۔
سداؤ نے قاتلوں کی موجودگی کا گمان کرتے ہوئے، ہانا کا ہاتھ زور سے پکڑ لیا اور اسے ہلنے بھی نہیں دیا۔
ہانا سداؤ کے اس انوکھے برتاؤ سے ڈر گئی اور چلائی: کیا ہوا تمہیں؟ کیا پریشانی ہے؟ میرا ہاتھ چھوڑو۔
سداؤ کے چہرے پر خوف ظاہر تھا ،وہ چلائے: کہیں مت جاؤ، مت ہلو۔
سداؤ کے چہرے پر گھبراہٹ اور دہشت دیکھ کر ہانا بھی بری طرح ڈر گئی، اس کی سانسیں رک سی گئیں اور وہ چپ چاپ کھڑی رہی، کمرے میں کچھ دیر مکمل خاموشی چھائی رہی، پھر وہ دونوں بچوں کو بیچ میں رکھ کر چپ چاپ لیٹ گئے۔
اگلی صبح پھر جب انہوں نے دروازہ کھولا، تو وہ امریکی وہیں تھا ،کافی اچھے مزاج میں تھا اور مسکرا رہا تھا، آج وہ خود ہی نہا دھو کر تیار تھا اور بغیر کسی سہارے کے کھڑا تھا، سداؤ کو سلام کرتے ہوئے اس نے داڑھی بنانے کے لیے ریزر مانگا۔ کچھ دیر بعد وہ ایک مکمل صحت مند انسان کی طرح باغیچے میں ٹہل رہا تھا اور سداؤ کے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔
اس نے ہانا اور سداؤ کی طرف دیکھتے ہوئے متشکرانہ لہجے میں کہا: میں اب بالکل ٹھیک ہوں۔
سداؤ نے بڑے پیار سے اس کے بدن پر چادر ڈالی اور بخار وغیرہ چیک کیااور دل میں یہ تہیہ کیا کہ آج رات اس کا کچھ انتظام کرنا ہی ہوگا۔ ایسا نہیں تھا کہ انہیں اس امریکی سے بہت نفرت تھی، مگر اب زیادہ ضیافت اور مہربانی ان کے لئے خود رسک اور آفت جاں بن سکتی تھی۔
سداؤ نے ٹام سے آہستہ آواز میں کہا: اب تم ٹھیک ہوگئے ہو، لہذا میں نے ایک ترکیب سوچی ہے اور اب تم اس قابل ہوگئے ہو کہ اسے انجام دے سکو۔ میں آج رات دریا کے کنارے اپنی ناؤ رکھ دوں گا، اس میں ضروری کھانا اور کپڑا وغیرہ ڈال دوں گا۔ تم اس کی مدد سے کچھ دورپر واقع جزیرے پر چلے جانا، اس جزیرے پر کسی کا قبضہ نہیں ہے اور کوئی بھی وہاں نہیں رہتا ؛کیونکہ طوفان میں وہ ڈوب جاتا ہے۔ مگر یہ طوفان کا موسم نہیں ہے۔ تم اس جزیرے میں ٹھہرے رہنا ،جب تک تمہیں کوریا کے مچھیروں کا جہاز نہ دکھے ، وہ اکثر جزیرے کے بہت قریب سے گزرتے ہیں؛ کیونکہ جزیرے کے آس پاس پانی گہرا ہوتا ہے اور مچھلیاں بھی زیادہ پائی جاتی ہیں۔ تم ان کے ساتھ کوریا پہنچ کر آرام سے امریکہ پہنچ سکتے ہوں۔
ٹام یہ سن کر کچھ دیر کے لئے سکتے اور صدمے میں چلا گیا، پھر دھیرے دھیرے سب سمجھ گیا، سداؤ کو کچھ دیر تک تکتا رہا پھر بولا: کیا مجھے ایسا ہی کرنا ہوگا، اور کوئی راہ نہیں ہے؟
سداؤ نے کہا: یہی سب سے بہتر راستہ ہے اور تم جانتے ہو کہ کئی لوگوں کو معلوم ہوچکا ہے کہ تم یہاں چھپے ہو، زیادہ دن ہم اس سچ کو نہیں چھپا سکتے۔ لہذا اسی میں ہم دونوں کی بھلائی ہے۔
ٹام سب سن اور سمجھ کر راضی ہوگیا۔ سداؤ اس دن شام تک قیدی سے نہیں ملے، جب اندھیرا چھا گیا ،تو وہ ناؤ کو کھینچ کر سمندر میں لے گئے، اس میں کھانے کا سامان اور پانی کی بوتلیں، جو انہوں نے آج چپکے سے خریدی تھیں اور دو موٹے کمبل اس میں رکھ دیے؛ کیونکہ رات میں ٹھنڈ بڑھ جاتی تھی، ناؤ کو ساحل پر لگے کھمبے سے باندھ دیا، اس رات لہریں تیز تھیں اور اندھیرا تھا ، انہوں نے یہ سارا کام بغیر ٹارچ کی روشنی کے کیا۔
سداؤ گھر میں عام دنوں کی طرح ایسے داخل ہوئے، جیسے اپنے کام سے لوٹے ہوں؛ تاکہ ہانا کو کچھ پتہ نہ چلے، اس رات نوکرانی یامی گھر آئی ہوئی تھی، کھانا اسی نے بنایا اور سب کو کھلایا اور بتایا کہ وہ بچوں کو بہت یاد کرتی ہے۔ پھر وہ اپنے گھر چلی گئی، سداؤ نے ہانا سے کہا: زیادہ فکر مت کرو، ایک بار یہ امریکی چلا جائے ،پھر سارے نوکر واپس آجائیں گے۔
پھر وہ اس رات بستر پر جانے سے پہلے مہمان خانہ گئے اور ٹام کی طبیعت کا جائزہ لیا اور اس کے بخار، نبض اور حرکت قلب کو چیک کیا، دل تیز دھڑک رہا تھا، مگر وہ اس لئے کہ اس رات اسے جانا تھا، باقی اس کی طبیعت مکمل ٹھیک تھی، سداؤ نے اسے کچھ دوائیاں دیں اور کچھ مزید ہدایات دیں۔
ٹام نے نم آنکھوں سے کہا: ڈاکٹر تم ایک بار پھر میری جان بچارہے ہو۔
انہوں نے جواب دیا :بالکل نہیں، بس ملک کے نازک حالات اس سے زیادہ تمہیں روکنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔
انہیں شروع میں اسے ٹارچ دینے میں ہچکچاہٹ ہورہی تھی، مگر کچھ غور کے بعد انہوں نے اپنا چھوٹا سا ٹارچ اسے دیدیا، جو وہ رات میں ایمرجنسی میں کسی مریض کو دیکھنے کے لئے جاتے وقت استعمال کیا کرتے تھے۔
سداؤ نے اسے سمجھانا شروع کیا: دیکھو!! اگر کوئی جہاز ملنے سے پہلے تمہارا کھانا ختم ہوجائے، تو شام میں جب سورج ڈوبنے کے قریب ہوتا ہے اور آسمان میں ابھی لالی رہتی ہے ،تم اسی لالی کی طرف دو مرتبہ ٹارچ کی روشنی مارنا اور خبر دار رات میں کسی طرح کی کوئی روشنی مت کرنا، پورا ملک ہائی الرٹ پر ہے، فورا پکڑے جاؤ گے اوراگر تم صحیح سلامت ہو ،مگر ابھی اسی جزیرے میں ہو ،تو ایک مرتبہ ٹارچ کی روشنی مارنا، میں سمجھ جاؤں گا، تمہیں وہاں مچھلیاں آسانی سے مل جائیں گی، مگر اسے کچّے ہی کھانا آگ اور دھواں دور سے دیکھا جا سکتا ہے۔
ٹام نے گہری سانس لیتے ہوئے ”ٹھیک ہے” کہا۔
سداؤ نے اسے اوپر سے جاپانی روایتی ڈریس پہنایا اور بڑی جاپانی ٹوپی دی؛ تاکہ اندھیرے میں اسے کوئی امریکی نہ سمجھ لے اور بولے: ٹھیک ہے اب نکلو۔
ٹام بغیر ایک لفظ بولے، پوری گرم جوشی سے ڈاکٹر سے ہاتھ ملایا اور پچھلے دروازے سے نیچے اتر کر اندھیروں میں گم ہو گیا، سداؤ نے قریب میں دو مرتبہ ٹارچ کی روشنی جلتے دیکھی، شاید وہ راستہ ڈھونڈھنے کے لئے تھی، پھر آخری بار ساحل پر ہلکی سی روشنی جلی اور پھر مکمل اندھیرا چھا گیا۔
سداؤ نے سمندر کی طرف کھلنے والے دروازے اور کھڑکی کو بند کیا اور آرام سے سوگئے۔
کیا؟ وہ بھگوڑا قیدی پھر بھاگ گیا؟ جنرل نے دھیرے سے پوچھا۔ جنرل کی اس درمیان طبیعت زیادہ خراب چل رہی تھی، کچھ دنوں قبل جنرل کا آپریشن کیا گیا تھا، سداؤ کو لگ رہا تھا کہ شاید اب وہ نہیں بچ پائیں گے ،مگر جنرل اب ٹھیک تھے اور کچھ کھانے بھی لگے تھے، سداؤ نے جنرل کو بتا دیا کہ وہ امریکی بھاگ گیا ہے اور سداؤ نے ان خطرناک قاتلوں کا کوئی ذکر ہی نہیں کیا، وہ اتنا ضرور جانتے تھے کہ ان کے گھر کوئی آیا ہی نہیں۔
سارے نوکر واپس آگئے، یامی نے اس گھر کو ،جس میں امریکی تھا، خوب اچھے سے دھویا اور اس کی بو دور کرنے کے لئے گندھک (سلفر) کی دھونی دی، کسی نے کچھ نہیں کہا، صرف بوڑھے مالی کو باغیچے کا درہم برہم نظام دیکھ کر غصہ آگیا۔
کچھ ہفتوں بعد جب جنرل مکمل ہوش میں آیا ،تو سداؤ نے اسے تفصیل سے بتایا: عزت مآب! وہ قیدی جس کا میں نے ذکر کیا تھا، وہ فرار ہوگیا۔ سداؤ جنرل کو بار بار پریشان نہیں کرنا چاہتے تھے؛ بلکہ بس ان کی طرف سے اطمینان چاہتے تھے کہ وہ اب کسی کو گھر نہ بھیج دیں۔
جنرل نے گہری سانس لینے کے بعد آنکھ کھولی اور کہا: ارے ہاں! وہ قیدی جس کو قتل کروانے کا میں نے تم سے وعدہ کیا تھا؟
سداؤ نے کہا:جی جناب، وہی قیدی۔
جنرل نے کہا: مگر میں وعدہ پورا نہیں کرسکااور یہ اس لئے نہیں کہ مجھے اس ملک کے دشمنوں سے ہمدردی ہے؛ بلکہ اس بیچ میں نے صرف اپنے اور اپنی صحت کے بارے میں سوچھا، ملک کے بارے میں نہیں، ورنہ ملک کے دشمنوں سے میں کیسے غافل ہوسکتا ہوں؟ اور تم نے تو اپنی حب الوطنی کا ثبوت دیتے ہوئے اس کو پکڑا ،اس کا آپریشن کرکے اسے ہوش میں لائے؛تاکہ ہم اس سے اہم خفیہ معلومات نکال سکیں، مگر میں ہی اپنی ذمے داری نبھانے سے چوک گیا۔
سداؤ نے دیکھا کہ جنرل نے سارا معاملہ اپنے سر لے لیا ہے، تو اس نے معاملہ اسی رخ پر رکھتے ہوئے کہا: آپ نے اس ملک کے لئے کتنی قربانیاں دیں، آپ کی بہادری اور وطن پرستی کے گیت گائے جاتے ہیں، ایک قیدی بھاگ گیا ،تو کیا ہوا، آپ اگر سلامت ہیں ،تو پورا جاپان سلامت ہے۔
جنرل اپنی تعریف سن کر خوش ہوا اور آنکھیں کھول کر بولا: تم بہت اچھے انسان ہو، تمہیں اس آرمی ڈے پر انعام سے نوازا جائے گا۔
سداؤ اپنے گھر کی چھت پر ٹارچ کی روشنی کا انتظار کر رہے تھے، اب تک وہ ایک روشنی دیکھتے تھے، جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ اب بھی وہیں ہے، مگر آج انہیں کوئی روشنی دکھائی نہیں دی اور یہی ان کا اصل انعام تھا، جزیرے میں کوئی بھی نہیں تھا، وہ امریکی یقیناًصحیح سلامت جاچکا تھا؛ کیونکہ کوریائی جہاز کی ہلچل انہوں نے بھی محسوس کی تھی۔
وہ اپنے برآمدے میں آکر کھڑے ہوگئے اور اس سمندر کو غور سیدیکھنے لگے، جس سے کچھ روز قبل شام میں وہ امریکی باہر آیا تھا، پھر سداؤ کے دماغ میں نہ جانے کیوں امریکہ میں ڈاکٹری کی پڑھائی کے دوران کا آٹھ سال کا وقت گھومنے لگا اور ان کو کئی اور سفید چہرے نظر آنے لگے، وہاں کی گلیاں، چوراہے اور در و دیوار یاد آنے لگے، وہ پروفیسر، جس کے گھر وہ اپنی محبت ہانا سے ملے تھے، وہ پروفیسر اصول کا کتنا سخت تھا اور حاضری لینے میں بہت سختی کرتا تھااور اس کی بیوی! کتنی باتونی اور پکاؤ تھی، ہم دوست اکثر مذاق کرتے تھے کہ پروفیسر گھر میں تو کچھ بول نہیں پاتے ؛اس لئے سارا غصہ اور لیکچر ہم پر ہی انڈیل دیتے ہیں۔ وہ پارک جہاں ہانا اور میں خوب گھوما کرتے تھے اور وہ کیفے ،جہاں ہم چائے پیا کرتے تھے، اس کیفے والے سے کتنی دوستی ہوگئی تھی۔ اس کیفے کی کونے والی سیٹ، جس پر میں اور ہانا گھنٹوں بیٹھا کرتے تھے۔
پھر ان کو سرجری کے وہ ماہر اور قابل استاد یاد آگئے، جو غیر ملکی بچوں کو بہت مانتے اور ہمیشہ اچھا کرنے پر ابھارتے تھے، جنہیں بعد میں نوبل انعام بھی ملا، وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ سرجری کے وقت چاقو کا استعمال رحمدلی اور مکمل ذمے داری سے کرو۔ پھر سداؤ کے ذہن میں اپنی مکان مالکن کی تصویر آگئی، وہ نہایت سخت، موٹی اور پھوہڑ عورت تھی، کرایے میں تاخیر ذرا برداشت نہیں کرتی اور بات بات پر اپنے گندے روم سے بھگا دینے کی دھمکی دیتی۔ ہمیں امریکہ میں یونیورسٹی میں داخلہ اور ہاسٹل ملنے سے پہلے، باہر رہنے میں کتنی تکلیف ہوئی، اس وقت تمام غیر ملکیوں اور خاص کر جاپانیوں کے خلاف سماج میں گہرا تعصب پایا جاتا تھا، امریکی اپنے آپ کو برتر سمجھتے تھے۔
ایسے حالات میں وہ بیچاری ہمیں کمرہ دینے پر راضی ہوگئی اور ہانا جب پہلی بار کمرے آئی ،تو اس نے مکمل تفتیش کی، ہم نے بھی اسے مکمل جھوٹ بولا تھا کہ ہم کزن ہیں، ان تمام برائیوں کے باوجود ایک مرتبہ جب میں بیمار ہوا، تو اس مالکن نے میرا بہت خیال رکھا تھا اور کھچڑی بنا کر کھلاتی تھی، مگر اس عیادت میں بھی وہ اتنی سخت ہوتی کہ غصہ آنے لگتا اور نفرت ہونے لگتی تھی۔بہرکیف سارے گورے قابل نفرت ہیں ،تب ہی تو انہوں نے ہمارے دو شہروں پر ایٹم بم گرادیااور ہمارے لاکھوں جاپانیوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ ان کے اندر غصے کی آگ بھڑکنے لگی اور دل میں کہنے لگے: جن لوگوں نے ہمارے ملک پر بم گرایا ہے، ان سب کو اس کی قیمت چکانی ہوگی اور ان سے سخت بدلہ لیا جائے گا۔
اچانک سداؤ کا غصہ سرد پڑ گیا، اور خود سے سوال کر بیٹھے کہ موقع ہوتے ہوئے بھی وہ خود اس امریکی کی جان کیوں نہیں لے سکے؟؟

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*