دار القضااور عدالتی نظام

پروفیسر فیضان مصطفیٰ و مہیندر شکلا
مسلم پرسنل لا بورڈکے ذریعہ ملک کے طول وعرض میں شرعی عدالتوں کے قیام کی تجویز سے ممکن ہے کہ ہندو دائیں بازوکو شہ ملے ، مگر ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا یہ حقیقت میں متوازی عدالتیں ہیں ؟ ان عدالتوں سے کون اور کیوں رجوع کرتا ہے ؟کیا اس کا مطلب عدالتی نظام کی نجکاری ہے ؟کیا سول عدالتوں کی ناکامی ایک عالمی منظر نامہ ہے ؟
دار القضاء (شرعی عدالتیں)اپنے سخت ترین معنوں میں بھی عدالت نہیں ہیں ، بلکہ یہ محض کاؤنسلنگ اور ثالثی کے مراکز ہیں ، یہ قابل رسائی ، مفید، غیر رسمی اور رضا کار ادارے ہیں ، جو غریبوں کو تیز رفتاری کے ساتھ کم خرچ میں انصاف مہیا کرتے ہیں ، عدالت عظمیٰ نے وشنو لوچن مدن مقدمے (۲۰۱۴ ) میں اپنا تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ شرعی عدالتیں در حقیقت عدالت نہیں ہیں ، اس لیے کہ ہندوستان کا قانونی نظام کسی متوازی عدالتی نظام کی توثیق نہیں کرتا ہے ، تا ہم عدالت عظمیٰ نے ان شرعی عدالتوں کو غیر قانونی ماننے سے بھی انکار کر دیا تھا ۔ 
سول عدالتی نظام کا زوال ہمارے وقت کا ایک عام مظہر ہے ،حقیقت یہ ہے کہ تنازعات کے حل کی متبادل مشینری(ADR)آج کے زمانے میں ایک عام سی چیز ہو گئی ہے ، امریکہ کے بہت سے کارپوریٹ گھرانے حکومت کے ذریعہ متعین کردہ ججوں کے مقابلے نجی ثالث کی طرف زیادہ مائل نظر آتے ہیں ۔۱۹۸۰ء کی دہائی سے تنازعات کے حل کے سلسلہ میں امریکہ میں ایک ’’خاموش انقلاب ‘‘ آیا ہے، امریکہ کی ریاستی اور فیڈرل عدالتوں میں چلنے والے مقدمات کی تعداد میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے ، برطانیہ میں بھی تمام عائلی تنازعات کو لازمی طور پر ثالثی مراکز کے حوالے کیا جاتا ہے ، اس رجحان کو بجا طور پر ’’سول عدالتوں کا اقتصادی تزکیہ ‘‘ کا نام دیا گیا ہے ، ’’تنازعات کے حل کی متبادل مشینری ‘‘کو حکومتیں بھی حمایت پیش کرتی ہیں ، کیوں کہ ان کے ذریعہ سے عوام کے پیسے کی بچت ہو تی ہے ، چنانچہ ۲۰۰۸ء میں برطانیہ نے پانچ شرعی عدالتیں قائم کیں، جن کے فیصلے انگریزی عدالتی نظام کی پوری قوت کے ساتھ نافذ ہو تے ہیں ، اسرائیل بھی شرعی عدالتوں کے فیصلوں کو ریاست کی سول عدالتوں کے فیصلے کے طور پر نافذ کرتا ہے ۔ ’’تنازعات کے حل کی متبادل مشینری‘‘ ایک طرح سے نظام انصاف کی نجکاری ہے ۔اس لیے کہ فریقین اس میں نہ صرف یہ کہ اپنے جج خود نامزد کرتے ہیں ، بلکہ اپنے ذاتی قوانین بھی بنا لیتے ہیں، یا دیگر ملکوں کے قوانین اپناتے ہیں۔آج ہندوستان میں بھی بہت سارے کارپوریٹ کے تنازعات ثالث کے ذریعہ حل ہو تے ہیں ، سول پروسیجیر کوڈ کی دفعہ ۸۹؍ میں آر بٹریشن ، میڈیئشن اور کونسی لیشن کی بات کی گئی ہے ، کمرشیل کورٹ آرڈینینس۲۰۱۸ء جس کے ذریعہ کمرشیل کو رٹ ایکٹ ۲۰۱۵ء میں ترمیم ہوئی جس میں کمرشیل تنازعات کے لیے میڈیئشن کو لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ میڈئیشن کے ذریعہ تنازعات کے حل کا وہی اثر ہو گا جو آربٹریشن اینڈ کونسی لیشن ایکٹ ۱۹۹۶ء کے تحت ثالث کے فیصلے کا ہو تا ہے ۔ اسی طرح کنزیومر پروٹیکشن (تحفظ صارفین) بل ۲۰۱۸ءمیں بھی میڈئیشن کی بات کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے زیادہ تر ججز سبکدوشی کے بعد ثالثی کا کام کرتے ہیں ، تاہم بد قسمتی سے ان کی ثالثی بہت قیمتی (مہنگی)ہو تی ہے ، جس کی سماعتیں عام طور پر پانچ ستارہ ہوٹلوں میں ہوتی ہیں اور بسا اوقات بیرون ہند بھی ۔
نو آبادیاتی دور میں تقریبا ایک صدی تک قاضی حضرات عدالتی کاموں کی تکمیل میں ججوں کو اپنا تعاون پیش کرتے تھے ، جب قاضی ایکٹ ۱۸۸۰ء نے قاضیوں کو ان کے عدالتی اختیارات سے محروم کر دیا ، تو شرعی عدالتوں کے قیام کا مطالبہ سامنے آیا ، مگر اس مطالبے کی تکمیل نہ ہو سکی ، اس کی وجہ سے بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں صوبہ بہار میں اس طرح کی عدالتوں کے قیام کے لیے نجی اقدامات کیے گئے ۔ بہار کی ان شرعی عدالتوں کو معاملات کے حل کے لیے واضح کارروائی اور منظم طریقے سے شہادتوں کو رکارڈ کر کے فیصلے صادر کرنے کے حوالے سے بڑے پیمانے پر احترام کی نگاہ سے دیکھا جا تا ہے ۔ان میں سے کچھ فیصلوں کے اقتباسات رسمی عدالتوں میں بھی پیش کیے گئے ہیں ۔ صوبہ بہار میں ۶۰۰۰۰(ساٹھ ہزار) سے زائد مقدمات کو ان عدالتوں نے دوستانہ اندا ز میں حل کیا ہے ۔یہ مقدمات ایک سال سے بھی کم مدت میں خارج (فیصل) کر دیے گئے ، پچھلی دہائیوں میں ان عدالتوں میں پیش کیے جانے والے مقدمات کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے ، ان شرعی عدالتوں کے فیصلوں کو نہ کے برابر ہی سول عدالتوں میں چیلنج کیا جا تا ہے ۔بعد میں جا کر اس طرح کی عدالتیں بنگال اور اڈیشہ میں بھی قائم ہوئیں ۔
ماہر سماجیات انندیتا چکرورتی نے لکھنؤ اور کانپور کے دار القضاء (شرعی عدالتوں) کا مطالعہ کیا اور اس نتیجہ پر پہونچیں کہ ۹۵؍ فیصد مسلم عورتوں نے اپنی رضامندی سے ان عدالتوں کا رخ کیا ۔ یہ عورتیں سول اور کرمنل عدالتوں کا استعمال بھی کرتی ہیں ، چکر ورتی اس نتیجے پر بھی پہونچیں کہ زیادہ تر عورتیں اپنے شوہروں سے طلاق لینے کے لیے ان عدالتوں کا رخ کرتی ہیں ۔ الینوس یونیورسٹی کی اسکالر واتوک نے چنئی اور حیدر آباد کی رسمی عدالتوں کا مطالعہ کیا اور ساتھ ہی ان دونوں شہروں کے قاضیوں کے پاس آنے والے مقدمات پر بھی غور کیا ، اپنی کتاب میرج اینڈ اٹس ڈسکونٹینٹس(Marriage and Its Discontents)میں واتوک کہتی ہیں کہ بیشتر مسلم عورتیں رسمی عائلی عدالتوں کے بجائے قاضیوں کی ثالثی اختیار کرنے کو ترجیح دیتی ہیں ۔ ایسی عورتیں زیادہ تر وہ ہیں جو اپنے شوہروں سے طلاق لینا چاہتی ہیں ۔ واتوک اس نتیجے پر پہونچیں کہ ریاست کی عائلی عدالتیں ناقص سہولیات رکھتی ہیں ، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر چہ ۱۹۹۱ء میں مسلم چنئی کی کل آبادی کا صرف ۷ء۸ فیصد تھے ، تاہم ۱۹۸۸ء سے ۱۹۹۷ء کے درمیان کسی بھی سال عائلی عدالتوں میں پیش آنے والے مقدمات میں سے ۴؍ فیصد سے زیادہ مسلمانوں سے متعلق نہیں تھے ۔واتوک یہ بھی کہتی ہیں کہ چنئی کے تقریباًتمام مسلمان مردوں نے ازدواجی حقوق کی بحالی کے لیے عائلی عدالتوں کی ثالثی اختیار کی ۔واتوک نے حیدر آباد میں دو قاضیوں کے ۱۹۹۳ء کے رجسٹروں کا مطالعہ کیا اور اس نتیجہ پر پہونچیں کہ زیادہ تر مقدمات ان عورتوں کے ذریعہ کیے گئے تھے جو اپنے شوہروں سے طلاق چاہتی تھیں ۔ہندوستان کے کچھ حصوں میں عورتوں کے ذریعہ بھی شرعی عدالتیں چل رہی ہیں ، یہاں تک کے بی ایم ایم اے (بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن) بھی شرعی عدالتیں چلاتا ہے۔
۲۰۱۷ء میں ہم نے مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذریعہ ۱۵؍ ریاستوں میں چلائی جانے والی ۷۴؍ شرعی عدالتوں کا مطالعہ کیا ، صوبہ مہاراشٹر میں جہاں ۲۳؍ شرعی عدالتیں قائم ہیں ، سب سے زیادہ ایسی عدالتیں ہیں ، اس کے بعد یو پی کا نمبر آتا ہے ، جہاں ۲۲؍ شرعی عدالتیں ہیں ، ہم نے یہ بھی پایا کہ مردوں کے مقابلہ میں زیادہ تر عورتیں ان عدالتوں سے رجوع کرتی ہیں ۔ زیادہ تر مرد (۴۹؍ فیصد) اپنے ازدواجی حقوق کی بحالی کے لیے ان عدالتوں کی ثالثی اختیار کرتے ہیں ، جب کہ عورتوں کی اکثریت طلاق (۹ء۳۱؍ فیصد) یا خلع(۷ء۲۳؍فیصد) لینے کے لیے ان عدالتوں سے رجوع کرتی ہیں ۔ہم نے یہ بھی پایا کہ یہ عدالتیں کبھی بھی تین طلاق نہیں دلواتیں، وہ ہمیشہ طلاق کے قرآنی طریقہ کو اپناتی ہیں ، ہم نے یہ بھی پایا کہ زیادہ تر مقدمات میں قاضیوں نے زر کفالت کی ادائیگی کو یقینی بنایا ہے ۔ ۸۹؍ فیصد مقدمات میں ہم نے پا یا کہ شرعی عدالتوں کے استعمال کی فیس ۱۰۰۰(ایک ہزار) روپئے سے کم تھی ۔
چنانچہ شرعی عدالتوں کے قیام کے سلسلہ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی تجویز میں کچھ بھی نئی بات نہیں ہے ، بورڈ کی تجویز پر مباحثے کو پولرائزیشن کے لیے ایک چال کے طور پر استعمال نہیں کیا جا نا چاہئے ۔تقریبا ایک سو ایسی عدالتیں کئی دہائیوں سے کام کر رہی ہیں ، یہ عدالتیں غریب عورتوں کو تیز رفتار اور ارزاں انصاف مہیا کرتی ہیں ،کسی کو بھی ان عدالتوں سے رجوع کرنے کے لیے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ ا ن کے فیصلے اجباری نہیں ہیں اور ان کو قانونی تقدس حاصل نہیں ہے ۔تاہم اگر تمام متعلقہ فریق ان کے فیصلوں کو تسلیم کرنا چاہیں تو یہ مکمل طور پر قانونی عمل ہے ۔ کھاپ پنچایت کے بر خلاف یہ عدالتیں کرمنل مقدمات کا تصفیہ نہیں کرتیں اور اپنے فیصلے زبردستی نافذ نہیں کرتیں ۔