دارالعلوم کے فتوے پر واویلا کیوں؟

محمد اللہ قاسمی
شعبۂ انٹرنیٹ ، دارالعلوم دیوبند
آج کل بینک ملازم سے رشتہ سے ممانعت کے سلسلہ میں دارالعلوم دیوبند کا ایک فتوی الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا میں بھی اس مسئلہ پر تبصروں کا بازار گرم ہے۔ خبروں کے مطابق بینک ملازم سے شادی کرنا نا جائز ہے ۔ تعجب خیز بات یہ ہے کہ اس موضوع پر تبصرہ کرنے والوں میں سے شاید کسی نے بھی اصل فتوی کو نہیں دیکھا یا اگر دیکھا تو اس کی غلط تشریح و تعبیر کی۔
دارالعلوم دیوبند کے دارالافتاء سے جاری ہونے والے اس فتوی میں ایک نوجوان نے پوچھا تھا کہ میرے پاس کئی رشتے ہیں ، ایک رشتہ بینک ملازم کی لڑکی کا ہے کیا مجھے یہ رشتہ قبول کرنا چاہیے؟ جواب میں مفتی صاحب کی طرف سے یہ لکھا گیا کہ ایسے گھرانہ میں شادی کرنا قابل احتراز ہے قابل ترجیح نہیں ہے، بلکہ کسی نیک گھرانہ میں شادی کرنا چاہیے۔ اس فتوی میں سوال کرنے والے کو مشورہ دیا گیا ہے اور کہیں بھی شادی کرنے کو حرام نہیں کہا گیا۔ دارالافتاء کی ویب سائٹ پر موجود دیگر فتاوی میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ بینک ملازم کی بیٹی سے شادی کرنا جائز ہے۔
نہ معلوم ہماری میڈیا بلکہ ہم سب کو یہ بات کیوں سمجھ میں نہیں آتی کہ فتوی کا اولین مخاطب اس کا مستفتی ہوتا ہے جو اس مسئلہ میں شرعی حکم جاننا چاہتا ہے اور قرآن وحدیث کی روشنی میں مفتی سے رہ نمائی حاصل کرتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ فتوی حنفی اور دیوبندی مسلمانوں کے لیے ہوسکتا ہے، وہ بھی ان کے لیے جو اس پر عمل کرنا چاہتے ہوں۔ظاہر ہے کہ دارالعلوم دیوبند ایک مسلم ادارہ ہے اور مسلمانوں میں بھی اہل سنت والجماعت اور ان میں بھی فقہ حنفی کا ماننے والا ہے ۔ دارالعلوم کے دارالافتاء سے اگر کوئی شافعی اور دیگر فقہ کے ماننے والا کوئی سوال کرتا ہے تو اس کو جواب نہیں دیا جاتا بلکہ اس کو اپنے علماء سے رابطہ کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ فقہ حنفی کے ماننے والوں میں بریلوی جماعت بھی ہے، وہ اپنے علماء کے فتووں پر عمل کرنے میں آزاد ہیں۔ کسی شیعہ رافضی یا دیگر فرقے کے لوگوں کو بھی دارالعلوم دیوبند کے اس فتوے سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے کیوںکہ وہ اس کے مخاطب ہی نہیں ہیں۔ رہ گئے ہندو برادران وطن جن میں اکثریت میڈیا کے افراد اور ٹی وی چینلوں کے اینکروں کی ہے ، اگر دارالعلوم دیوبند قرآن و حدیث کی روشنی میں کوئی حکم اپنے ماننے والوں کو بتاتا ہے تو ان کے پیٹ میں درد ہونے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔
دوسری بات یہ ہے کہ دارالعلوم دیوبند یہ فتوی صرف متعلقہ شخص کو بھیجتا ہے یا ان مسلمانوں کے لیے ویب سائٹ پر شائع کرتا ہے جو اس پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ تو میڈیا میں موجود کچھ شرپسند عناصر کی خباثت ہے کہ وہ ایک خاص مسئلہ کو سیاق و سباق کے بغیر بلکہ غلط تشریح و تعبیر کے ساتھ شائع کرتے ہیں۔
ایک دوسری غلطی جو بہت سے پڑھے لکھے مسلمان بھی کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ اسلام میں احکام و مسائل کی جو درجہ بندی ہے اس کو سمجھ نہیں پاتے۔ شریعت اسلامی میں احکام میں سب سے پہلا درجہ فرض کا ہے، دوسرا درجہ واجب کا ہے ، تیسرا درجہ سنت اور مستحب کا ہے اور چوتھا درجہ جائز کا ہے۔ اسی طرح اس کے بالمقابل امور منہیہ میں پہلا درجہ حرام اور ناجائز کا ہے، دوسرا درجہ مکروہ کا ہے اور تیسرا درجہ جائز کا ہے۔ ہماری پریشانی یہ ہے کہ میڈیا کے زیر اثر ہر فتوے کو حکم اور فرمان سمجھ لیا جاتا ہے اور فتوے کو اس کے حقیقی دائرہ میں سمجھنے میں کوشش نہیں کی جاتی۔
سوشل میڈیا کے مباحثوں سے یہ محسوس ہوا کہ بہت سے لوگ اس مسئلہ کو کما حقہ سمجھ نہیں رہے ہیں یا اس افراط و تفریط اور خلط مبحث کر رہے ہیں۔ اگر کوئی شخص اس فتوی کو سمجھنا چاہتا ہے تو اس کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام میں سود کی حرمت بالکل واضح ہے۔ قرآن کریم کی معتدد آیات اور بے شمار احادیث میں سود کی شناعت بیان کی گئی ہے۔ قرآن کریم میں سود سے باز نہ آنے والے کے لیے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلان جنگ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود لینے والے، سود دینے والے، سود لکھنے والے اور اس پر گواہی دینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ لہٰذا ، سود لینا یا دینا، یا سود کا لکھنا اور اس پر گواہ بننا جائز نہیں۔ اسی نقطۂ نظر سے بینک میں نوکری کرنا منع ہے کیوں کہ بینک ملازم ہونے کی وجہ سے سودی کاموں میں عموماً براہ راست تعاون کرنا ہی پڑتا ہوگا ؛ لیکن اگر بینک میں کسی کے ذمہ ایسے کام ہیں جن میں درج بالا امور نہ کرنے پڑتے ہوں تو اس صورت میں اس کے لیے بینک میں ملازمت منع نہیں ہوگی، بلکہ جائز ہوگی۔
اس سلسلہ میں یہ بات جاننے کی ہے کہ جس درجہ سودی کام میں تعاون ہوگا اسی حدتک اس کی تنخواہ حرام ہوگی، پوری تنخواہ پر حرام ہونے کا حکم نہیں لگے گا۔ اس صورت میں اس کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ ملازمت پر برقرار رہتے ہوئے دوسری جائز ملازمت یا روزگار تلاش کرے اور اس دوران توبہ و استغفار کرتا رہے۔ یہ تو محض اس لیے ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آدمی ملازمت چھوڑنے کے بعد بالکل معاشی تنگی میں آجائے پھر وہ خدانخواستہ اس سے بھی زیادہ حرام کام کا ارتکاب کرڈالے یا خدا سے بدظن ہوکر شرک یا کفر میں مبتلا ہوجائے۔ نیز، اس کو چاہیے کہ حرام کام کی جو اجرت اس کو حاصل ہوئی ہو اس کو اپنی ملکیت سے نکالنے کی نیت سے کسی غریب و محتاج کو دیدے۔
بعض لوگوں کو یہ اشکال ہے کہ بینک سے حاصل ہونے والا سود قرآن میں منع کیے گئے ربا سے الگ چیز ہے اور حرام نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں معلوم ہونا چاہیے کہ بینک کے سود کے حرام ہونے کے سلسلہ میں عالم اسلام کے علماء و مفتیان کرام اور فقہی ادارے (جیسے اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا، انٹرنیشنل المجمع الفقہ الاسلامی) سب متفق ہیں۔
بعض احباب کا اشکال ہے کہ بینک میں پیسہ جمع کرنا بھی تعاون ہے؛ لہٰذا بینک میں کھاتہ کھولنا بھی ناجائز اور حرام ہونا چاہیے۔ اس سلسلہ میں عرض یہ ہے کہ شریعت اسلامیہ کی روشنی میں پیسہ کو بغرض حفاظت بینک میں رکھنا جائز ہے ، اس میں کوئی حرج نہیں؛ البتہ اس میں جو سود حاصل ہو وہ اپنے ذاتی استعمال میں نہ لاکر غریب و مسکین کو صدقہ کردیا جائے یا انکم ٹیکس وغیرہ میں بھی دیا جا سکتا ہے۔ بینک میں رقم جمع کرنے سے سودی عمل میں براہ راست تعاون نہیں ہوتا ہے ؛ اس لیے یہ بنیادی طور پر جائز ہے۔
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بینک یا حکومت جو رقم کسی ملازم کو تنخواہ میں دیتی ہے وہ رقم سود وغیرہ حرام ذرائع سے حاصل ہوتی ہے، لہٰذا اس تنخواہ کا لینا جائز ہوگا یا نہیں؟ اس سلسلہ میں شرعی مسئلہ یہ ہے کہ ملازم کے ذمہ جو کام ہیں اس کی بنیاد پر اس کی تنخواہ کے حلال یا حرام ہونے کا حکم ہوگا۔ اگر کوئی مسلمان ملازم سودی کام میں براہ راست تعاون کرتا ہے یا مثلاً شراب فروخت کرتا ہے تو اس کی تنخواہ حرام ہوگی۔ لیکن اگر کوئی ملازم جائز امور انجام دیتا ہے تو کمپنی یا حکومت کی طرف سے ملنے والی تنخواہ حلال ہوگی خواہ کمپنی یا حکومت کا ذریعۂ آدمی کچھ بھی ہو۔
اس سلسلہ میں ایک نہایت اہم بات یہ ہے کہ اسلام میں کمائی کے حلال اور جائز ہونے کی بڑی تاکید آئی ہے اور حرام کمائی سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ قرآن کریم کی متعدد آیات اور بے شمار احادیث میں حرام مال کھانے کی شناعت بیان کی گئی ہے۔ حرام مال کھانے کے نقصانات دنیا اور آخرت میں بہت زیادہ ہیں؛ اس لیے ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ حلال مال کمائے اور حرام مال سے اجتناب کرے۔
اوپر ذکر کردہ تفصیلات کی روشنی میں یہ واضح ہوجاتا ہے کہ بینک ملازم سے نکاح کرنے کا مسئلہ بھی بالکل واضح ہوجاتا ہے۔ بنیادی طور پر بینک ملازم سے نکاح کرنا جائز ہے ، لیکن اسلام نے نکاح کے سلسلہ میں دینداری کو ترجیح دینے کی تعلیم دی ہے؛ اسی لیے فتوی میں بطور مشورہ یہ لکھا گیا کہ بینک ملازم سے رشتہ نہ کرنا زیادہ بہتر ہے ۔ اس فتوی میں یہ قطعاً نہیں کہا گیا ہے کہ رشتہ کرنا حرام ہے یا کسی بینک ملازم سے ہونے والی شادی حرام ہے۔ فتوی اصولی طور پر صوف سوال پوچھنے والے کے حالات کو مدنظر رکھ کر دیا گیا شرعی مسئلہ ہے ، جس مسلمان کوشریعت پر عمل کرنا اور اللہ و رسول کی خوشنودی مطلوب ہے وہ اس پر عمل کرے گا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*