دارالعلوم کی خدمات ناقابل فراموش

ملیشیاکے علماکے وفدنے دارالعلوم دیوبند کامعاینہ کیا
دیوبند:16؍ جنوری (سمیر چودھری؍قندیل نیوز)
ملیشیاء کے ممتاز علماء کے ایک وفد نے آج دارالعلوم دیوبند پہنچ کر ذمہ داران سے ملاقات اور کہا کہ دارالعلوم کی خدمت سنہرے الفاظ سے لکھنے کے لائق ہے، دارالعلوم دیوبند اسلام کو اس کی اصل شکل میں پیش کرکے پوری دنیا کے مسلمانوں کی رہنمائی کررہا ہے ۔ اسلامی ملک ملیشیاء میں واقع دارالعلوم ملیشیا کے مہتمم مولانا عبدالہادی کی قیادت میں دیوبند پہنچے ملیشیائی علماء کی6رکنی وفد نے دارالعلوم کے مہمان خانہ میں ادارے کے ذمہ داران سے ملاقات کی ۔ انہوں نے کہا کہ دارالعلوم دیوبند دین کا گہوارہ ہے ، ان کے ملک سمیت دنیا کے دیگر مسلم ممالک میں دیوبندی مکتبہ فکر کے مدارس دارالعلوم دیوبند کے طرز پر ہی چل رہے ہیں اور وہ دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دارالعلوم اسلام کو اصل شکل میں پیش کرکے پوری دنیا کے مسلمانوں کی رہنمائی کررہا ہے ۔ دارالعلوم صرف اسلامی تعلیمات کی نشر واشاعت ہی نہیں کررہا ہے بلکہ اپنے فتوؤں کے ذریعہ ملک اور بیرون ملک کے مسلمانوں کے دینی مسائل کو بھی حل کررہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے لئے دارالعلوم اور یہاں کے اکابر کی جو قربانیاں ہیں وہ سنہرے الفاظ سے لکھنے کے قابل ہیں۔ انہیںیہاں آکر بڑی خوشی ہوئی اور وہ ہمیشہ آنے کی تمنا رکھتے تھے جو آج پوری ہوئی ہے، یہاں کا نظام دیکھ کر بھی بڑی مسرت ہوئی ہے ۔ مدارس اسلامیہ مذہب اسلام کے قلعے ہیں ، اس دوران ادارے کے نائب مہتمم مولانا عبدالخالق مدراسی اور نائب مہتمم مولانا عبدالخالق سنبھلی نے ملیشیائی علماء کا خیر مقدم کرتے ہوئے ادارے میں دی جانے والی تعلیم اور تربیت کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی اور علماء سے کہاکہ تحفظ دین مدارس کا بنیادی مقصد ہے ،اس مقصد پر نظر رہنی چاہئے ،ہمارا منشا مدارس کے ذریعہ دنیا کمانا نہیں بلکہ فروغ دین ہے ،مدارس اگر فروغ دین کا فریضہ انجام دیتے رہیں گے تو ان کا مستقبل بھی محفوظ ہے۔ بعد ازاں وفد نے مسجد رشید ، دارالعلوم کی لائبریری میں رکھی نایاب کتابیں ، ادارے کی تاریخی عمارتوں کا بھی معائنہ کیا،وفدمیں مولانا عبدالہادی کے علاوہ محمد اشرف، لقمان اسماعیل، عمر صدیقی، محمد ذوالماجدی ، یوحادی شامل رہے۔