Home قومی خبریں جنگ آزادی میں دارالعلوم دیوبند کا اہم کردار

جنگ آزادی میں دارالعلوم دیوبند کا اہم کردار

by قندیل

بی جے پی ترجمان کے ذریعہ دارالعلوم دیوبند کو دقیانوسی ادارہ بتائے جانے پر علماء کا سخت رد عمل 
دیوبند،6؍جنوری(سمیر چودھری ؍قندیل نیوز)
ممتاز دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کے فتوؤں کے خلاف اب بی جے پی میدان میںآگئی، بی جے پی کی ریاستی ترجمان راکیش ترپاٹھی نے دارالعلوم دیوبند کو دقیانوس سوچ والا ادارہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ دارالعلوم دیوبند ملک کا ایک اہم تعلیمی ادارہ ہے جس کی ذمہ داری سماج میں تعلیمی اندھیرا دور کرنے کی ہے لیکن وہ مسلم معاشرہ کو مزید اندھیرے دھکیل رہاہے۔بی جے پی ترجمان کے اس بیان پر علماء نے اپنے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے اور اس کو چھوٹی سوچ قرار دیتے ہوئے اسلام ایک آسمانی قدیم مذہب ہے جس میں زمانے کی سہولیات کے مطابق ہر حکمت عملی شامل ہے۔

اس سلسلہ میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہاکہ کوئی سیاسی جماعت دارالعلوم دیوبند کے تئیں کیا نظریہ رکھتی ہے اس پر وہ کچھ نہیں کہے گیں ،انہوں نے کہاکہ فتویٰ قرآن وحدیث کی روشنی میں دیئے جاتے ہیں اور ادارہ اس کام کو قرآن وحدیث کی روشنی میں کرتا رہے گا۔

ماہنامہ ترجمان دیوبند کے مدیر اعلیٰ مولانا ندیم الواجدی نے نے کہاکہ دارالعلوم دیوبند اور مسلمانوں کے دیگر مذہبی اداروں پر دقیانوسیت کے الزامات کئی نئی بات نہیں ہے ،بلکہ ہمیشہ سے ان اداروں کو رجعت پسند،قدامت پسند جیسے الفاظ سے یاد کیا جاتاہے، لیکن ہمیں اس پر براماننے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم اپنے آپ کو ایک ایسے مذہب سے جڑا ہوا مانتے ہیں جو چودہ سوسال پراناہے،اسلئے اگر ہم پر کوئی دقیانوسیت کا الزام لگاتاہے تو اس میں بر ائی کی کوئی بات نہیں بلکہ ہمیں اس پر فخر ہے کہ ہم ایک قدیم آسمانی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ہم یہ بھی واضح کردیناچاہتے ہیں کہ اسلام کی کوئی بھی تعلیم ایسی نہیں ہے جس میں زمانے کے تقاضوں کو نظر انداز کیا گیا ہو،بلکہ اس کی ہر تعلیم زمانے کے عین مطابق ہے،جس میں سہولت اور حکمت پوشیدہ ہے۔

You may also like

Leave a Comment