دارالحکومت دہلی میں آٹھ سالہ طالب علم کے قتل کی لرزہ خیز واردات

نئی دہلی۔ ۲۵؍اکتوبر: دہلی کے مالویہ نگر بیگم پور میں قائم مدرسہ جامعہ فریدیہ کے ایک طالب علم محمد عظیم ولد محمد خلیل کو شرپسندوں نے اس وقت پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا جب وہ مدرسے کے احاطے میں کھیل رہا تھا۔ اطلاع کے مطابق مدرسے میں جمعرات کی وجہ سے چھٹی چل رہی تھی کچھ بچے باہر گئے ہوئے تھے اور کچھ بچے احاطے میں کھیل رہے تھے تقریباً دو بجے کے قریب احاطے میں بالمیکی کیمپ میں رہنے والے کچھ شرپسند بچے آئے اور انہوں نے پہلے وہاں پر کھیل رہے بچوں پر کنکریاں پھینکیں، اس کے بعدایک نوجوان آگے آیا اور محمد عظیم کو اٹھا کر پاس کھڑی بائیک پر پے درپے پٹخنے لگا جس سے وہ بے ہوش ہوگیا اور اس کی آواز بند ہوگئی۔ پھر مدرسے کے بچے بھاگتے ہوئے گئے اور انتظامیہ کو آگاہ کیا اور عظیم کو اسپتال لے جایاگیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے داخل کرنے سے قبل ہی مردہ قرار دیا۔ مدرسے میں پڑھ رہے ایک بچے نے بتایا کہ یہ کوئی پہلا معاملہ نہیں ہے شرپسند بچے ہمیشہ ایسی حرکتیں کرتے رہتے ہیں لیکن آج پہلی بار کسی کی جان گئی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ یہ لوگ شراب پی کر مدرسے میں بوتلیں پھینک دیتے ہیں، عین جمعہ کے وقت پٹاخے پھوڑتے ہیں، سور کے گوشت تک مدرسے کے احاطے میں پھینکتے ہیں لیکن ہم لوگ خاموش رہتے ہیں کہ اپنے ہی بھائی ہیں معاملہ رفع دفع کردیتے ہیں تاکہ فساد نہ ہو لیکن آج ان لوگوں نے ہماری شرافت کا بدلہ معصوم بچے کی جان لے کر دیا۔ مدرسے میں بچوں کے نگراں ممتاز عالم نے کہا کہ کچھ لوگ ہیں جو بچوں کے ذریعے شرپسندی کرواتے ہیں تاکہ بچوں پر کیس بنے بڑے اس سے بری رہیں۔ انہوں نے کہا ہم کئی بار اس کی شکایت پولس میں کرچکے ہیں لیکن پولس اس جانب کوئی توجہ نہیں دیتی او رنہ ہی کارروائی کرتی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ جب یہ حادثہ رونما ہوا تو محلے کی دبنگ خاتون جس نام سروج ہے وہ دھمکی اور نفرت بھرے انداز میں کہہ کر گئی ہے کہ ابھی ایک مرا ہے آگے تم دیکھو ہم کیا کیا کریں گے۔ مدرسے کے مہتمم نے کہاکہ ہم ۱۹۸۸ سے قبل سے یہ مدرسہ یہاں پر چلا رہے ہیں کچھ لوگ مذہبی عصبیت کی بنیاد پر مسجد مدرسے کو ختم کرناچاہتے ہیں بچوں کو پیٹتے ہیں، پتھرائو کرتے ہیں، شراب کی بوتلیں پھینکتے ہیں ۔ انہوں نے بتایاکہ حملہ آور دو بچوں کو ہم نے پکڑ لیا تھا لیکن دبنگ خاتون دونوں کو چھڑا کر لے گئی۔ انہوں نے بتایا کہ پولس یہاں آئی تھی ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ ان شرپسندوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے تاکہ دوبارہ ایسی واردات رونما نہ ہو۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عظیم کو انصاف اسی وقت مل سکتا ہے جب اس کے قاتل پھانسی کے پھندے پر لٹکائے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ بچوں پر گرفت تو ہو ہی ساتھ ہی ان کے اہل خانہ پر بھی کارروائی ہو کیوں کہ بڑے ہی اپنے بچوں کو شرپسندبنارہے ہیں اور ان سے یہ سب کام کرواتے ہیں تاکہ چھوٹے بچوں پر مقدمہ ہواور ہلکا مقدمہ قائم ہو اور ہم آزاد رہیں۔ تادم تحریر پولس اپنی کارروائی میں مصروف ہے اس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جلد از جلد ملزمین کو کیفر کردار تک پہنچایاجائے گا۔