حیدرآباد میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے چھبیسویں اجلاس کا آغاز

مسجدکی زمین اللہ کی ملکیت ہوتی ہے نہ اسے بیچاجاسکتاہے اورنہ کسی کوہدیہ کیاجاسکتاہے
آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈ کاسہ روزہ چھبیسواں اجلاس حیدرآبادمیں شروع
اجلاس کی پہلی نشست کاآغازمجلس عاملہ کی اہم میٹنگ سے ہوا
مجلس عاملہ کی میٹنگ میں طلاق ثلاثہ اوربابری مسجدملکیت کامعاملہ چھایارہا
بورڈ نے مولاناسلمان ندوی کے موقف کی سختی سے تردیدکی۔
مولاناسلمان ندوی کے بیان کاجائزہ لینے کے لئے چارارکان پرمشتمل ایک کورکمیٹی کی تشکیل

حیدرآباد،9/فروری:(قندیل نیوز ) ہندوستانی مسلمانوں کے متحدہ پلیٹ فارم آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا سہ روزہ اجلاس حیدرآباد میں شروع ہوچکا ہے۔ـ سہ روزہ اجلاس کی پہلی کڑی کے طورپرعاملہ کی میٹنگ بعد نماز مغرب اویسی ہاسپیٹل کنچن باغ حیدآباد میں مولانا رابع حسنی ندوی کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں مولانا ولی رحمانی (جنرل سکریٹری بورڈ) مولانا سید ارشدمدنی رکن عاملہ بورڈ، ترجمان بورڈ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا خلیل الرحمان سجاد نعمانی،سکریٹری مولانا عمرین محفوظ رحمانی،اجلاس کے میزبان اوررکن عاملہ بورڈ بیرسٹر اسدالدین اویسی، ڈاکٹر ظہیرقاضی اور دیگر عاملہ کے اراکین شریک ہوئے۔ـ اجلاس تلاوت کلام اللہ سے شروع ہوا تلاوت کلام اللہ کے بعد بورڈ کی مجلس عاملہ منعقدہ ۱۰ستمبر ۲۰۱۷ کے بعد سے اب تک کی کارکردگی جنرل سکریٹری نے پیش کی۔ ـ اس اجلاس میں طلاقہ ثلاثہ بل پر پارلیمنٹ کی کارروائی پر غوروفکر کیا گیا اوربورڈ نے اس بات کااعادہ کیاکہ طلاق ثلاثہ بل ہراعتبارسے غیرشرعی اورغیردستوری ہےاوربذات خودیہ عورتوں کے حق میں انتہائی نقصان دہ ہے ،پارلیمنٹ میں اس کاپاس ہونادستورکے منافی ہے۔بورڈ کی پوری کوشش ہے کہ یہ بل راجیہ سبھاسے پاس نہ ہوسکے اوراس سلسلہ میں بورڈ نے موثراقدامات بھی اٹھائے ہیں۔بورڈ نے زوردے کرکہاکہ بورڈ شروع دن سے ملک کی تمام سیکولرپارٹیوں سے رابطہ کرکے اس بل کی مخالفت کاماحول بنارہاہے اوربورڈ اس میں کامیاب بھی ہے۔وہیں اس موقع پربابری مسجدزمین ملکیت کے سلسلہ میں بورڈ کے عاملہ کے رکن مولاناسیدسلمان حسنی ندوی کے متنازعہ بیان پربھی بحث ہوئی جس میں بورڈ نے مولاناسلمان ندوی کے موقف کی سختی سے تردیدکی۔بورڈ نے ایک بارپھرسے اپنے پرانے موقف کااعادہ کرتے ہوئے کہاکہ بورڈ کاہمیشہ سے یہ موقف رہاہے کہ بابری مسجدکی زمین اللہ کی ملکیت ہے اوراللہ کی ملکیت کونہ توکسی سے بیچاجاسکتاہے اورنہ ہی کسی کوہدیہ کیاجاسکتاہے۔مولاناسلمان ندوی کابیان ان کاذاتی بیان ہے ۔بورڈ کااس سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔اس موقع پربورڈ نے مولاناندوی سے بھی کہاکہ آپ کی حیثیت بورڈ کے ایک اہم رکن کی ہے پبلک میں اس طرح کابیان دینابورڈ کے کازکونقصان پہونچاناہے۔غورطلب ہے کہ جب مولاناندوی سے ان کے مبینہ بیان پروضاحت طلب کی گئی توانہوں نے زوردے کرکہاکہ وہ اپنے موقف پرسختی سے قائم ہیں۔اس کے بعدبورڈ نے چارارکان پرمشتمل ایک جانچ کمیٹی تشکیل دی ہے جومولاناندوی کے بیان کاہرپہلوسے جائزہ لے گی اورپھراپنی تفصیلی رپورٹ پیش کرے گی جس کی روشنی میں بورڈ یہ فیصلہ کرے گاکہ مولاناکوبورڈ میں رہناچاہئے یانہیں۔اس موقع پرمختلف معاملات کی عدالت میں سماعتوں پر خرچ ہونے والی رقومات کا جائزہ اور فراہمی مالیات پر تبادلہ خیال کیا گیاـ اصلاح معاشرہ کے سلسلہ میں کی گئی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غوروفکر کیا گیاـ سب سے اہم بات یہ رہی کہ دور حاضر میں سوشل میڈیا کی اہمیت کے پیش نظر اس کے ذریعے بورڈ کی کارکردگی کو عوام الناس تک پہنچانے کے طریقہ کار پر بھی غور کیا گیاـ اس میٹنگ کا اختتام صدر بورڈ مولانا سید رابع حسنی ندوی کے صدارتی خطاب پر عمل میں آیا۔ ـ اس سہ روزہ اجلاس کی دوسری کڑی کل ۱۰فروری بروز سنیچر منعقد ہوگی جس میں اصلاح معاشرہ، دارلقضا،تفہیم شریعت کمیٹی اور بابری مسجد کمیٹی وغیرہ کی رپورٹ پیش کی جائے گی ـ۔