حیدرآبادلٹریری فیسٹیول اختتام پذیر


مجلسِ مذاکر، نمائش اور شعری نشست کا انعقاد،کثیرتعداد میں دشائقینِ ادب کی شرکت،کتابوں کی ریکارڈ فروخت
حیدرآباد(محسن خان) لٹریری فیسٹیول کے آخری دن تلنگانہ ٹورازم پویلین اور کاروی پویلین میں مختلف موضوعات پرمذاکرے منعقدہوئے۔ اردوکی نمائندگی پروفیسر بیگ احساس نے کی۔ انہوں نے ’’لٹریری کلچر آ ف تلنگانہ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ مذاکرے میں حصہ لیا۔ اس مذاکرے کی خصوصیت یہ تھی کہ تینوں فن کار ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ تھے۔ لوسی مارگریٹ ( ساہتیہ اکاد می یواپُرسکار)پروفیسر بیگ احساس (ساہتیہ اکادمی یواپُرسکار) اور اشوک تُنکا سالہ (ساہتیہ اکادمی ایوارڈبرائے ترجمہ) نے گفتگو کی۔ لوسی مارگریٹ نے اپنی شاعری کے بارے میں بتایاکہ وہ ایک کرسچن ہیں،کرسچنوں میں بھی دلتوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں ایک دلت لڑکی کے دکھ کااظہار کیاہے۔ پروفیسر بیگ احساس نے کہاکہ انہوں نے اپنے افسانوں میں حیدرآباد کی ملی جلی تہذیب کے ختم ہوجانے کے المیے کوپیش کیاہے۔ انہوں نے کہاکہ شاہی دور میں بہت سی خرابیاں تھیں لیکن رواداری تھی۔ یہاں کے محلوں کے نام،زبان اور عمارتوں میں یہ مشترکہ تہذیب صاف دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے اپنی ایک کہانی کے حوالے سے کہاکہ ہندومسلم مشترکہ بستیاں ختم ہوتی جارہی ہیں۔ مسلمانوں کوپاکستان چلے جانے کے لیے کہاجاتا ہے۔ جن لوگوں نے اپنے ملک میں رہنے کوترجیح دی، وہ کسی او رملک کوکیوں جائیں۔ انہوں نے تلنگانہ تہذیب کی مثالیں پیش کیں ،جس کی سامعین نے گرم جوشی سے تائید کی۔ اشوک تنکاسالہ نے کہاکہ انہوں نے تیلگولٹریچر اور تہذیب کو ترجمے کے ذریعے پوری دنیا تک پہنچانے کا کام کیا۔ تلگوادب کے کئی شاہکارکا انہوں نے انگریزی اور دوسری مغربی زبانوں میں ترجمہ کیے۔ سامعین نے مختلف سوالات کیے۔ پروفیسر وجئے کمار نے نظامت کے فرائض عمدگی سے انجام دیے اور تینوں فن کاروں کاتعارف پیش کیا۔ مشہور اداکارہ شبانہ اعظمی نے مذاکرہ ’’کاروانِ کیفی‘‘ میں حصہ لیا اورکیفی اعظمی کی زندگی کے مختلف واقعات بیان کیے۔ سامعین کے اصرار پرانہوں نے اردو میں گفتگو کی اور مذاکرے کے آخر میں ایلاارون کے ساتھ سرور ڈنڈا کی دکنی نظم ترنم سے پیش کی۔ انیتادیسائی نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ شبانہ اعظمی نے پروگرام ’’کاویہ دھارا‘‘ میں بھی حصہ لیا۔ ’’کاویہ دھارا‘‘ کے سارے عنوان اردو۔ہندی میں رکھے گئے ،جیسے شروعات ،جوشِ حیدرآباد ،مدھیہ انتر اور چراغِ حرف وغیرہ ۔مشہورہندی اردوشاعرحسین حیدری کی نظم’’ہندوستانی مسلمان‘‘ کوبے حدپسند کیاگیا ۔ اختتامی تقریب میں ملیکا سارا بھائی نے کہاکہ پانچ مسائل کا انتخاب کیجئے اورانہیں حل کرنے کے لیے اپنے علاقے کے ایم۔ ایل۔ اے سے اصرار کیجئے۔ انہوں نے کہاکہ سوشیل میڈیا سے فوائد توہوئے ؛لیکن انسان حقیقی دنیا سے دور ہوگیا اور اس دنیا کوحقیقی سمجھنے لگا ،جودکھائی جارہی ہے۔ بارش کے باوجود شائقین کی کثیرتعداد نے شرکت کی اور بڑی تعداد میں کتابیں فروخت ہوئیں۔