حق ِ معلومات قانون پر مودی حکومت کی نشتر زنی

عبدالعزیز
حق معلومات قانون (آر ٹی آئی) ہندستان کی پارلیمنٹ کی جانب سے بنایا گیا ایک قانون ہے تاکہ حق معلومات کی عملی حکمرانی قائم ہو سکے۔ یہ سابقہ آزادیِ معلومات قانون، 2002ء کی جگہ لیتا ہے۔ اس قانون کے تحت کوئی بھی شہری کسی ’عوامی ارباب مجاز‘ (حکومت کا ادارہ یا ’ریاست کی عمل آوری‘ /”instrumentality of State”) سے معلومات کی درخواست کر سکتا ہے جس پر یا تو فوری جواب دیا جانا چاہیے یا30 دن کے اندر۔ اس قانون کے تحت ہر عوامی ارباب مجاز کے گوشے کو اپنے ریکارڈ کمپیوٹرائز کرنے چاہیے تاکہ وسیع پیمانے پر معلومات پہنچائی جاسکیں اور تاکہ شہریوں کو کم سے کم جد وجہد کرنی پڑے۔
یہ قانون پارلیمنٹ کی جانب سے 15 جون 2005ء کو پاس ہوا۔ اس کے تحت اولین درخواست پونے پولیس اسٹیشن میں دی گئی تھی۔ ہندستان میں معلومات کا افشا سرکاری رازداری قانون 1923ء (Official Secrets Act 1923) کے تابع تھا اور اس کے علاوہ کئی خصوصی قوانین رائج تھے جو آر ٹی آئی کے تحت مدھم پڑ گئے تھے۔ یہ شہریوں کے ایک بنیادی حق کو باضابطہ بناتا ہے۔
It is an act to provide for setting out the practical regime of right to information for citizens to secure access to information under the control of public authorities, in order to promote transparency and accountability in the working of every public authority, the constitution of a Central Information Commission and State Information Commissions and for matters connected therewith or incidental thereto.
2005ء میں جب منموہن سنگھ وزیر اعظم تھے آر ٹی آئی قانون بنا تھا اور اسی سال اس کا نفاذ بھی ہوا تھا۔ اس قانون کی موجودگی میں شفافیت (Transparancy) بہت حد تک آئی تھی۔ عام آدمی آسانی سے سرکاری محکموں میں درخواست دے کر 30دنوں میں متعلقہ معلومات حاصل کرلیتا تھا۔ اب مودی حکومت اس قانون کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ قانون مسلسل کوشش اور جدوجہد کے بعد بنا تھا۔کافی غور و فکر کے بعد پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا اور بحث و مباحثہ کے بعد دونوں ایوانوں میں پاس کیا گیا تھا۔
مشہور سماجی کارکن ارونا رائے نے اس کیلئے کافی جدوجہد کی تھی۔ اب جبکہ بی جے پی اس قانون کے پر کو کترنا چاہتی ہے تو وہ بہت ہی معترض و متفکر ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ مودی حکومت کا یہ قدم غیر جمہوری اور غیر انسانی ہے۔ اس قانون کے بارے میں انھوں نے کہاکہ یہ قانون پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں بہت باریکی سے غور و فکر کیا گیا تھا اور منظور کیا گیا تھا کہ انفارمیشن کمیشن کا بھی ملک کے چیف کمشنر کے برابر درجہ دیا جانا چاہئے۔ لیکن مودی حکومت نہ صرف مرکزی انفارمیشن کمیشن کے کمشنر کی تنخواہ، بھتہ اور سروس شرائط اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے بلکہ مختلف ریاستوں کے انفارمیشن کمشنر کی مدتِ کار، تنخواہ، بھتہ اور سروس شرائط بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔ جس سے حکومت کی کھوٹ پورے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ انھوں نے کہاکہ یہ قانون لوک سبھا میں لمبی بحث اور صلاح و مشورے کے بعد پاس ہوا تھ۔ موجودہ حکومت کی نئی تبدیلی آرٹی آئی کو بیحد کمزور کرنے والی ہے۔
محترمہ سونیا گاندھی نے جو آر ٹی آئی قانون کے بنانے میں کافی سرگرمی سے حصہ لیا تھا کہا ہے کہ حکومت جس طرح ہر سرکاری اداروں میں مداخلت کر رہی ہے اور اس سے اداروں کی خود مختاری پر شب خوں مار رہی ہے۔ اسی طرح انفارمیشن کمیشن کے کمشنر اور ریاستی کمشنروں پر آر ٹی آئی قانون میں ترمیم کرکے شب خوں مارنے کی کوشش میں ہے۔ آر ٹی آئی میں ترمیم کا بل لوک سبھا میں پاس ہوگیا ہے۔ راجیہ سبھا میں پاس ہونا باقی ہے۔ لوک سبھا میں اپوزیشن کی ساری پارٹیوں نے ترمیم کی مخالفت کی تھی۔ اب راجیہ سبھا میں یہ ترمیمی بل مباحثے کیلئے پیش کیا جائے گا۔ حکومت جس طرح اپوزیشن کی بعض پارٹیوں کو رام کرنے میں مہارت رکھتی ہے اس سے بہت کم چانس ہے کہ مودی حکومت بل پاس کرانے میں کامیاب نہ ہو۔ آندھرا پردیش کی جگن ریڈی کی پارٹی، تلنگانہ کی چندر شیکھر کی پارٹی اور اڑیسہ کی نوین پٹنائک کی پارٹی بی جے ڈی کا جھکاؤ بی جے پی کی طرف ہوتا رہتا ہے۔
راجیہ سبھا میں بھی یہ پارٹیاں حمایت کے ذریعے یا واک آؤٹ کے ذریعے ترمیمی بل کو پاس کراسکتی ہیں۔ آر ٹی آئی قانون کو کمزور کرنے کا مقصد جمہوریت کو کمزور کرنا اور موجودہ مودی حکومت کو مضبوط کرنا ہے۔ در اصل جس قدر جمہوریت کمزور ہوگی اسی قدر آمریت مضبوط سے مضبوط تر ہوگی۔ نریندر مودی ہر لحاظ سے آمریت کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ جو ملک، دستور اور سیاسی نظام کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے۔ کانگریس مکت بھارت یا اپوزیشن مکت بھارت کا منصوبہ بھی آہستہ آہستہ کامیاب ہورہا ہے۔ ایک پارٹی سسٹم میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ہوگی۔ بی جے پی یا آر ایس ایس ملک میں ایک جماعتی نظام کا قیام عمل میں لانا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جتنے خود مختار ادارے ہیں ان کے پر کاٹنے کی کوشش ہورہی ہے۔ آر ٹی آئی قانون میں ترمیم اسی کا ساخشانہ ہے۔

E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068