حرم رسوا ہوا پیرِ حرم کی کم نگاہی سے

احمد کمال فریدی
سچ پوچھئے تو مولانا سلمان ندوی پر بابری مسجد کے بدلےجو ایک’خطیر رقم ‘ پارلیامنٹ کی رکنیت اور دوسو ایکڑ زمین طلب کرنے کا جو الزام لگا ہے اس پر ہمیں بالکل یقین نہیں آیا ہے،مگر ہمارے یقین نہ کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے،جس نے الزام لگایا ہے امرناتھ مشراوہ اب بھی اس پر قائم ہے،امام کونسل کے کسی سکریٹری حاجی مسرور کی گواہی بھی الزام لگانے والا پیش کرچکاہے ( سنا ہے اب یہ صاحب اپنے بیان سے پلٹ گئے ہیں)مشرا نےلکھنو کے حضرت گنج تھانے میں مولانا کے خلاف رشوت مانگنے کی شکایت بھی درج کرادی ہے،
دوسری طرف مولانا اپنی بے گناہی کاصرف زبانی دعوی کررہے ہیں،الزام لگانے والے کے حق میں بد دعائیں کررہے ہیں، جن لوگوں نے مولانا کاوضحاتی بیان دیکھا ہے وہ اس کی شہادت دیں گے کہ اس بیان میں خلاف معمول مولانا کی نگاہیں جھکی ہوئی ہیں،مولانا کے وہ جارحانہ تیور،زبان کی وہ تیغِ خارا شگاف جس کے جلوے بورڈ کی عاملہ میں دکھائی دے رہے تھے، اس کی چمک اس بار غائب ہے ـ
مولانا فرمارہے تھے کہ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ اس الزام لگانے والے کو دنیا وآخرت میں لوگوں کے لئےعبرت کا باعث بنا دے، اوربھی کئی بددعائیں تھیں ( داعیانہ اسلوب کا دعوی کرنے والے کی زبان سے ایسی بددعائیں سن کر بے حد تعجب بھی ہورہا تھا)
یہ ناچیز قبلہ مولانا سے عرض کرنا چاہتا ہے کہ اللہ تعالی کے یہاں مکافات عمل کا اپنا نظام ہے،جناب اپنےطرز عمل پربھی نظر ڈال لیں،بورڈ کی میٹنگ میں حضرت مولانا رابع صاحب، حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب، حضرت مولانا ولی رحمانی صاحب،حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب جیسے ذی علم،بزرگ، صاحب نسبت، زاہد شب زندہ دار علما اور دانشوران کے سامنے آپ کی بلند آواز میں بے ادبی کی حد تک بے باک گفتگو،اس پر ان بزرگوں کا صبر وضبط، لجاجت سے سمجھانے کی کوشش اور آنجناب کا وہی سرکش رویہ جس سے مجبور ہوکر کچھ ممبران کو آپ سے تیز گفتگو کرنی پڑی،ممکن ہے ان ممبران نے آپ کا وہ ویڈیو دیکھ رکھاہو جس میں جناب حدیث کی روشنی میں اپنے مریدین کو ماں بہن کی گالیاں دینے پر اُکسا رہے ہیں،خدا نخواستہ جناب وہاں بھی اپنااجتہادی عمل فرمانے لگتے تو کوئی آپ کا کیا بگاڑ لیتاـ
آپ کے ساتھ آپ کے نئے ہم نشینوں نے جو یہ سلوک کیا ہے ممکن ہے وہ بھی اسی مکافات عمل کا حصہ ہو، اگر الزام غلط ہوگا تو لگانےوالے کو بھی دنیا وآخرت میں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا ـ
دو صفحے کا ایک مضمون دیکھا گیا جس کے بارے میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مولانا کا رجوع نامہ ہے، حالانکہ یہ مضمون کسی لیٹرہیڈ پر نہیں ہے،اگر یہ واقعی مولانا ہی کی جانب سے ہے تو احقر اس کو ” عذر گناہ بدتر از گناہ ” کے قببل سے سمجھتا ہے،اس متضاد تحریر میں اپنے کسی طرز عمل پر ندامت کے بجائے ایک طرف اپنے موقف پر قائم رہنے کی بات کی گئی ہے، دوسری طرف ۱۴ مارچ کو عدالت کے فیصلے کا انتظار بھی کرنے کوکہا گیا ہے ( حالانکہ پرسنل لا بورڈ سمیت تمام مسلمان جب عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنے کو کہہ رہے تھے تب مولانائے محترم عدالت پر ہی سوال کھڑے کررہے تھے) مولانا کو یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ ۱۴ مارچ کو عدالت کا فیصلہ نہیں آرہا ہے بلکہ ۱۴ سے بابری مسجد معاملے کی شنوائی شروع ہورہی ہے، اس بار عدالت نے ایسی کوئی ہدایت بھی نہیں دی ہے کہ شنوائی تا فیصلہ لگاتار روزانہ ہوگی، کب فیصلہ آئے گا یہ بھی طے نہیں ہےـ
اسی تحریر میں ایک طرف حضرت مولانا ارشد صاحب کو احترام سے مخاطب کیا گیا ہے دوسری طرف ان کے سر پر یہ احسان بھی دھر دیا گیا ہے کہ جب ان کا اپنے بھتیجے سے اختلاف ہوا تو مولانا سلمان نے مولانا ارشد مدنی کا ساتھ دیا جس سے خوش ہوکر جمیعت نے انھیں اپنے جلسوں میں بلانا شروع کیا جہاں انھوں نے مولانا ارشد کو امیر الھند بنانے کی سفارش کی، پھر جب سعودی معاملے میں مولانا ارشد سے اختلاف ہوا تو جمیعت کے جلسوں میں بلانا بند کردیا گیاـ ( یہاں قبلہ یہ بتانا بھول گئے کہ اسی معاملے میں انھوں نے مولانا مدنی کو مباہلے کا چیلنج بھی دیا تھا)
ہم نے دو روز قبل مولانا سلمان کے موقف کے خلاف ایک مضمون لکھا تھا تو اس پر انکے چند مقلدین جو سوشل میڈیا پر الگ الگ ناموں سے ان کے حق میں تحریریں پوسٹ کرتے رہتے ہیں ہم پر چڑھ دوڑے تھے، وہیں کچھ مخلص احباب نے بھی مولانا سلمان کو اکابر میں شمار کرتے ہوئے ہمیں نرم زبان اختیار کرنے کا مشورہ دیا تھا،مگر خود مولانا سلمان اپنے اکابر کے سلسلے میں جو انداز اختیار کرتے ہیں اس پر کوئی غور نہیں کرتاـ
حضرت مولانا علی میاں کا نام بار بار سلمان صاحب لیتے ہیں کہ انھوں نے بھی سمجھوتے کی بات کی تھی مگر یہ نہیں بتاتے کہ مولانا مرحوم جس طرح کا سمجھوتہ کرنا چاہتے تھے اس میں مسجد اپنی جگہ پر قائم رہتی، سلمان صاحب کی طرح مسجد کی جگہ مندر نہیں بنوارہے تھے،اس لئے حضرت مولانا علی میاں کو مولانا اپنے ساتھ گناہ میں شامل نہ کریں، نہ ہی فقہ حنبلی پر ایسا الزام لگائیں کہ اس میں مسجدکے اندر بت کدہ بنانے کی کی اجازت دی گئی ہے ـ اللہ سے ڈریں،یہ” غرورِ تقدس ” دنیا وآخرت دونوں جگہ رسوا کرے گا ـ
لوگ کہتے ہیں کہ مولانا سلمان صاحب جلد ہی اپنے موقف سے مکمل رجوع کرلیں گے آغاز ہوچکا ہے ،ہمارا بھی یہی خیال ہے کہ بعد ازخرابئ بسیار حسب سابق مولانا لوٹ آئیں گے،مگرکب تک؟اس بات کی کون گارنٹی دے سکتا ہے کہ آئندہ مولانا کا ” پندارِ علم ” پھر کوئی سواد اعظم کے خلاف نیا شوشہ چھوڑ کر ہماری رسوائی کا سامان نہیں کرے گا، اس لئے مولانا کے پرانے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے رجوع کے بعد بھی مولانا کو کسی مسلم تنظیم میں شامل نہیں کرنا چاہئے،فی الحال مولانا جن اداروں سے منسلک ہیں عافیت اسی میں ہے کہ انھیں وہاں سے بھی رخصت کردیا جائے؛ تاکہ مستقبل کی بدنامی سے اہل حق کی جماعت محفوظ رہ سکے ـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*