حج : عشق الٰہی کاحسین مظہر

مولاناعبدالرشید طلحہ نعمانیؔ 
حج کیا ہے ؟؟؟ عشق والفت ، وارفتگی ومحبت میں ڈوبے ہوئے اس سفر کا نام ہے جس میں ایک عاشقِ سرگشتہ بحکمِ خداوندی اپنے محبوب ومرغوب وطن کو چھوڑ کر جنگلوں ، بیابانوں اور صحراؤں کی خاک چھانتا ہوا سمندروں کو عبور کر کے دیار محبوب میں داخل ہوتا ہے ، بال بکھرے ہوئے ، ناخن بڑھے ہوئے ، گرد آلود سر ، تارکِ مال وزر ، گھر سے بے گھر ، نہ کھانے کی پرواہ نہ پینے خبر، نہ وضعدار لباس ،نہ کلاہ وپاپوش کا احساس ، نہ چال میں سکون نہ انداز میں قرار ، آثار محبت سے وارفتہ ، خانہ محبوب کے تصور سے از خود رفتہ ،آہ وبکا سے سوختہ اور رسمی وقار وتمکیں سے دل گرفتہ، دل ودماغ عظمتِ بیت الٰہی سے معمور، آنکھیں زیارتِ روضہ نبوی سے مخمور ، قلب وجگر انورا وبرکات سے موفور بس ایک ہی دھن میں مشغول، پراں پراں اور کشاں کشاں کوچۂ محبوب میں کبھی یہاں تو کبھی وہاں ، کبھی مکہ، کبھی مدینہ، کبھی عرفات کبھی منیٰ ، غرضیکہ حج ان عاشقانہ اعمال اور والہانہ افعال کا نام ہے جو بے ساختہ ایک عاشق زارسے صادر ہوتے ہیں جو جذبہ محبت سے سر شار محبوب حقیقی کے ماسوا سے بے زار اور رضائے الٰہی کا جو یاوطلب گار ہے ۔
حج مبرور کی فضیلت: 
حج اسلام کے بنیادی ارکان میں سے آخری رکن ہے اور ہر اس مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے جو اپنے گھر کے معمول کے اخراجات سے زائد اتنی مالی استطاعت رکھتا ہو کہ حج کے اخراجات برداشت کر سکے ۔ویسے عمرے کے لیے تو کوئی تاریخ اور مہینہ مقرر نہیں، سال بھر میں جب چاہیں عمرہ کرسکتے ہیں، لیکن حج کے احرام کے لیے مہینے ، اور اس کے افعال واعمال کے لیے خاص تاریخیں اور اوقات مقرر ہیں، اس آیت کے شروع میں یہ بتلا دیا کہ حج کا معاملہ عمرے کی طرح نہیں ہے ، اس کے لیے کچھ مہینے مقرر ہیں جو معروف ومشہور ہیں، وہ مہینے شوال، ذوالقعدہ اور دس روز ذو الحجہ کے ہیں۔شوال سے حج کے مہینے شروع ہونے کا حاصل یہ ہے کہ اس سے پہلے حج کا احرام باندھنا جائز نہیں، بعض ائمہ کے نزدیک تو شوال سے قبل باندھے گئے احرام سے حج کی ادائیگی ہی نہیں ہوسکتی ،امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک اس احرام سے حج تو ادا ہوجائے گا، مگر مکروہ ہوگا۔ (مظہری، معارف القرآن)
حج ایک انتہائی مقدس اور اہم فریضہ ہے ؛جس کو سب سے عمدہ اور محبوب ترین اعمال میں شمارکیاگیاہے ۔حضرت ابو ہریرہ ۔رضی اللہ تعالی عنہ۔ بیان کرتے ہیں کہ(ایک بار)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کون سے اعمال اچھے ہیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : 147اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا ۔148 پوچھا گیا پھر کون؟ فرمایا : 147اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔148 پوچھا گیاپھر کون ؟ ارشاد فرمایا: 148 حج مبرور۔148 ہیں (بخاری شریف)
حج مبرور کیا ہے ؟:
وہ حج جس کے دوران کوئی گناہ کا ارتکاب نہ ہوا ہو۔
وہ حج جو اللہ کے یہاں مقبول ہو۔
وہ حج جس میں کوئی ریا اور شہرت مقصود نہ ہو اور جس میں کوئی فسق و فجور نہ ہو۔
وہ حج جس سے لوٹنے کے بعدگناہ کی تکرار نہ ہو اور نیکی کا رجحان بڑھ جائے ۔
وہ حج جس کے بعد آدمی دنیا سے بے رغبت ہوجائے اور آخرت کے سلسلہ میں دل چسپی دکھا ئے ۔
ہرنیکی کا ثواب ایک لاکھ نیکیوں کے برابر : 
جب انسان حج کرنے جاتا ہے تو وہاں اللہ تعالیٰ اس کا بے انتہا اعزاز واکرام فرماتے ہیں اور ایک ایک نیکی کا اجرو ثواب بے انتہا بڑھا دیتے ہیں چنانچہ بہت سی احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ مکرمہ میں کی جانے والی ہر نیکی کا ثواب ایک لاکھ نیکیوں کے برابر ملتا ہے ، ایک نماز پڑھیں تو ایک لاکھ نماز پڑھنے کا ثواب ،ایک قرآن پڑھ لیں تو ایک لاکھ قرآن ختم کرنے کا ثواب، طواف کریں تو ہر قدم پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے ایک گناہ معاف ہوتاہے اور ایک درجہ بلند ہوتا ہے ،حرم میں بیٹھ کر آدمی کچھ بھی نہ کرے صرف بیت اللہ کو دیکھتا رہے اُسے بھی ثواب ملتا ہے، حدیث میں آتا ہے :”ہر روز بیت اللہ پر ایک سو بیس رحمتیں نازل ہوتی ہیں جن میں ساٹھ بیت اللہ کا طواف کرنے والوں کو ملتی ہیں، چالیس وہاں نماز پڑھنے والوں کو ملتی ہیں اور بیس اُسے ملتی ہیں جو بیٹھا صرف بیت اللہ کودیکھ رہا ہوتاہے ۔ "(الترغیب والترھیب)
فریض�ۂ حج کے ظاہری اعمال وارکان کی حقیقت ومعقولیت کا ادارک کرنے کے لئے عقل سلیم فطرت سلیمہ اور عشق حقیقی کا جذبۂ صادق شرط اولین ہے ، ورنہ عام دنیوی سوچ اور انسانی عقل سے دیکھا جائے تو یہ آمد ورفت یہ حیرانی وسرگردانی یہ بے کلی اور بے تابی ، یہ والہانہ عقیدت ومحبت ، عقل وادراک سے کوسوں دور معلوم ہوتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ کسی فارسی شاعر نے کہا 
میان عاشق ومعشوق رمزیست
کراماً کاتبیں را ہم خبر نیست
دین اسلام ، فطرت انسانی کے عین موافق ومطابق ہے ؛جس میں انسانی تقاضوں کی بھر پور رعایت رکھی گئی ہے ، اور جائز خواہشات کی تکمیل کی پوری اجازت دی گئی ہے ، چونکہ فطرت انسانی کا تقاضہ ہے کہ وہ اپنے مالک وخالق کے ساتھ عشق ومحبت کا اظہار کرے ، اس کے گھر کا طواف کرے ، اس کے دروازہ کو چومے اسی طرح ان آثار کی زیارت سے اپنی دل بستگی کا سامان کرے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر یہ احسان فرمایا کہ اس نے دنیا میں ایک جگہ کو اپنے ساتھ نسبت عطا فردی؛ بلکہ خانۂ کعبہ میں ایسی محبوبیت اور کشش رکھدی کہ اب ہمارے لئے محبت الٰہی کے اس جذبہ کو پورا کرنا، اور عشق حقیقی کی اس آگ کو جلا بخشنا آسان ہوگیا ،یہی وجہ ہے کہ جب حضرت عمرؓ حج کے لئے تشریف لے گئے اور حجر اسود کے پاس جاکر اس کو بوسہ دینے لگے تو اس کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا 146146 ائے حجر اسود! میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے نہ تو نقصان پہنچا سکتا ہے او رنہ فائدہ پہونچا سکتا ہے اگر میں رسول اللہ ا کو تجھے بوسے دیتے ہوئے نہ دیکھتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا145145 مگر چونکہ آپ ا کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس سنت کو قیامت تک کے لئے جاری فرمادیا اس لئے اس کا چومنا عبادت بن گیا، کسی عارف نے کیا ہی خوب کہا ہے ؂
نازم بچشم خود کہ جمال تودیدہ است
افتم بہ پائے خویش کہ بہ کویت رسیدہ است
ہزار بار بوسہ دہم من دست خویش را
کہ دامنت گرفتہ بسویم کشیدہ است
ترجمہ: مجھے اپنی آنکھوں پر ناز ہے کہ انہوں نے تیرا جمال دیکھ لیا ہے ، میں اپنے پاؤں پر گراجاتا ہوں کہ چل کر تیرے کوچہ میں پہنچ گئے ہیں اورمیں ہزاربار اپنے ہاتھوں کو بوسہ دیتا ہوں کہ انہوں نے تیرے دامن کو پکڑکر اپنی طرف کھینچاہے ۔
اسی مضمون کو حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی نور اللہ مرقدہ نے 146146 ارکان اربعہ کی عاشقانہ ترتیب 145145 کے عنوان سے یوں بیان فرمایا ہے کہ146146 عشق مجازی والے کسی سے عشق ومحبت کی بنیاد اس طرح رکھتے ہیں کہ محبوب سے آشنا ئی قائم کر نے کے لئے کئی کئی بار اس کے گھر جاتے ہیں، جب آمد ورفت کا یہ سلسلہ پختہ دوستی کی بنیادوں پر دیواریں بلند کر چکتا ہے تو پھر محبوب کی ضیافت اور اپنے گھر بلا کر مہمانی کا مقام پیدا کیا جاتا ہے؛ جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے لئے مال خرچ کر نے میں دریغ نہیں کیا جاتا ، جب محبت اس مقام پر پہنچ جا تی ہے تو پھر اس کے بعد محبت کا وہ مقام آتا ہے جس میں عاشق کو نہ اپنے کھانے کی پرواہ ہوتی ہے نہ پینے کی نہ خویش واقارب کا خیال ہوتا ہے نہ حظ نفس کا ، گویا محبوب کی محبت پر اپنی خواہشات نفسانی وجسمانی کو قربان کردیتا ہے اور پھر اس کے بعد بالآخر وہ مقام آجاتا ہے کہ عاشق مجنونیت وفرہادیت کے قالب میں ڈھل کر دیوانگی اختیار کرلیتا ہے ۔
اس طرح حج کے اعمال میں مجنون کا عشق اور فرہاد کی جگر سوزی کا رفرمانظر آتی ہے جس کو وفور عشق کی غایت اور کمال محبت کی انتہا سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔
افعالِ حج کے ظاہراً مافوق الاداراک ہونے کی بڑی حکمت یہ بھی ہے کہ اسلام سراسر بندگی اور سر افگندگی سے عبارت ہے لہٰذا جو ہم نے اپنے دلوں میں عقل وخرد کے بڑے بڑے بت تعمیر کئے ہیں، اس عبادت حج کے ذریعہ قدم قدم پر ان بتوں کو پاش پاش کیا جاتا ہے اور یہ بات راسخ کرائی جاتی ہے کہ اس کائنات میں اگر کوئی چیز قابل تعمیل اور لائق اتباع ہے تو وہ صرف اور صرف ہمارا حکم ہے چاہے اس چیز کا عقل وخرد سے کوئی تعلق نہ ہو اسی کو شاعر نے کہا ہے 
سرِ تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے 
اگر بخشے زہے قسمت نہ بخشے تو شکایت کیا
علاوہ ازیں،حج ایک کثیر المقاصد اور کثیر الفوائد عبادت ہے ؛جس کے دینی اور دنیاوی فوائد اس قدر ہیں کہ انہیں شمار کرنے کے لئے ایک مستقل کتاب درکار ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس حقیقت کا اظہار ان الفاظ میں فرمایا ہے : لِیَشْہَدُوْا مَنَافِعَ لَہُمْ 146146 لوگ یہاں آئیں اور آکر دیکھیں کہ حج میں ان کے لئے کیسے کیسے دینی اور دنیاوی فوائد ہیں۔145145
غور فرمائیے !حج جیسے عظیم الشان فریضے میں اللہ پاک نے کیسی کیسی مصلحتیں پنہاں فرمادیں ،کسی دیدہ ور صاحب ادراک نے لکھا ہے کہ حجاج کرام کا گھر بار اہل و عیال اور اپنی تمام مصروفیتیں چھوڑ کر اللہ کے گھر کی زیارت کے لئے طویل سفر پر نکل کھڑے ہونا ،رجوع الی اللہ اور توکل علی اللہ کی ایک خاص کیفیت انسان کے اندر پیدا کر دیتا ہے ، دوران سفر خالص اللہ کی رضا کے لئے ہر قسم کی تکلیف اور پریشانی برداشت کرنا یقیناًتزکیہ نفس کا باعث بنتا ہے ،دنیا کے مختلف حصوں میں رہنے والے 145 مختلف زبانیں بولنے والے ،مختلف لباس پہننے والے ، مختلف رنگوں اور مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا ایک ہی مرکز پر پہنچنے کے لئے چل پڑنا، میقات پر پہنچ کر اپنے قومی لباس اتار کر ایک ہی طرز کا سادہ سا فقیرانہ لباس پہن لینا، مساوات کی ایک ایسی عملی تعلیم دیتا ہے جس کی مثال دنیا کے کسی دوسرے مذہب میں نہیں ملتی۔ امیر، فقیر، شاہ، گدا، عربی،عجمی، شرقی،غربی سبھی لوگوں کا ایک ہی لباس میں، ایک ہی زبان میں، ایک ہی رخ پر ایک جیسے الفاظ میں ترانہ توحید بلند کرنا اور پھر ایک ہی وقت میں ایک ہی رخ پر ایک ہی طریقہ پر اپنے مالک و آقا کے حضور سجدہ ریز ہونا145 زبان145 رنگ145 نسل اور وطن وغیرہ کے نام پر بنائی ہوئی قوموں کے خود تراشیدہ بتوں کو توڑ پھوڑ کر بس ایک ہی قوم ۔۔ قوم رسول ہاشمی۔۔ بننے کا درس دیتا ہے ایک ہی رنگ یعنی اللہ کا رنگ (صِبْغَۃَاللّٰہِ) اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے ، حرم میں داخل ہونے کی پابندیاں، احرام کی پابندیاں، آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ امن و سلامتی اور عزت و احترام کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا سلیقہ سکھاتی ہیں۔
غور کیجئے تو محسوس یہ ہو گا کہ اسلامی تعلیمات کا کوئی ایسا گوشہ باقی نہیں بچتا جس کی تعلیم دوران حج بلا واسطہ یا بالواسطہ نہ دی گئی ہو اتفاق اور اتحاد کی تعلیم، قربانی و ایثار کی تعلیم، نظم و ضبط کی تعلیم، باہم و دگر مربوط رہنے کی تعلیم،دعوت و جہاد کی تعلیم، یکسوئی اور یکجہتی کی تعلیم ،مساوات اور مواخاۃ کی تعلیم ،امن و سلامتی کی تعلیم ،وحدت ملی کی تعلیم، رجوع الی اللہ کی تعلیم، اتباع سنت کی تعلیم اور عقیدہ توحید کی تعلیم۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*