جی ایس ٹی کے دائرے میں نہیں آئے گاپیٹرول اورڈیزل:وزیرخزانہ کی وضاحت

نئی دہلی، 06 فروری(قندیل نیوز)
دنیا میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بھی بڑھتی جارہی ہیں لیکن پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں جلد آپ کوراحت ملتے ہوئے نہیں دکھ رہی ہے ۔ بجٹ کے بعدجی ایس ایس کونسل سے راحت کی امید کررہے عام آدمی یہاں بھی خالی ہاتھ ہی لوٹیں گے۔ وزیرخزانہ ارون جیٹلی نے منگل کواس بات کولے کربتایا کہ ریاست گیس اور ڈیزل کو جی ایس ٹی کے دائرے میں لانے کو تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں کا ذہن فی الحال یہ ہے پیٹرولیم اور ڈیزل کو جی ایس ایس کے دائرے میں نہیں لایاجائے۔اگرچہ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ قدرتی گیس، رئیل اسٹیٹ سب سے پہلے جی ایس ایس کے دائرے میں لایا جا سکتا ہے۔ اس ن بعدکہیں جاکر پٹرول اور ڈیزل کانمبرلگ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ہم اپنے پیٹرول ، ڈیزل، پینے والاپانی اور شراب کو لانے کی کوشش کریں گے۔ بین الاقوامی سطح پرجب بھی خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے، تواس سے ریاستوں کی آمدنی بھی بڑھتی ہے، ریاستوں کو ریاست کی ایک بڑی رقم پیٹرول اور ڈیزل پر لگنے والے ویٹ سے آتی ہے۔اس کے ساتھ ہی کم ویٹ لگانے والی ریاستی حکومتیں اپنے سیاسی فائدے کودیکھتے ہوئے پٹرول اورڈیزل کو جی ایس ایس کے تحت لانے پر متفق نہیں ہوں گی،کیونکہ ان کے سامنے جی ایس ٹی کی وجہ سے قیمتیں بڑھنے کاخطرہ ہوگا۔جی ایس ٹی کونسل کے اعلی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پٹرول ڈیزل جی ایس ٹی کے دائرے میں کیا جائے تو ملک بھر میں مختلف سیلز ٹیکس کے بجائے صرف ایک ٹیکس ہوجائے گا۔اس سے بھلے ہی مہاراشٹر کی طرح کچھ ریاستیں کچھ راحت ملے گی لیکن کم ویٹ وصول کرنے والی ریاستوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوجائے گا، ایسی صورت حال میں کوئی سیاسی پارٹی نہیں چاہے گی کہ ایساقدم اٹھایاجائے۔