جینے کی آرزو میں مسلمان مر گئے

تازہ ترین، سلسلہ 95
فضیل احمد ناصری
جلوے رہے ہمارے سلف کے،جدھر گئے
رسوا کیا صنم کو، جہاں سے گزر گئے
ان کے نقوشِ پا پہ جوانی ہے آج بھی
اپنے جنوں سے دامنِ تاریخ بھر گئے
آتش بجھی تو راکھ کا اک ڈھیر رہ گیا
مومن بھی رب کے چشمِ کرم سے اتر گئے
کرتے گئے قبول، غلامی کی تلخیاں
جینے کی آرزو میں مسلمان مر گئے
مشکل نہیں، محال ہے تعمیرِ شخصیت
محفل سے سارے صاحبِ ذوقِ نظر گئے
آبا سے انحراف نے شیشہ بنا دیا
ہم لوگ پتھروں سے الجھ کر بکھر گئے
اک وہ کہ ان کے ہاتھ تھی ساری لگامِ وقت
اک ہم کہ وقت نے ہمیں روکا، ٹھہر گئے
حالات جو بھی ہوں، کبھی بے جرأتی نہ کر
وہ لوگ مر گئے، جو حوادث سے ڈر گئے
جن کی نگاہِ پاک سے آتا تھا انقلاب
یارب! وہ اہلِ نسبت و غیرت کدھر گئے

  • عظمت النساء
    27 جنوری, 2018 at 09:43

    جن کی نگاہِ پاک سے آتا تھا انقلاب
    یارب! وہ اہلِ نسبت و غیرت کدھر گئے
    بہت خوب.

  • گلشن
    28 جنوری, 2018 at 23:27

    اک وہ کہ ان کے ہاتھ تھی ساری لگامِ وقت
    اک ہم کہ وقت نے ہمیں روکا، ٹھہر گئے
    بہت خوب

    • rashida batool
      29 جنوری, 2018 at 20:40

      بہت خوب

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*