جون ایلیا

احمدبن نذر
نظر جون ہے تو جگر ایلیاہے
ادب کامکمل سفرایلیاہے
فراز وبشیرووصی ہیں ستارے
توخورشیدِتاباں،قمرایلیاہے
وہ رَہ رونہیں رہ نماہےغزل کا
کہ دشتِ ادب کاخضرایلیاہے
ملَک زادہیں جووہ باغور سن لیں
فرشتہ نہیں ہے ،بشرایلیاہے
جہانِ ادب میں اسی کاہےچرچا
جدھردیکھتے ہیں ادھرایلیاہے
جوعاجزہیں اپنی نگہ کی کجی سے
وہ ہیں زیرسارے، زبرایلیاہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*