جنگلات کے تحفظ میں نوجوانوں کا کردار

محمد امانت اللہ
دنیا میں قدرت نے ہر چیز کو انسان کے فائدے کے لئے پیدا کیا ہے ، کوئی بھی چیز ایسی نہیں ،جس میں انسان کے ساتھ ساتھ دوسرے جانداروں کے لئے کوئی فائدہ نہ ہو ،دوسری نعمتوں کی طرح قدرت نے ہمیں اس دنیا میں جنگلات ،باغات اور درختوں کی نعمت سے بھی نوازا ہے، جنگلات کی اہمیت سے نہ پرانے زمانے میں کسی نے انکار کیا ہے اور نہ موجودہ دور میں کوئی انکار کر سکتا ہے،ہر شخص اس کے فائدے سے خوب واقف ہے،دنیا میں آج کل جنگلات کے بغیر ترقی کا خواب بھی ادھورا ہے،کسی بھی ملک کی ترقی اور صاف ستھرے ماحول کے لئے اس ملک کے کل رقبے کے پچیس سے تیس فیصد حصے پر جنگلات کا ہونا ضروری ہے،اگر ہم دیکھیں تو دنیا میں ان ممالک نے زیادہ ترقی کی ہے، جہاں پر جنگلات کا رقبہ زیادہ ہے،اگر موجودہ وقت میں دیکھا جائے ،تو دنیا کے مختلف ممالک میں جنگلات کا رقبہ مختلف ہے اوراسی سے ان ملکوں کی ترقی کا تناسب پتا چلتاہے۔
جنگلات کے فوائد بے شمار ہیں؛ لیکن میں یہاں ان میں سے چند کا ذکر کروں گا ،جنگلات کی لکڑی کا استعمال تعمیرات میں بہت ہوتا ہے اور وہ تعمیرات دنیا میں قیمتی ہوتی ہیں ،جن میں لکڑی کا استعمال زیادہ سے زیادہ ہو، اس سے صاف ظاہر ہے کہ تعمیرات میں اس کی کتنی اہمیت ہے،اس کے ساتھ ساتھ ہم اس کو جلانے کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں ؛لیکن مذکورہ دونوں فائدوں کے بغیر بھی انسان زندگی گذار سکتا ہے اور اس کے دوسرے متبادل کواستعمال کر سکتا ہے ؛کیوں کہ درختوں کاہونایہ انسانی زندگی اورصحت مند انسانی معاشرے کے لیے نہایت ضروری ہے،جن ملکوں میں درختوں کے لگانے،ان کی حفاظت کرنے کااہتمام کیاجاتاہے،وہاں کی آب و ہوا نہایت شفاف اور صحت بخش ہوتی ہے ،وہاں کے باشندے بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں اور انسانی آبادی خوشحالی و سکون کی زندگی بسر کرتی ہے۔
آج کل جس خطرے سے دنیا دنیا زیادہ تر پریشان ہے اور دنیا کو اس کا سامنا ہے ، وہ ہے ماحولیا تی آلودگی جس سے پوری دنیا متأثر ہو رہی ہے اور وہ خطے زیادہ اس کی لپیٹ میں ہیں، جہاں جنگلات اور درختوں کی کمی ہے ،ماحولیا تی تبدیلی کی روک تھام میں جو واحد چیز اپنا مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے، وہ زیادہ مقدار میں جنگلات اور درختوں کالگاناہے ،مگرچوں کہ آج کل صنعتی ترقی بہت تیزی سے ہوئی ہے،جگہ جگہ بڑے کارخانے لگے ہوئے ہیں،جہاں سے کاربن گیس کے اور دوسرے ان گیسوں کا اخراج ہورہا ہے، جو ماحول کے لئے زہر قاتل ہیں ،اس سے بہت سی بیماریاں عام ہورہی ہیں، جن میں کینسر جیسے موذی مرض اور ہیپا ٹائٹس شامل ہیں۔ جنگلات ہی واحد ذریعہ ہے، جو ان زہریلی گیسوں کو جذب کرتا ہے اور اس کی جگہ آکسیجن کا اخراج کرتا ہے، جو جانداروں کی زندگی کا لازمی جز ہے ،اس کے ساتھ ساتھ جہاں پر جنگلات زیادہ ہوں ،وہاں بارشیں بھی مقررہ مقدار میں ہوتی ہیں اور موسم خوشگوار رہتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سیلاب کے دوران زمین کو کٹاؤ سے بچاتی ہے،اسی طرح جنگلات میں قیمتی جڑی بوٹیاں اگتی ہیں جو مختلف بیماریوں کی دواؤں میں استعمال ہوتی ہیں ۔
ما حولیات کو لا حق خطرات کے خلاف بند باندھنااور اس زمین کی حفاظت کرنا ہماری اولین ذمہ داری ہے،ماحولیات کے تحفظ کے لئے سب سے اہم چیز جنگلات کی تعداد میں اضافہ ہے کیونکہ جنگلات کی تعداد میں تشویشناک حد تک ہونے والی کمی ماحولیات کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہی ہے،کچھ سائنسدانوں کا تو یہ بھی ماننا ہے کہ موجودہ دور میں اس دنیا کو سب سے بڑا خطرہ جنگلات کے ختم ہونے سے ہے کیونکہ ایسی صورت میں قدرتی آفات (سیلاب،آندھی ،طوفان )کا آنا لازمی ہے اور پھر انسانوں میں مہلک بیماریوں کا اضافہ یقینی ہے ، دنیا میں ماحولیاتی آلودگی میں تیزی سے اضافے کی ایک بڑی وجہ جنگلات کی مسلسل کٹائی ہے،اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ہر سال دنیا بھر میں تقریباًتیرہ ملین ہیکٹر رقبے پر پھیلے جنگلات کا صفایا کر دیا جاتا ہے،ماحولیاتی آلودگی پرقابو پانے کے لئے جنگلات کی بقا اور اس کی حفاظت نا گزیر ہو چکی ہے،شجر کاری میں اضافہ کیا جانا چاہئے کیونکہ جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے عالمی حدت میں روز بروز خطرناک اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
جنگلات کی کٹائی سے زمین کا درجۂ حرارت بڑھ رہا ہے، جس سے گلیشئر پگھل رہے ہیں اور زمین کی زیریں منجمد سطح متأثر ہو رہی ہے یعنی گرین ہاؤس ایفکٹ سے قطبین پر جمی برف پگھلنے لگی ہے ،جس سے سطحِ سمندر بلند ہورہی ہے ،اب اگر قطبین پر جمی برف پگھلنے لگی ہے تو اس سے تصور کیا جا سکتا ہے کہ دنیا میں کتنی تباہی آئیگی،اس لئے ماحولیات کے ماہرین نے ماحول میں ہونے والی منفی تبدیلیوں کے تحفظ کے لئے جن اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے ،ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ جس قدر ممکن ہو شجر کاری کی جائے اور زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں، نہ صرف یہ کہ اپنے گھروں کے باغیچوں میں بلکہ گھروں کی چھتوں پر بھی پودے لگائیں،لیکن آج صورت حال بالکل بر عکس ہے ،دنیا کے مختلف مقامات پر لوگ شجر کاری کرنے کی بجائے اتنی بے دردی سے جنگلات کا صفایا کرتے جا رہے ہیں کہ اگر یہی صورت حال رہی، تو بہت جلد سارے جنگلات ختم ہو جا ئیں گے اور یہ سر سبز پہاڑ خالی اور چٹیل میدانوں کا نظارہ پیش کریں گے اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ان گھنے جنگلات کی بے دریغ کٹائی کی وجہ سے لوگ قدرتی جنگلات سے محروم ہو جا ئیں گے اور لوگوں کو بڑھتی ہوئی ما حولیاتی آلودگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں نوجوان نسل کو خاص طورپرصورتِ حال پر قابوپانے کے لیے آگے آناچاہیے،ہم اگر خود کو اور آنے والی نسلوں کو ماحولیاتی آلودگی سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، تو موجودہ قدرتی جنگلات کے تحفظ و بقا کے لئے بیڑہ اٹھانا ہوگا اور جنگلات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر شجر کاری کی مہم شروع کرنی ہوگی اور یہ تبھی ممکن ہے جب لوگوں میں جنگلات کے حوالے سے شعور بیدار کیا جائے، کیونکہ جنگلات کے کاٹنے سے نہ صرف لوگوں کی ذاتی زندگی متأثر ہوتی ہے، بلکہ اس سے مجموعی طور پر سماج پر بھی منفی اثرات پڑتے ہیں، لہذا ان کے تحفظ کے لئے ہمیں اپنے رویے میں تبدیلی لانی چاہئے اور درختوں کے لگانے کا ایک بڑا منصوبہ شروع کرناچاہئے اور پوری دنیا کو جنگلات کا رقبہ بڑھانے کے لئے خصوصی اقدامات کرنے چاہئے ،تا کہ اس مسئلے سے عالمی سطح پر نمٹاجاسکے، اس کے ساتھ ساتھ ہمیں لوگوں کی آگاہی کے لئے ایک مؤثر مہم چلانی چاہئے کہ لوگ جنگلات کے فوائد سے با خبر ہوں اور ان میں یہ شعور پیدا کیا جا ئے کہ جنگلات کی کٹائی سے کون کون سی تباہی آسکتی ہے ،ورنہ آنے والے دنوں میں اس کے بھیانک نتا ئج سے ہم خود کو بچا نہیں پا ئیں گے،ہماری ذمہ داری یہ بھی ہے کہ ہم شجر کاری کو فروغ دیں اور پھر اس کی اسی طرح دیکھ بھال کریں جیسے ہم اپنے کسی قیمتی اثاثہ کی دیکھ بھال کرتے ہیں ،تا کہ اس کے ذریعے ایک صاف شفاف آب وہوا میسر ہو سکے۔ ملک کے نوجوان چاہیں تو ماحول کو درپیش اس عظیم خطرے سے آسانی سے نمٹ سکتے ہیں،البتہ اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے،پہلے زمانے میں لوگ اپنے گھر،دروازے اور آس پاس شوق سے پیڑ پودے لگایا کرتے تھے،تاکہ ان سے مکان اور اردگردکی خوب صورتی بھی برقراررہے اور صاف و صحت بخش آب و ہوا بھی میسر ہو، ضرورت ہے کہ خاص طورپر نئی نسلوں میں اس تصور کو عام کیاجائے،جب تک معاشرے کا باشعور طبقہ درخت اور جنگلات کی اہمیت کو نہیں سمجھتا اورشجرکاری و درختوں کی حفاظت پر دھیان نہیں دیتا،ہمارے سر سے گلوبل وارمنگ کا خطرہ ٹلنے والا نہیں ہے۔لہذا ہمیں ہر حال میں اپنے موجودہ رویے کو بدلنا چاہیے اور ماحولیات کے تحفظ میں جن وسائل کی ضرورت ہے،انہیں اختیار کرکے اپنے اور اپنے معاشرے کے تحفظ کا سامان کرنا چاہیے۔