جمعیۃ علما ء نے انسانی بنیادوں پر ملزم کو قانونی امداد فراہم کی

راہل شرما نامی ملزم کو پیسہ کے عوض بچہ اغوا کرنے کے الزامات سے عدالت نے بری کیا
ممبئی:۲۵؍ جولائی(پریس ریلیز)
پیسہ کے عوض بچہ اغوا کرنے کے الزامات سے آج ممبئی کی سیشن عدال نے راہل اشوک شرما نامی شخص کو باعزت بری کردیا ، حالانکہ سیشن عدالت نے ملزم کو بچہ کو اس کے والدین کی اجازت کے بغیر تحویل میں رکھنے کے الزام میں قصور وار ٹہرایا ہے ۔
سٹی سول سیشن عدالت نمبر۳۴؍ کے جج دنیش کوٹھلیکر نے ملزم راہل اشوک شرما کو تعزیرات ہند کی دفعہ 364(A) سے باعزت بری کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے، مذکورہ دفعہ کے تحت اگر ملزم کو عدالت قصور وار ٹہراتی تو اسے عمر قید کی سزا ہوجاتی ہے لیکن دفاعی وکیل شریف شیخ کی بحث کے بعد عدالت نے ملزم کو پیسہ کے عوض بچہ کو کیڈنیپ کرنے کے الزامات سے باعزت بری کردیا۔
اس مقدمہ کی دلچسپ حقیقت یہ ہیکہ ملزم راہول شرما کی گرفتاری کے بعد اسے ممبئی کی آرتھرروڈ جیل میں رکھا گیا تھا جہاں اس کی ملاقات دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات میں پھنسا دیئے گئے چند ملزمین سے ہوئی جنہوں نے راہل شرما کے مقدمہ کے دستاویزات کا مطالعہ اور راہل شرما سے گفتگو کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ملزم کو جبراً پیسہ کے عوض بچہ اغوا کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے جس کے بعد انہوں نے جیل سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کے نام خط ارسال کرکے انہیں راہل شرما کو انسانی بنیادوں پر قانونی امد اد فراہم کیئے جانے کی گذارش کی تھی۔
ملزم کی درخواست موصول ہونے کے بعد گلزار اعظمی نے ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ ابھیشک پانڈے ، ایڈوکیٹ ارشد شیخ ودیگر کو ملزم کے مقدمہ کی پیروی کرنے کی ذمہ داری سونپی جنہوں نے سیشن عدالت کے سامنے ایسے حقائق پیش کیئے جس سے عدالت کو مطئین ہونا پڑا اورملزم کو عمر قید کی سزا سے بچا لیا گیا۔
آج کی عدالتی کارروائی کے بعد اخبار نویسوں کو ایڈوکیٹ شریف شیخ نے بتایا کہ حالانکہ سیشن عدالت نے ملزم کو تعزیرات ہند کی دفعہ 363 کے تحت سزا دی ہے لیکن ملزم گذشتہ پانچ سالوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ہے لہذا سے جلد ضمانت پر رہائی مل جائے گی ۔
انہوں نے کہا کہ ملزم راہل شرما کے مقدمہ کا تفصیلی فیصلہ موصول ہونے کے بعد وہ اس کا مطالعہ کریں گے اور پھر اس کے بعد اگلالائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ استغاثہ نے ملزم راہل شرما پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے اس کے ساتھ کام کرنے والی ایک خاتون کو پانچ ہزار روپئے ادھار دیئے تھے اور پیسے واپس نہیں لوٹانے کی صورت میں اس نے اس کے لڑکے کو اسکول سے اغواہ کرلیا تھا اور بعد میں اسے ممبئی کے مختلف مقاماے پر لے جاکر خاتون کو فون کرکے اس سے پیسہ کا مطالبہ کرہاتھا لیکن مقدمہ کی سماعت کے دوران استغاثہ عدالت میں ایسا کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کرسکا جس سے یہ ثابت ہوتا ہوکہ ملزم نے بچہ کو پیسہ کے وعوض اغواہ کیا تھا لیکن عدالت نے ملزم کو بچہ کو اس کے والدین کی اجازت کے بغیر اپنے قبضہ میں رکھنے کے الزامات کے تحت سزا دی ہے ۔