جمال خاشقجی کا قاتل کون ہے؟

میم ضاد فضلی
اس اب کوئی شک وشبہ نہیں رہا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی ہلاک کئے جاچکے ہیں اور ان کے قتل میں کوئی اورنہیں؛ بلکہ راست طور پر حکومت سعودیہ بالخصوص ولی عہد محمد بن سلمان ملوث ہیں ۔ رہی بات طویل مدت سے قتل کے الزام میں سعودی عرب کی جانب سے ٹال مٹول کی،تو یہ سارا کھیل صرف اس لئے ہوتا رہا کہ اس بڑی واردات میں کسی ایرے غیرے کا نہیں؛بلکہ سعودی عرب کے فرمانروا کا ہاتھ ہے۔لہذا محمد بن سلمان کی گردن بچانے کیلئے ضروری تھا کہ قتل کے معاملے کو امروزوفردا اور جانچ پڑتال کے بہانے سے ٹالا جاتا رہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خاشقجی نے ایسا کیا قصور کیا تھا کہ حکومت سعودی عرب کیلئے اس کی جان لینا ضروری ہوگیا تھا؟اس کاجواب مرحوم خاشقجی کے دوست کے دعوے سے ملتا ہے۔جمال خاشقجی کے دوست عبد العظیم حسن الدفراوی کا کہنا ہے کہ جمال خاشقجی کے پاس سعودی شاہی خاندان کے کرپشن،دہشت گردوں کے ساتھ ان کے تعلقات اور اندرونی سیاست کے بارے میں اہم معلومات تھیں، جن کے باعث انہیں قتل کر دیا گیا ۔ابھی تک تحقیق سے جمال کے قتل میں جن لوگوں کا نام آرہا ہے، ان کے سعودی شاہی گھرانےاور ولی عہد محمد بن سلمان سے گہرے روابط اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ غیر معمولی طاقتوں کے حکم پرہی خاشقجی کو راستے سے ہٹایا گیا ہے۔ترکی کے میڈیا نے ان 15 سعودی باشندوں کے نام جاری کر دیے ہیں، جن کے بارے میں ترک حکام کو شبہ ہے کہ وہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے مبینہ قتل میں ملوث ہیں۔حالیہ کچھ عرصے سے ملک کی قیادت پر تنقید کرنے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی اکتوبر کی دو تاریخ کو استنبول میں سعودی قونصل خانہ گئے، جس کے بعد سے وہ دوبارہ نظر نہیں آئے ہیں۔سعودی عرب سے وہ لوگ نجی طیارے میں استنبول قونصل خانے میں خاشقجی کے داخل ہونے سے چند گھنٹے پہلے ہی پہنچے تھے اور اسی روز رات کو واپس بھی چلے گئے ۔ترک حکام کا کہنا ہے کہ یہ لوگ سعودی حکومت کے اہلکار اور ان کی خفیہ ایجنسی کے رکن تھے اور انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات سے یہ الزامات بظاہر درست نظر آتے ہیں۔طیارہ سے استنبول پہنچنے والے قاتلوں کی ٹیم میں شامل ڈاکٹرصالح محمد طبیجی فرانزک کے ماہر ہیں جنھوں نے سکاٹ لینڈ سے ماسٹرز کیا ہے۔ ٹوئٹر پر انھوں نے خود کو پروفیسر کے طور پر بھی متعارف کرایا ہے اور سعودی سائنٹیفک کونسل کے فرانزک شعبہ کا سربراہ کہا ہے۔ترک حکام کے مطابق ڈاکٹر طبیجی HZSK2 نمبر والے نجی طیارے میں استنبول پہنچے تھے اور اپنے ساتھ ایک آری بھی لائے تھے۔اس طیارے کی ملکیت سکائی پرائم ایوی ایشن سروس کے پاس ہے ،جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مبینہ طور پر گذشتہ سال سعودی حکومت نے بدعنوانی کے الزام میں اس کمپنی کو تحویل میں لے لیا تھا۔ترک حکام نے ان کے ہوٹل میں قیام کرنے کا ثبوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر طبیجی استنبول کے معروف ہوٹل میں رکے تھے اور اسی روز رات میں دبئی کے لیے روانہ ہو گئے۔ترک حکام نے کہا ہے کہ ان کے پاس موجود آڈیو ریکارڈنگ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ڈاکٹر طبیجی جمال خاشقجی کے قونصل خانے میں جانے والے دن وہاں موجود تھے۔اس ریکارڈنگ میں ایک شخص جسے ڈاکٹر کی حیثیت سے بلایا جاتا ہے وہ دوسرے لوگوں سے کہتا ہے کہ وہ اس کے ساتھ موسیقی سننے کے لیے ہیڈ فونز لگائیں، جب وہ جمال خاشقجی کا جسم آری سے کاٹ رہے تھے۔اس کے رد میں ابھی تک ڈاکٹر طبیجی کی جانب سے کوئی بیان نہیں آیا ہے، لیکن ایک شخص نے خود کو ان کا رشتے دار ظاہر کیا ہے اور ٹوئٹر پر دعویٰ کیا ہے کہ ڈاکٹر طبیجی ایسا کر ہی نہیں سکتے۔بہر حال کسی دوسرے کی جانب سے اس قسم کی تردید سے ڈاکٹر طبیجی کو کلین چٹ نہیں دی جاسکتی۔ یہاں معاملہ شاہی خاندان کی حکم برآری کا ہے۔ شاہوں کے یہاں کسی حکم کی سرتابی بھی قابل مواخذہ جرم تصور کی جاتی ہے ۔اور بقول منوررانا:
’ حکومت کے اشارے پر تو مردہ بول سکتا ہے‘
یہاں مردہ بول ہی نہیں سکتا ، بلکہ حکومت کا شارہ پاکر تو مردہ بھی سپاری کلر کا کردار اداکرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔لہذا ڈاکٹر طبیجی کی کار کردگی پرشک کی سوئی اسی جانب دھکیل رہی ہے کہ معاملہ کسی غیر مرئی بڑی طاقت کا تھا؛ اسی لئے ایک شخص کے قتل کیلئے ملک کےفارنسک ایکسپرٹ کا استعمال کیا گیا۔یہ اس لئے کیا گیا ،تاکہ قتل کے شواہد بآسانی مٹائے جاسکیں اور خاشقجی کے قاتلوں تک انصاف کا ہاتھ پہنچ ہی نہ سکے۔ دریں اثنااطلاعات ہیں کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے شاہ سلمان کے ساتھ فون پر بات چیت کے بعد کہا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے پیچھے کچھ”بدمعاش قاتل“ بھی ہو سکتے ہیں ۔دوسری طرف ترکی اور سعودی عرب کی مشترکہ تفتیشی ٹیم نے استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں تحقیقات شروع کر دی ہیں، ترک حکام شروع سے ہی دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ سعودی حکومت کے ناقد جمال خاشقجی کو قونصل خانے میں قتل کر دیا گیا تھا۔جبکہ آج سعودی عرب نے بھی یہ اعتراف کرلیاہے کہ جمال خاشقجی ہلاک کئے جاچکے ہیں اور ان کی موت سعودی قونصل خانہ میں تفتیش کے دوران نوک جھونک میں ہوئی ہے۔دوسری جانب ترک حکام کا الزام ہے کہ جمال خاشقجی کو ایک سعودی ہٹ اسکواڈ نے قونصل خانے میں قتل کیا ہے۔ترکی کا اس سے پہلے کہنا تھا کہ اس کے پاس جمال خاشقجی کے قتل کے آڈیو اور ویڈیو ثبوت موجود ہیں تاہم اب تک یہ سامنے نہیں لائے گئے ۔ ادھر سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی چینل پر چلنے والی خبر میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی سرکاری تحقیقات کے مطابق جمال خاشقجی کی موت دو اکتوبر کو استنبول میں سعودی قونصل خانے میں ہونے والی ایک ‘لڑائی ‘ کے نتیجے میں ہوئی۔دیکھتے رہیے دھیرے دھیرے سارے حقائق دنیا کے سامنے آجائیں گے اور یہ معلوم ہوجائے گا کہ سعودی حکمرانو کیلئے انسانی جانوں سے زیاداہم ان کی کرسیاں ہیں اور ان کیلئے وہ انسانی لاشوں کے سمندر سے بھی گزر سکتے ہیں۔
8076397613