جمال خاشقجی: ایک اور قلم توڑ ڈالاگیا

محمد شاہد خان
دس ستمبر 2018 کی ایک اداس شام تھی،سورج اپنے ساتھ اجالوں کو سمیٹتا ہوا واپسی کی تیاری کررہا تھا کہ شام پانچ بجے واشنگٹن سے آنے والا ترکی ائرلائنس کا مسافر بردار جہاز ہوا میں شور مچاتے ہوئے اسطنبول کے اتاترک ائرپوٹ پر اترا ۔
اس جہاز میں مشہور سعودی صحافی جمال خاشقجی بھی سوار تھے، وہ ایک تحقیقی ادارے کی دعوت پر ایک ڈِبیٹ میں حصہ لینے کی غرض سے وہاں پہنچے تھے، کافی دنوں سے امریکہ میں جلاوطنی کی زندگی بسر کرنے والے جمال اپنی نئی منگیتر خدیجہ جہانگیر کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوکر ایک نئی زندگی کی شروعات کرنا چاہتے تھے اور ترکی کو اپنا نیا مسکن بنانے کا ارادہ رکھتے تھے؛لیکن اس راہ میں کچھ دشواریاں حائل تھیں ۔ نئے رشتے کے آغاز کے لیے انھیں پہلی بیوی سے علیحدگی کا دستاویز چاہیے تھا،اس غرض سے انھوں نے واشنگٹن میں موجود سعودی سفارتخانے سے رجوع کیا؛ لیکن سفارتی اہلکاروں نے انھیں اسطنبول میں موجود سعودی قونصلیٹ سے رابطہ قائم کرنے کو کہا،گویا سازش کا تانا بانا پہلے ہی سے بُنا جارہا تھا؛چنانچہ اسطنبول میں موجود سعودی قونصلیٹ سے انھوں نے رابطہ قائم کیا اوراس پوری کاروائی کو اپنے وکیل کے ذریعے پوری کرانے کی خواہش ظاہر کی؛ لیکن سعودی قونصلیٹ نے ان پر ذاتی طور پر حاضر ہونے کی شرط عائد کردی ۔
سعوی قونصلیٹ میں ان سے پیپر جمع کروالیے گئے اور دستاویز کی حصولیابی کے لیے 28 ستمبر کی تاریخ متعین کردی گئی ۔اگلے روز کسی ہوٹل کے ایک پروگرام میں جمال سعودی عرب کے موجودہ حالات کے تناظر میں سیاسی اسلام میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں ، اسلام پسندوں کے خلاف ٹرمپ کی مہم جوئی پر اپنالکچر دے رہے تھے اور تصویر کو صاف کرنے کی غرض سے واشنگٹن کے ساتھ بات چیت شروع کرنے پر زور دے رہے تھے، ابھی وہ اپنی گفتگو ختم بھی نہ کرپائے تھے کہ بغل کے ہال سے، جہاں ایک شادی کی تقریب چل رہی تھی، میوزک کاشور سنائی دینے لگا اور بالآخر جمال نے یہ کہتے ہوئے اپنی گفتگو ختم کی کہ:
اس طرح اس جلسے کا اختتام ہوتا ہے، نئے جوڑے کو شادی بہت بہت مبارک ہو”۔ان کی یہ بات سن کر مجمع ہنس پڑا ۔
ہال سے باہر نکل کر جمال اپنے دوستوں کے ساتھ سعودی عرب میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں پر گفتگو کرنے لگے، جمال کا کہنا تھا کہ” محمد بن سلمان سعودی حکومت کے تینوں ستون:وہابی علماکے ساتھ تعلقات،آل سعود کے آپسی اتحاد
اور حکومت کے اپنے عوام پر اخراجات کی ایک نئی صورت گری کررہے ہیں؛ لیکن شاہی خاندان بڑی مضبوط روایات پر قائم ہے اور اس کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ وہ لوگ اپنے حاکم کا بڑا احترام کرتے ہیں ۔
28 ستمبر 2018 کو ایک بار پھر دستاویز حاصل کرنے کی غرض سے جمال سعودی قونصلیٹ میں حاضر ہوئے، تھوڑی دیر انتظار کرنے کے بعد انھیں بتایا گیا کہ دستاویزات ابھی تیار نہیں ہیں؛ اس لیے انھیں چند دن اور انتظار کرنا پڑے گا ۔
اس کے اگلی صبح یعنی 29 ستمبرکو وہ ایک پروگرام میں شرکت کی غرض سے لندن میں موجود تھے، جس کا عنوان تھا "اوسلو معاہدے کے پچیس سال بعد امن وسلامتی کا مستقبل”،
جمال نے وہاں سے سعودی قونصلیٹ کو فون کیا کہ کیا دستاویز تیار ہے ؟
قونصلیٹ کے ذمے داران نے دستاویز دینے کے لیے 2 اکتوبر 2018 کو ڈیڑھ بجے دن کا وقت متعین کیا اور کہا کہ وہ خود آکر اپنے کاغذات لے جائیں ۔
جمال ایک اکتوبر کو لندن سے اسطنبول کے لیے روانہ ہوگئے؛ لیکن انھوں نے اپنے چند قریبی دوستوں سے کہا کہ قونصلیٹ جس طرح مجھ سے برتاؤ کررہا ہے،اس سے میرے من میں کچھ شکوک وشبہات پیدا ہورہے ہیں؛ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ میرا ملک ہے اور یہ لوگ میرے ساتھ ویسا برتاؤ نہیں کریں گے، جیسا کہ وہ اپنے مخالفین کے ساتھ اب تک کرتے آئے ہیں ۔
اکتوبر 2018 کی دوپہر جمال اپنی منگیتر خدیجہ جہانگیر کے ہمراہ سعودی قونصلیٹ کے لیے روانہ ہوگئے، قونصلیٹ کے دروازے سے تھوڑے سے فاصلے پر اپنی گاڑی روکی ، اپنا موبائل ان کےحوالے کرتے ہوئے کہا کہ دیکھو اگر تمہیں کچھ بھی محسوس ہو کہ میرے ساتھ برا ہورہا ہے، تو جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے صدر کے مشیر یسین اکتائی اور عرب ترک میڈیا ایسوسی ایشن کو خبر کردینا ۔
خدیجہ نے جمال کو آخری بار حسرت بھری نظروں سے دیکھا، اس کے بعد وہ قونصلیٹ کے دروازے کو پار کرتا ہوا اس کی نگاہوں سے اوجھل ہوگیا،
خدیجہ جمال کے انتظار میں بیٹھی بار بار قونصلیٹ کے دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی، تین گھنٹے گزر گئے؛ لیکن جمال کا کوئی اتا پتہ نہیں تھا، اس کی بے چینی بڑھتی جارہی تھی،وہ لپک کر سیکورٹی گارڈ کے پاس پہنچی اور جمال کے بارے میں دریافت کیا، اس نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا کہ بلڈنگ کے اندر کوئی بھی موجود نہیں ہے؛ لیکن خدیجہ نے تو اسے اپنی آنکھوں سے اندر جاتے ہوئے دیکھا تھا،اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں، اس نے بے ساختہ قونصلیٹ کے نمبر پر فون ملادیااور جمال کے بارے میں پوچھا، تھوڑی دیر کے بعد ایک سعودی نوجوان بلڈنگ سے باہر آیا اور کہنے لگا کہ بلڈنگ کے اندر تو کوئی بھی نہیں ہے اور اب تو ڈیوٹی کا وقت بھی ختم ہوچکا ہے؛ اس لیے اب آپ کو بھی یہاں ٹھہرنے کی اجازت نہیں ہے، خدیجہ نے چاہا کہ وہ بلڈنگ کے اندر جاکر اپنی تسلی کرلے؛لیکن کمزور آوازوں کی سنوائی کہاں ۔
جمال انسانی آنکھوں سے ضرور اوجھل ہوگئے تھے؛ لیکن وہ میڈیا کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوئے تھے،دوسرے دن وہ سوشل میڈیا،الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا اور ہر عام و خاص کی گفتگو کا موضوع بن چکے تھے؛ کیونکہ وہ اپنے پیچھے بہت سارے سوالات چھوڑ گئے تھے ۔
کیا جمال اب تک قونصلیٹ کے اندر ہیں یا اس سے باہر نکل چکے ہیں؟
کیا انھیں خفیہ طریقوں سے سعودی عرب منقل کردیا گیا ہے ؟
کیا انھیں قتل کرکے کسی نامعلوم جگہ دفنا دیا گیا ہے؟
انہی سوالات کے غبار سے کچھ ایسی خبریں موصول ہونا شروع ہوگئیں،جنھوں نے عام آدمی کے ہوش اڑادیے ۔
خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق اسی دن یعنی دو اکتوبر کی صبح اتاترک ائرپورٹ پر دو پرائیویٹ جیٹ اترے،ان میں سے ایک دبئی سے آیا تھا اور دوسرا مصر سے ،ان دونوں جہازوں میں پندرہ افراد پر مشتمل سعودی تحقیقاتی ٹیم سوار تھی، جمال خاشقجی کے قونصلیٹ پہنچنے سے قبل ہی وہ لوگ اندر براجمان تھے، دراصل اس سازش کے تانے بانے اسی وقت سے شروع ہوگئے تھے، جب جمال پہلی مرتبہ ستمبر کے وسط میں قونصلیٹ گئے تھے ، پوری ٹیم قونصلیٹ کے اندر چند گھنٹے گزارنے کے بعد اسی دن اسی راستے سے وہاں لوٹ گئی، جہاں سے وہ آئی تھی ۔
ترکی انٹلی جنس رپورٹ کے مطابق قونصلیٹ کے اندر انہی لوگوں نے جمال کا استقبال کیا اور پھر انھیں اندر لے گئے اور تحقیقات کے نام پر اذیت ناک تعذیب کا سلسلہ شروع کردیا، اتفاق سے اس وقت جمال کے ہاتھ میں اپل گھڑی( Apple watch )تھی،جمال نے موقع پاتے ہی دھیرے سے اس کی ریکارڈنگ آن کردی،سعودی ولی عہد کے شیطانی کارندے تحقیقات کے نام پر حیوانیت کا مظاہرہ کررہے تھے، تھوڑی ہی دیر میں ان انسانی درندوں کو اندازہ ہوگیا کہ ان کی حیوانیت وقت کے نبض پر ریکارڈ ہورہی ہے، انھوں نے اسے مٹانے کی بہت کوشش کی؛ لیکن کامیابی نہیں مل رہی تھی، اسی اثنا میں درد و تکلیف کی تاب نہ لاکر جمال کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی،جمال کی وفات کے بعد اس کی بے جان انگلیوں کی مدد سے اس کی گھڑی کو ڈی کوڈ کرنے کی کوشش کی گئی اور بالآخر وہ گھڑی سے ریکارڈنگ مٹانے میں کامیاب ہوگئے؛لیکن مجرم چاہے جتنا بھی چالاک ہو، وہ کہیں نہ کہیں اپنے گناہوں کے نشانات چھوڑ ہی دیتا ہے، اس وقت تک وہ ریکارڈنگ اپل آئی کلاؤڈ (apple icloud )میں محفوظ ہوچکی تھی، جسے مٹایا نہیں جاسکا تھا، ترکی انٹلی جنس بڑی چابک دستی کے ساتھ اسے بطور ثبوت محفوظ کرنے میں کامیاب ہوگئی:
لاکھ بیٹھے کوئی چھپ چھپ کے کمیں گاہوں میں
خون خود دے دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سراغ
سازشیں لاکھ اڑاتی رہیں ظلمت کی نقاب
لے کے ہر بوند ہتھیلی پہ نکلتی ہے چراغ
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے بہتا ہے تو جم جاتا ہے
تم نے جس خون کو مقتل میں دبانا چاہا
آج وہ کوچہ وبازار میں آنکلا ہے
کہیں شعلہ کہیں نعرہ کہیں پتھر بن کر
خون چلتا ہے تو رکتا نہیں سنگینوں سے
سر اٹھاتا ہے تو دبتا نہیں آئینوں سے
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
جمال کو موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں کی طرح ان کے جسم کو آری سے چیرا گیا، اس کے ٹکڑے کیے گئےاور پھر اس کی ویڈیو بنا کر سعودی عرب میں کسی نامعلوم شخص کو رپورٹنگ کی گئی، ایک رپورٹ کے مطابق اس دن ایک ایسے ڈرائیور کی خدمات حاصل کی گئی تھیں،جو سفارت خانے کا ملازم نہیں تھا، اس نے لاش کے منتشر اجزاکو اکٹھا کرکے ایک صندوق میں بھرا اور اسے سفارتخانے کی ایک کالی گاڑی میں لاد کر کسی نا معلوم جگہ لے گیا اور اسے ٹھکا نے لگا دیا، ایک دوسرے اندازے کے مطابق قونصلیٹ اور قونصلر کے گھر کے اندر ہی جمال کی لاش کے ٹکڑوں کو زمین کھود کر دفن کردیا گیا اور پھر اوپر سے ماربل لگا دیا گیا،شاید یہی وجہ ہےکہ ترکی حکومت کی تحقیقات کے ضمن میں زمین کھودے جانے کے لیے سعودی حکومت کسی طرح رضامند نہیں ہے ۔
اگر یہ سانحہ عظیم ترکی کے علاوہ کسی اور غریب ملک میں ہوا ہوتا، تو شاید دولت کے نشے میں دُھت سعودی حکومت معاملہ کو دبا نے میں کامیاب ہوجاتی؛ لیکن اس بار مرد مجاہد رجب طیب اردوغان سے انھیں پالاپڑا ہے ، معاملے کی تحقیقات کے لیے جب ترکی صدر رجب طیب اردوغان نے محمد بن سلمان کو فون کیا،تووہ جواب دینے سے صاف مکر گیا اور بولا کہ ہمیں اس معاملے کی مطلق کوئی خبر نہیں ،اردوغان خاموش نہیں رہ سکتے تھے، انھوں نے جنیوا معاہدےکی رو سے قونصلیٹ کی تفتیش کے لیے سعودی حکومت پر دباؤ ڈالا،تب مجبور ہوکر سعودی حکومت نے جمال کے قتل کا اعتراف کیااور ایک اور جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے یہ کہا کہ افسران کو صرف پوچھ تاچھ کی اجازت تھی، جان سے ماردینے کی نہیں اور یہ کہ جن لوگوں نے یہ کیاہے،ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی،اس کے بعد آنا فانا سعودی حکومت نے اس جرم کی تمام کڑیوں کو واپس اپنے پاس بلا لیا؛تاکہ تحقیقاتی ایجنسیوں کو ثبوت نہ مل سکےـ
جمال کے قتل نے جاہلیت کی ساری یادیں تازہ کردیں،اتنی وحشت و بربریت کا مظاہرہ تو شاید جنگلی قومیں بھی نہیں کرتیں ، کیا اقتدار کی لالچ اور طاقت کا نشہ اتنا بے رحم ہوسکتا ہے کہ وہ انسانی اخلاقیات کی ساری حدوں کو پار کرجائے؟
آخر جمال خاشقجی کا قصور کیا تھا ؟
یہی نا کہ وہ سعودی حکومت کی نئی پالیسیوں سے ناخوش تھے، وہ شہزادہ محمد بن سلمان پر تنقید کرتے تھے،وہ سعودی عرب اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تعلقات سے ناخوش تھے،وہ قطر کے ناجائز محاصرے کے خلاف تھے، وہ قومی دولت کے ناجائز اخراجات سے دکھی تھے، وہ علما،دانشور،مصلحین اور سوشل میڈیا میں سرگرم عمل رہنے والے بعض لوگوں کی گرفتاریوں پر بے چین تھے،ان میں سے بعض ان کے قریبی دوست بھی تھے،اس صورت حال نے ان کے ضمیر کو بے چین کررکھا تھا،وہ زیادہ دنوں تک خاموش تماشائی بن کر نہیں رہ سکتے تھے، ان کا دم گھٹ رہا تھا،آخر ان مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرنے کے لیے انھوں نے وطن چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا ۔
18 ستمبر2017 کو جمال نے اپنےایک کالم میں لکھا تھا کہ
"ولی عہد محمد بن سلمان نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے کے ساتھ ہی یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ سماجی اور معاشی اصلاحات کریں گے اور ایسے اقدامات کریں گے، جس سے ہمارے ملک میں آزادی اور رواداری کو مزید بڑھاوا ملے گا اور ان مسائل کو حل کریں گے، جو ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں،جیسے خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی کا مسئلہ وغیرہ؛لیکن جو میں دیکھ رہا ہوں،وہ گرفتاریوں کا ایک سیل ہے،گزشتہ ہفتہ نشر ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق محمد بن سلمان کے اقتدار پر متمکن ہونے سے ذرا پہلے حکومت نے تیس لوگوں کو گرفتار کیا،ان میں بعض میرے دوست تھے،جنھیں میں اچھی طرح جانتا ہوں، یہ ساری کاروائیاں ان دانشوروں اور علماے کرام کی کھلی ہوئی توہین ہے،جو مقتدر طبقہ کی رائے کے خلاف اپنی رائے کے اظہار کی جرأت کرتے ہیں ۔
یہ معاملہ میرے لیے اس وقت اور زیادہ تکلیف دہ تھا، جب چند سالوں قبل میرے کچھ دوستوں کو گرفتار کرلیا گیا تھا؛ لیکن اس وقت میں اپنی قوت گویائی کو لبِ اظہار نہ دے سکا تھا؛کیونکہ میں اپنی نوکری اور اپنی آزادی کھونا نہیں چاہتا تھا اور اپنے اہل وعیال کو لے کر بہت فکرمند تھا؛لیکن میں نے ایک دوسرا راستہ چنا ، میں نے اپنا وطن،گھر بار،نوکری چاکری سب کچھ چھوڑدیااور اب میں اپنی آواز بلند کرسکتا ہوں؛اس لیے کہ اگر ایسا نہ کیا جاتا،توجیل میں قید لوگوں کے ساتھ بڑی خیانت ہوتی،اب میرے لیے وہ باتیں کرنا ممکن ہے، جو شاید دوسروں کے لیے ممکن نہیں ہے، میں آپ سب کو بتانا چاہتا ہوں کہ سعودی عرب ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا، جیسا کہ اسوقت ہے، حالانکہ ہم سعودی خوب سے خوب تر کے سزاوارہیں” ۔
جمال کو قلم کا سودا کرنا منظور نہیں تھا اور شہزادے کو حق بات سننا پسند نہیں تھا، آخر کار جب وہ جمال کے قلم کو نہیں خرید سکا،تو اس نے اس قلم کو توڑ ڈالا ۔
اللہ نے چاہا تو جمال کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا:
مرے جنوں کا نتیجہ ضرور نکلےگا
اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا
(امیر قزلباش)
لیکن شہزادے کو معلوم ہونا چاہیے کہ ظلم کا انجام اچھا نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کی عمر بہت لمبی ہوتی ہے اس نے اپنے اوپر ایک ایسا داغ لگالیا ہے، جسے وہ تا حیات مٹا نہیں سکتا،
اس کا تنہا یہ منحوس عمل اس کی زندگی کے تمام کارناموں پر پانی پھیرنے کے لیے کافی ہے۔