Home نظم جلوۂ افرنگ

جلوۂ افرنگ

by قندیل

تازہ ترین، سلسلہ 80

فضیل احمد ناصری

شمشیر نہیں،تیر نہیں،سنگ نہیں ہے
شاید کہ ترا خون حنا رنگ نہیں ہے

کچھ تم ہی قناعت کےپرستار ہو،ورنہ
دنیاکی فضاآج بھی کچھ تنگ نہیں ہے

اے مردِ خدا! کوئی بہانے نہ بناؤ
مقبول مجھے معذرتِ لنگ نہیں ہے

سمجھےنہ اگرکچھ توخطاکار ہےتو ہی
کفار سے کس روز تری جنگ نہیں ہے

تعلیمِ محمدؑ نہ دلوں میں، نہ عمل میں
کس گھر میں مگر جلوۂ افرنگ نہیں ہے

یہ دین مٹا تھا، نہ مٹا ہے، نہ مٹے گا
بوجہل! یہ دجال کا اورنگ نہیں ہے

اسکول ہو، کالج ہو، نشستوں کی فضا ہو
اسلام ہے، اسلام کا آہنگ نہیں ہے

میں طرزِ مسلماں سے پریشان ہوں یارب!
جیتےہیں،مگراس کاکوئی ڈھنگ نہیں ہے

تقدیس کے پردے نے چھپایا ہے، وگرنہ
ہے کون جو ملت کے لیے ننگ نہیں ہے

You may also like

1 comment

سعید الرحمن سعدی 5 جنوری, 2018 - 22:54

ماشاءاللہ
آخری شعر کی آنچ کافی تیز ہوگئی ہے،خیال رہے کہ اس کی لپیٹ میں "مستحق غائب” کے ساتھ ساتھ غیر مستحق اور بے قصور "مخاطب” ؛ بلکہ خود "متکلم” کا دامن بھی آسکتا ہے۔

Leave a Comment