’جشنِ وراثتِ اردو ‘میں’غالب کے خطوط ‘کی ڈرامائی پیش کش 

خطوط غالب کی اہمیت وافادیت سدابہار ہے:شہپررسول
اردو اکادمی ،دہلی کے زیر اہتمام سینٹرل پارک ،کناٹ پلیس میں چھ روزہ ’ جشن وراثت اردو ‘میں اقبال احمد خاں کے سُراور تال سے مہکی رات
نئی دہلی:19۔فروری(قندیل نیوز)


اردو اکادمی ،دہلی کے زیراہتمام جاری’ جشن وراثت اردو‘ کے پانچویں روز کا باضابطہ آغازدلی کے اردو اسکولوں کے طلبا وطالبات نے ٹیلنٹ گروپ ،دہلی کے تحت’ قصہ الف لیلیٰ ۔قصوں کا خزانہ‘پیش کیا ۔اس پروگرام میں اسکولی طلبا وطالبات نے شاندار مظاہرہ کیا ،جس سے سامعین نہ صرف قصہ الف لیلیٰ سے واقف ہوئے بلکہ انہوں نے یہ بھی محسوس کیا کہ اس قصے کی اہمیت کیا ہے ۔جشن وراثت اردو کے آغاز سے ہی ٹیلنٹ گروپ ،دہلی کے فن کار بچے کامیابی کے ساتھ ہر دن ایک قصہ پیش کررہے ہیں ۔اس سے ان بچوں کی جھجک بھی دور ہورہی ہے اور سامعین کو جشن وراثت اردو میں تنوع کا بھی احساس ہورہاہے ۔بچوں کے پروگرام کے بعد قوالی کی دنیا میں شہرت رکھنے والے بدایوں کے قوال دانش حسین خان نے شاندار کلام پیش کرکے سامعین کا دل جیت لیا ۔کھلتی چمکتی دھوپ میں سامعین نے قوالی کا بھرپور لطف اٹھایا ۔انہوں نے اپنے پروگرام میں بہت ہی منتخب کلام پیش کیے اور قوالی کو بہت ہی اعتدال اور توازن کے ساتھ پیش کیا۔ اس موقع پر دلی حکومت کے سماجی فلاح وبہبودکے وزیر راجندرپال گوتم نے قوال دانش حسین خان کو گلدستہ پیش کرکے ان کا استقبال کیا ۔وہیں دلی حکومت کے محکمۂ فن ،ثقافت اور السنہ کی سکریٹری منیشا سکسینہ نے دلی حکومت کے وزیر راجندرپال گوتم کو گلدستہ پیش کرکے جشن وراثت اردو میں ان کا استقبال کیا اور اردو اکادمی ،دہلی کے اسسٹنٹ سکریٹری مستحسن احمد نے محکمہ فن ،ثقافت والسنہ کی سکریٹری منیشاسکسینہ کو گلدستہ پیش کرکے جشن وراثت اردو میں ان کا خیرمقدم کیا ۔اس موقع پر قوالی سن کر دلی حکومت کے وزیر راجندرپال گوتم اور فن ،ثقافت والسنہ کی سکریٹری منیشا سکسینہ نے اپنی مسرت کا اظہارکیا ۔


محفل قوالی کے بعد برصغیر ایشیا کے نامور اور منفرد لب ولہجے کے شاعر ونثر نگار مرزا اسداللہ خاں غالب کے خطوط کی ڈرامائی پیش کش ڈاکٹر ایم۔ سعید عالم کی ہدایت میں ہوئی ۔پیروز ٹروپ ،دہلی کی ڈرامائی پیش کش ’غالب کے خطوط ‘میں غالب کے عہد کی شخصیات اور ان کے رفیقوں کی پوری ٹیم موجود تھی ،بالخصوص وہ نامور لوگ، جنہیں غالب خطوط لکھا کرتے تھے ۔انہوں نے غالب کے خطوط پیش کیے ۔ڈیڑھ گھنٹے کی اس پیش کش میں سننے ،دیکھنے اور محسوس کرنے کے لیے بہت سی چیزیں تھیں ،جن سے نوجوان نسل نے حظ حاصل کیا ۔دس بارہ افراد پر مشتمل ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ایم سعید عالم نے غالب کے مختلف دوستوں کاکردار اداکیا ۔اس پروگرام کی پیش کش پر پوری ٹیم کو سامعین نے داد وتحسین سے نوازا۔ اردوکادمی کے وائس چیئرمین پروفیسر شہپررسول و صدرشعبہ اردو ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کہاکہ غالب کے خطوط ہمیں غالب کے عہد میں پہنچادیتے ہیں ۔ غالب نے مراسلے کو مکالمہ بنادیا ۔ان کے خطوط کی اہمیت ہمیشہ تھی اور خطوط کے عہد کے خاتمے کے بعد اب بھی ہے اور ان خطوط کے انداز وادائیگییہ یقین دلاتے ہیں کہ ان کی اہمیت آئندہ بھی باقی رہے گی ۔مجھے حیرت ہوتی ہے کہ غالب جیسا عظیم شاعر صرف شاعری تک محدود نہیں ہے ۔ان کا دائرۂ کار نثر تک پہنچتا ہے انہوں نے نثر کے فروغ میں بھی ناقابل فراموش کردار اداکیے ہیں ۔غالب کے خطوط کی بقا کا راز ان کی برجستگی ،غیرتصنع پسندی ،مراسلے کو مکالمہ بنانے کا ہنر ہے ،جہاں سادگی میں پرکاری ہے ،سامنے کے الفاظ اور دہلوی محاوروں کا پرکشش استعمال ہے ۔غالب غیرمنقسم ہندوستان کا لیجنڈہے،جس کی شخصیت ،فن اور عظمت ہمیشہ برقراررہے گی ۔اس موقع پر’غالب کے خطوط ‘کی ڈرامائی پیش کش کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ایم سعید عالم کو گلدستہ پیش کرکے ان کی حوصلہ افزائی کی گئی ۔غالب کے خطوط کی پیش کش کے بعد ممبئی کے معروف غزل گائک اورجگجیت سنگھ کے شاگردتوصیف خان نے شام غزل میں غزلیں پیش کیں ۔انہوں نے اپنے پروگرام میں جگجیت سنگھ کی یاد دلادی ۔اس موقع پر انہوں نے جگجیت سنگھ کے انداز میں ان کے کلیکشن سے بھی فائدہ اٹھایااور غالب کی غزلیں بھی پیش کیں ۔شام غزل وصوفی محفل میں راج کماررضوی اور نیہارضوی نے کلام پیش کیے ۔ان دونوں نے بھی اپنے اچھوتے اور نرالے انداز سے سامعین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ۔’جشن وراثت اردو‘کے پانچویں روز کا آخری پروگرام دہلوی گھرانے کے استاداقبال احمدخان نے پیش کیا ۔صوفی کلاسیکل موسیقی کی محفل میں اقبال خان نے اپنے تجربات سے لوگوں کو محظوظ کیا ۔یہ بھی ایک اتفاق تھا کہ ایک طرف’ جشن وراثت اردو‘کے پانچویں روز جہاں دہلی کے غالب کے خطوط پیش کیے گئے تو دوسری جانب دہلوی گھرانے کے استاد اقبال خان نے محفل کو اپنے سر اور تال سے جیت لیا ۔


خیال رہے کہ جشن وراثت اردو کے پانچویں روزبھی شرکت کرنے والے تمام فنکاروں کو اکادمی کی طرف سے گلدستے پیش کیے گئے ۔ممتاز ادیب اور ساہتیہ کلاپریشد کے رکن دلیپ کمار پانڈے نے پروگرام میں شرکت اور فنکاروں کو گلدستے پیش کرتے ہوئے اپنی مسرت کااظہار کیا اور اس طرح کے پروگرام کے کامیاب انعقاد پر اردو اکادمی،دہلی کو مبارکباد پیش کی۔ اردو اکادمی ،دہلی کے سکریٹری ایس ایم علی نے سامعین ،فن کاروں اور معزز حضرات ومہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ جشن وراثت اردوجیسے جیسے اپنے اختتام کی طرف گامزن ہے ،دہلی کے باشندوں کی بھیڑ یہاں بڑھ رہی ہے ۔اس سے دہلی کے لوگوں کی فن ،ثقافت اور زبان سے دلچسپی کا اندازہ لگایاجاسکتا ہے ۔دہلی میں بسنت کی شاموں کا آپ سب لطف اٹھارہے ہیں ۔یہ میرے لیے اوراکادمی کے لیے اطمینان کا سبب ہے ۔میں آپ سب کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ اداکرتاہوں کہ آپ سب’ جشن وراثت اردو‘کو کامیاب بنانے میں اکادمی کے شانہ بہ شانہ چل رہے ہیں ۔دیگر دنوں کی طرح آج بھی اطہرسعید اور ریشما فاروقی نے کامیاب نظامت کی ۔انہوں نے تمام فن کاروں کا تعارف کرایا اور سامعین کو ذہنی طورپر پروگرام میں رہنے اور اسے سننے کے لیے تیارکیا ۔