جسٹس رنجن گگوئی کی صاف صاف باتیں


عبدالعزیز
ملک اور سپریم کورٹ کی خوش قسمتی کہی جائے گی کہ آج کے بحرانی دور میں جسٹس رنجن گگوئی جیسی شخصیت نے آج (3 اکتوبر کو) چیف جسٹس آف انڈیا کا منصب سنبھال لیا۔ جسٹس گگوئی سپریم کورٹ کے اُن چار ججوں میں سے ایک ہیں ،جنھوں نے 12جنوری 2018ء کو ایک پریس کانفرنس کو دہلی میں جسٹس چیلمیشور کی رہائش گاہ پر خطاب کیا تھا، جسٹس کورین جوزف اور جسٹس مدن لوکر نے بھی کانفرنس کو باری باری خطاب کیاتھا۔ جسٹس چیلمیشور پریس کانفرنس کے چند ماہ بعد ریٹائر ہوگئے، جسٹس گگوئی متوقع چیف جسٹس آف انڈیا تھے، انھوں نے کوئی پرواہ نہیں کی کہ چیف جسٹس کا اعلیٰ عہدہ ان کے لیے کانفرنس میں شرکت کی وجہ سے متنازع بن جائے گا اورکہیں وہ اس اعلیٰ منصب سے محروم نہ کر دیئے جائیں، یہ اتنی بڑی بات تھی، جو آج کے دور میں لاکھوں میں کیا، کروڑوں میں بھی کوئی ایک کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا، بہر حال ان میں اس قدر قابلیت تھی کہ نہ سابق چیف جسٹس دیپک مشرا کی سفارش ان کے آڑے آئی اور نہ ہی حکومت ہند کو ہمت ہوئی کہ وہ اڑچن پیدا کرسکے،بالآخر آج انھوں نے حلف وفاداری کی رسم بھی پوری کرلی اور چیف جسٹس آف انڈیا ہوگئے، ملک کے وہ سارے لوگ جو حق و انصاف چاہتے ہیں اور حق و انصاف دلانا چاہتے ہیں، نا انصافی اور حق تلفی کے خلاف ہیں، آزادی اور حریت کے شیدائی ہیں، وہ یقیناًجسٹس رنجن گگوئی کا استقبال کریں گے اور توقع رکھیں گے کہ سپریم کورٹ سے لوگوں کو انصاف ملے۔
جسٹس رنجن گگوئی نے گزشتہ روز (یکم اکتوبر2018ء کو) سبکدوش چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا کی الوداعی تقریب میں جو تقریر کی ہے، اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ انصاف کی کرسی پر بیٹھ کر وہ کسی کو بھی خاطر میں نہیں لائیں گے، جو قانون اور آئین ہے ،اس کی روشنی میں منصفانہ فیصلہ کریں گے، خواہ کسی کو کتنا ہی ناگوار گزرے، خاص طور سے حکومتِ وقت کو جو عدلیہ پراثر انداز ہونا چاہتی ہے، اس کو بھی خاطر میں نہیں لائیں گے اور اس کی زیادتیوں اور نا انصافیوں کے خلاف فیصلہ کرنے میں کسی پس و پیش سے کام نہیں لیں گے، اپنی تقریر میں چیف جسٹس آف انڈیا نے صاف صاف کہہ دیا کہ اخلاقی دستور کا پورا پورا دباؤ اور غلبہ ہوگا۔
جسٹس رنجن گگوئی نے کہاکہ مجھے کچھ اور کہنے دیجیے، اس وقت ہم لوگ سیاسی بحران کے دور میں رہ رہے ہیں، خیالات اور آرا کی کثرت ہے، جس کی وجہ سے بقائے باہمی اور وجودِ باہمی کے تعلق سے تصادم اور تنازع ہے، ہم لوگ پہلے سے بھی زیادہ ذات پات، مختلف درجات، صنف، مذہب اور نظریات میں بٹے ہوئے ہیں، ہم لوگوں میں مختلف فرقے ، مذہب پائے جاتے ہیں، جو کسی حال میں چھوڑ نہیں سکتے، ہر ایک کو اپنی شناخت اور پہچان عزیز ہے، جس کی وجہ سے آج یہ چھوٹا اور معمولی مسئلہ نہیں رہ گیا ہے کہ ہم کیا پہنیں؟ کیا کھائیں پئیں؟ کیا کہیں اور کیا پڑھیں؟ جسٹس گگوئی نے آگے کہا کہ کچھ ایسے ایشوز ہیں ،جن کو حل کرکے ہم شناخت اور پہچان کے مقصد کو پورا کرسکتے ہیں ،جس سے ہماری جمہوریت کو جلا ملے گی۔ایسے ایشوز ہیں، جو ہمیں اک دوسرے سے الگ کرتے ہیں، دور کرتے ہیں اور نفرت اور کدورت کو ہوا دیتے ہیں۔ محض اس بنیاد پر ہم ایک دوسرے سے مختلف مذاہب اور نظریہ کے ماننے والے ہیں، اس کے جواب کے لیے ہر ایک کو دستور کے اندر جواب تلاش کرنا ہوگا، ادھر ادھر دیکھنا نہیں ہوگا، ہمارے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ ہم ایسے وژن کی تعمیر کریں اور تحفظ کریں، جن سے مشترکہ نظریۂ حیات سامنے آئے، جو ہمیں ایک فرقہ میں باندھ سکے، ایسے ویژن کی تلاش ضروری ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا دستور یہ کام انجام دے سکتا ہے؛ بشرطیکہ ہم دستور کی قدریں سمجھنے اور برتنے کی کوشش کریں، اسے برتنے یا ماننے کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اپنے ذاتی نظریات و افکار سے دستبردارہوجائیں، ہمارا ذاتی نظریہ اور ایمان ضروری ہے، ہم اس پرضرورکاربند رہیں، دستور کی طرف سے اس کی ممانعت ہر گز نہیں ہے، البتہ جہاں بھی شک پیداوہوگا، تنازعہ اور تصادم ہوگا، وہاں ہمیں دستور کی اخلاقیات کو غالب کرنا ہوگا،یہی دستور کے ساتھ سچی اور قابل قدر محبت ہوگی، دستوری ایشوز کو سیاست کے اہم ایشوز اور مسائل سے جدا رکھنا ہوگا۔
آج کے حالات میں ہمارا کمٹمنٹ (پابندیِ عہد) سوالیہ نشان بنا ہوا ہے، میں یہ کہنے کے لیے آزاد ہوں کہ ہمارا عہد و پیمان برقرار رہنا ضروری ہے؛ کیونکہ ہم اور آپ ایک ہی فرقہ کے حصے ہیں، ہم یہ نہیں سمجھتے ہیں کہ دستور نے ہمیں سخت گیری عطا کی ہے؛ بلکہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ اصول اور طریقۂ کار ایسے ہیں ،جن کی مدد سے ہم جواب دے سکتے ہیں۔ ہمارا دستور قابلِ عمل، لچکدار اور مضبوط و مستحکم ہے اور یہ صلاحیت رکھتاہے کہ ملک کو متحد رکھ سکے ، خواہ زمانۂ جنگ میں ہو یا زمانۂ امن میں، اس سفر میں ہمیں اور آپ کو حق و انصاف کا محافظ اور نگراں رہنا ضروری ہے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068