جسٹس رنجن گگوئی کی بڑی آزمائش

عبدالعزیز
سپریم کورٹ کی تاریخ میں دو تین ہی جج اپنے کیریئر اور مستقبل کو داؤ پر لگاکر جمہوریت اور عدلیہ کے تحفظ و بقا کیلئے آگے آئے ہیں، ان میں سے ایک جسٹس رنجن گگوئی ہیں ،جو اس وقت خوش قسمتی سے ملک کی سب سے بڑی عدالت کے چیف جسٹس ہیں،جب 18 جنوری کی کانفرنس میں اپنے تین سینئر ججوں کے ساتھ جسٹس گگوئی نے پریس کانفرنس کو خطاب کیا تھا، تو ان چاروں میں سب سے زیادہ ہمت اور دلیری کا مظاہرہ رنجن گگوئی نے ہی کیا تھا؛ کیونکہ ان کو دس مہینے بعد چیف جسٹس آف انڈیا کا عہدہ سنبھالنا تھا اور حکومت کے خلاف منہ کھولنے کی وجہ سے انھیں اس عہدے سے محرومی بھی ہوسکتی تھی، اس کا ذرا بھی خیال نہیں کیا، اتنے بڑے عہدے کو سچائی اور صداقت کیلئے قربان کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے اور نہ ہی کوئی معمولی آدمی ایسی ہمت اور دلیری دکھا سکتا ہے، جسٹس رنجن گگوئی نے کئی مقدمات میں بہت بڑے اور مثالی فیصلے بھی جسٹس آف انڈیا بننے سے پہلے کیے ہیں، اپنے ان فیصلوں کیلئے بھی وہ جانے جاتے ہیں۔
اس وقت پہلی آزمایش ان کی سی بی آئی کے معاملے میں آن پڑی ہے، جس میں حکومت براہ راست ملوث ہے،سی بی آئی کے ڈائرکٹر آلوک ورما کو حکومت ایک نظر بھی بھا نہیں رہی تھی؛ کیونکہ آلوک ورما رافیل سودے کی انکوائری کرنے کا مزاج بناچکے تھے اور پرشانت بھوشن و ارون شوری کے مطالبات پر غور و خوض کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی اور دوسراکام یہ کیا تھا کہ نریندر مودی کے چہیتے افسر راکیش استھانہ کے خلاف رشوت خوری کے معاملے میں ایف آئی آر درج کیا تھا، یہ دو ایسے اقدام تھے، جن کی وجہ سے 23-24 اکتوبر کی رات کے 2بجے ڈرامائی انداز سے سی بی آئی پرہیڈکوارٹر پر حکومت کے عملے نے چھاپہ مار کر ڈائرکٹر اور اسپیشل ڈائرکٹر کے دفتروں کو سر بمہر کر دیا اور دونوں کو جبریہ چھٹی دے دی، معاملہ سپریم کورٹ میں سی بی آئی ڈائرکٹر کی درخواست پر پیش ہوا ،مگر گیہوں کے ساتھ گھن کو بھی پیس دیا گیا کے مصداق راکیش استھانہ کے ساتھ ڈائرکٹر آلوک ورما کے خلاف بھی انکوائری کا حکم صادر کر دیا گیا، جبکہ ان کا قصور اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ موصوف رافیل ڈیل کے معاملے کی انکوائری کرنا چاہتے تھے اور استھانہ کے خلاف قانونی کاروائی کے حق میں تھے ؛کیونکہ اس نے ان کے مطابق معین قریشی کے معاملے میں مجرم کو راحت پہنچانے کے عوض تین کروڑ روپے رشوت کھائی تھی، میڈیا اور حکومت کے پروردہ سی بی آئی کے اندر لڑائی کی بات کر رہے ہیں، جبکہ اصلاًیہ لڑائی نہیں، حقائق کو چھپانے یا ان پر پردہ ڈالنے کی بات ہے۔
آج کی خبر کے مطابق افسر اجے کمار باسی، جنھیں حکومت اور سی وی سی نے پورٹ بلیئر رات کے اندھیرے میں ٹرانسفر کر دیا ہے، انھوں نے سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کر دیا ہے کہ ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے، انھیں ڈرایا دھمکایا جارہا ہے کہ اگر انھوں نے استھانہ کے خلاف منہ کھولا یا ان کے خلاف الزامات کو طشت ازبام کیا، تو ان کی خیریت نہیں ہوگی، تین ججوں والی بنچ نے چیف جسٹس گگوئی کی سربراہی میں باسی کی درخواست سماعت کیلئے منظور کرلی ہے۔
اب چیف جسٹس مسٹر رنجن گگوئی پورے ملک کی نگاہوں کا مرکز بن گئے ہیں، مودی حکومت نے ملک کے تمام سرکاری اداروں کو اپاہج بنا دیا ہے اور اپنی آمریت اور خود مختاری کا مظاہرہ ایک جمہوری ملک میں بے دھڑک اور بے خطر کر رہے ہیں، آج تک وہ اپنے سیاہ کارناموں پر پردہ ڈالتے رہے ہیں، ضرورت ہے کہ آلوک ورما کو ان کے عہدہ پر بحال کیا جائے ؛تاکہ وہ رافیل ڈیل کی آزادانہ انکوائری انجام دے سکیں، اس وقت چیف جسٹس رنجن گگوئی کی سب سے بڑی آزمائش یہ ہے کہ انھوں نے اپنے رفقا کے ساتھ مل کر ملک کی جمہوریت اور ملکی اداروں کو بچانے کے تعلق سے جو کچھ کہا تھا ،وہ کر دکھائیں گے یا نہیں؟
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068