Home تجزیہ جدید ہندوستان، فرقہ پرستی، اورملی قیادت

جدید ہندوستان، فرقہ پرستی، اورملی قیادت

by قندیل

(نویں قسط)
نجم الہدیٰ ثانی

شناخت رخی انفعالی ملی قیادت

ساتویں دہائی کے نصف اول میں مسلمانوں کے سامنے وہ چیلنج سامنے آیا جوکسی بھی سیکولر جمہوریہ میں ایک مذہبی اقلیت کو دیر سویر پیش آکر رہتا ہے۔ کورٹ کے ایک فیصلے کے خلاف ملی قیادت ایک بار پھر بقا ء اور شناخت کی ‘لڑائی’ کے لئے ‘آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ’ کے نام سے منظم ہوئی۔ اس بات کی خصوصی کوشش کی گئی کہ اسے مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم کی حیثیت سے پیش کیا جائے۔ حکومت کی نظروں میں بھی اسے جلد ہی ایک ‘مسلم نمائندہ تنظیم’ کی حیثیت حاصل ہوگئی اور مسلمانوں نے بھی وقت کی ضرورت سمجھتے ہوئے اس کی آواز پر لبیک کہنا اپنا ملی فریضہ سمجھا۔ مگر ہمیں اعتراف حق کے باوجود اس تلخ حقیقت کا اعتراف کرنے میں بھی کوئی تامل نہیں ہونا چاہئے کہ بورڈ کی معنویت، طریقہء کار، نمائندگی کے دعوے اور کارکردگی پر سوال اٹھتے رہے ہیں اور مسلکی شدت پسندی کی وجہ سے اس کا اعتبار بھی مجروح ہوا ہے۔ بورڈ کی تنظیمی ہیئت،ویژن کا غیر واضح یا یکسر معدوم ہونا، اور مسلکی و مشربی اختلاف کے نتیجے میں اس پرایک مخصوص مکتب فکرکے افراد کا حاوی ہونا اس کےاہم اسباب ہو سکتے ہیں۔بورڈ کی معنویت اور ساکھ کو بر قرار رکھنے کے لئے ایک ایسی عمومی بحث کی ضرورت ہے جس میں علماء ، دانشور، صحافی، وکلاء، ماہرین قانون، طلبہ ، اور عام مسلمان مسلک و مشرب کی تنگنائیوں سے اوپر اٹھ کر حصہ لیں تاکہ اس ‘اجتماعی پلیٹ فارم ‘کو اےسی فرسٹ کلاس کا ویٹنگ روم بننے سے روکا جاسکے۔لیکن اگر اس قسم کی کو ئی کوشش نہیں ہوتی ہے اور ملی قیادت کے مختلف حلقے ایک دوسرے کے خلاف بدگمانیوں میں مبتلاء رہتے ہیں تو یہ ملت کا بہت بڑا خسارہ ہوگا کیونکہ آج بورڈ ہی وہ واحد ادارہ ہے جو تمام مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ اور اس دعویٰ کی سچائی کو پرکھنے کی بھی ایک ہی صورت ہے کہ ملی قیادت کے مختلف دھڑے ایک سنجیدہ مکالمہ کا آغاز کریں۔
بہر حال ، پرسنل لاء کے تحفظ کے لئے قیام میں آنے والی اس تنظیم نے رفتہ رفتہ اپنا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے بہت سارے مسلم مسائل و معاملات کو اپنی سرگرمیوں کا حصہ بنا لیا۔ گزشتہ صدی کی آٹھویں دہائی میں شاہ بانو کیس اور بابری مسجد کے حوالوں سے ملی قیادت سرخیوں میں رہی اور بعض ‘قائدین’ کے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے دائیں بازو کی اس تحریک کو کمک ملتی رہی جو بالآخر بابری مسجد کی شہادت پر منتج ہوئی اور ملک میں ایک نئے سیاسی اور سماجی دور کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ اس سیاہ حادثے پر اب ربع صدی گزر چکی ہے ۔ دائیں بازو کی تحریکوں نےاس وقفہ میں ایک لمبا سفر طے کیا ہے۔ اپنی تنظیمی قوت ، اتحاد، عمدہ کارکردگی اور منصوبہ بندی کے ذریعہ اب وہ اس پوزیشن میں آ چکے ہیں جہاں وہ آرایس ایس کے نظریات کو عملی جامہ پہناکر ہندوستانی جمہوریہ کی فلسفیانہ اساس کو بدلنے کے عزم کا برملا اظہار کررہے ہیں۔ جہاں تک ہماری ملی قیادت کا تعلق ہے تو وہ اس لحاظ سے قابل مبارکباد ہے کہ بعض استثنائی مثالوں کےوہ اب بھی شناخت رخی انفعالی ملی سرگرمیوں کو مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے کافی سمجھتی ہے ، اور اتحاد امت کے لئے گلوگیر آواز اور پرنم آنکھوں کے ساتھ طویل دعاؤں کے باوجود اجتماعی مسائل میں بھی اپنے ذوق و مشرب کوحق و صداقت کا معیار سمجھتی ہے۔ (جاری)

You may also like

Leave a Comment