Home تجزیہ جدید ہندوستان، فرقہ پرستی، اورملی قیادت

جدید ہندوستان، فرقہ پرستی، اورملی قیادت

by قندیل

(تیسری قسط)
نجم الہدیٰ ثانی
اسی دور میں اعلی ذات کے ہندوؤں میں ایک ایسا طبقہ بھی ابھر کر سامنے آیا جس نے عہد وسطیٰ کی تاریخ کو غلامی کا دور قراردیا اور مسلمانوں کے متعلق شد و مد سے اس بات کی تشہیر کرنے لگا کہ یہ ہندوستان کے اصل باشندے نہیں ہیں بلکہ ان کی حیثیت بیرونی حملہ آوروں کی ہے۔ انہوں نے عہد وسطیٰ کی تہذیبی و انتظامی ترقیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ماضی بعید میں ایک ایسے تہذیبی اور علمی عہد زریں کا خیال پیش کیا،جو بیرونی مسلمان حملہ آور وں کی وجہ سےآگے اپنا سفر جاری نہیں رکھ سکا۔ تاریخ کے ان واقعات کوجن میں ، اس تشریح و تعبیر کے مطابق ،مسلمانوں نے ہندوؤں پر ظلم کیا تھا خوب مرچ مسالہ لگاکر مسلسل بیا ن کیا جانے لگا۔اس کے بالمقابل عہد وسطیٰ کے ہندوستان کی وہ سماجی تاریخ جس میں مختلف مذاہب کے لوگ بقائے باہمی کے اصول پر زندگی گزارتے تھے نظر انداز کرنے کی کوشش کی گئی۔
جد و جہدآزادی کی آخری تین دہائیوں میں گاندھی جی کی شخصیت ایک کرشمائی اور ہر فن مولا رہنما کی حیثیت سے نمایاں ہو کر سامنے آئی۔ انہوں نے نہ صرف آزادی کی لڑائی کو فیصلہ کن مرحلہ تک پہنچایا بلکہ ایک سماجی مصلح اور اخلاقی فلسفی کی حیثیت سے معاشرہ اور اس کے مسائل کےمتعلق بھی کھل کر اور تفصیل کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کیا۔انہوں نے اپنی تحریر و تقریر اور سیاسی سرگرمیوں میں ہندو عقائد اور دیو مالا کا بار بار ذکر کیا ۔ اسی لئے ان کی سیاسی سوجھ بوجھ اور منصوبہ بندی کے اعتراف کے با وجود کچھ مؤرخین اور مبصرین کی جانب سےان پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ انہوں نے عوام تک اپنا پیغام پہنچانے کے لئے جن ہندوتاریخی و اساطیری علائم وآثار اور شحصیات کاسہارا لیا،انھوں نے "ہندو "مذہبی شعور کو بیدار کرکے دائیں بازو کے لئے زمین ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
برطانوی استعماریت کے خلاف آزادی کی یہ جد وجہد جس طریقہ سے اپنے اختتام کو پہونچی اس نے بھی ملک میں فرقہ پرستی کو گویا ‘ریزرویشن’ دلادیا۔ اسی لئے آزادی کی جدو جہد کے دوران جب آنے والی جدید ہندوستانی قوم کی تشکیل ہو رہی تھی ایسے واقعات کثرت سے ہونے لگے جس میں مسلمان اور ہندو ایک دوسرے کے حریف اور مد مقابل بن کر سامنے آئے۔خاص طور پر سیاست کے میدان میں آزادی سے پہلے کے آخری پانچ دس برس جذباتی نعروں، اشتعال انگیز تقریروں، مذہبی علٰحیدگی پسندی اور موہوم امیدوں اور اندیشوں کا دور تھا۔ عوام اس مسئلے کے سیاسی اور تہذیبی پہلوؤں اور پیچیدگیوں کا کتنا ادراک رکھتے تھے یہ ایک الگ بحث ہے مگر جو بات ان کے ذہنوں میں بالآ خر راسخ ہو کر عوامی حافظہ کا حصہ بن گئی وہ یہ تھی کہ مسلمان اس ملک کی تقسیم کے ذمہ دار ہیں۔اس ایک واقعہ نے ہندو-مسلم تعلقات کے پورے ڈھانچہ کو نا تلافی نقصان پہنچایا۔ اس طرح فرقہ پرستی کا وہ جن جسےآزادی کی جد و جہد کے زمانے میں انگریزوں نے بوتل سے باہر نکالا تھا آج تک باہر ہی ہے اور بوتل میں واپس جانے کے لئے کسی صورت تیار نہیں ہوتا ہے۔
مذکورہ بالا جائزے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جدید ہندوستان میں جب اس سیاسی قومیت کا ارتقاء ہو رہا تھا جو عہد وسطیٰ کے سیاسی نظام کے برعکس ایک نئے سیاسی شعور کی علامت تھی تو دوسری جانب فرقہ پرستی بھی اس دائرہ میں اپنے پاؤں پسار رہی تھی جو بدلتے ہوئے سیاسی اور سماجی حالات کی وجہ سے اسے میسر آرہا تھا۔ (جاری)

You may also like

Leave a Comment