جامع ازہر میں مولانا واضح رشید حسنی کی وفات پرتعزیتی نشست منعقد

قاہرہ:گزشتہ کل قاہرہ میں قدیم ترین دینی وعالمی درسگاہ جامع ازہر میں دارالعلوم ندوة العلماء کے معتمد تعلیم اور مایہ ناز ادیب ومفکر مرحوم حضرت مولانا واضح رشید حسنی ندوی کی وفات پرتعزیتی مجلس منعقدکی گئی، اس موقع پر شیخ الازہر پروفیسر ڈاکٹر احمد طیب کے خصوصی مشیر اور جامع ازهر کے مؤقر استاذ و نگراں جامع ازہر پروفیسر ڈاکٹر محمد مھنا نے مرحوم کی وفات کو علمی وادبی دنیا کے لئے ایک ناقابل تلافی خسارہ قرار دیا ،اور کہا کہ انکی تحریریں بہت ہی اعلی فکر کی حامل ہوتی تھیں اور اسلام کے خلاف مغرب کی ہرزہ سرائیوں کو وہ بہت ہی دلکش اور اچھے انداز میں پیش کرتے اور وہ عالم اسلام کے ممتاز ادیبوں میں سے تھے۔
اس موقع پر جامع ازہرکےہندوستانی طلبہ نے قرآن پڑھکر انکے لئے ایصالِ ثواب اور انکے رفع درجات کے لئے دعا کی ۔
اپنے تعزیتی پیغام میں قاہرہ میں مقیم اورجامعہ عین شمس کے پروفیسر ڈاکٹر عبد المجید ندوی ازہری نے مولانا کی وفات پر اپنے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا بہت ہی بلند پایہ ادیب تھے ،عالم اسلام کے چنندہ ادیبوں میں سے تھے ،میرا ان سے بہت ہی گہرا تعلق تھاجب وہ مصر تشریف لاتے تو میرے غریب خانہ کو زینت بخشتےاور قیام کے دوران انکی سادگی اور انکساری قابل دید ہوتی ،اللہ انکو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔
جامع ازہر کے شعبہ اسلامک اسٹڈیزفیکلٹی آف لینگوجیز کےموقر استاذ ڈاکٹر عزیر احمد ندوی نے کہا کہ مولانا بہت ہی اعلی فکر کے حامل تھے ،ان کی عربی تحریریں عالم عرب میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھیں،انکی تحریریں ایمانی جذبے اور حمیت سے سرشار ہوتی تھیں ،اللہ ہمیں ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔
اس موقع پر ریسرچ اسکالر و معاون استاذ شعبہ اسلامک اسٹڈیز فیکلٹی آف لینگویجز جامع ازہر مولانا فضل الرحمن ندوی ازہری نے مرحوم کی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مرحوم جہاں عربی زبان و ادب کے کہنہ مشق شہسوار تھے وہیں ان کی شخصیت بہت ہی دلآویز تھی ،وہ سادگی اور انکساری کی انوکھی مثال تھے،وہ حضرت مولانا علی میاں نور اللہ مرقدہ کے خاص تربیت یافتہ افراد میں سے تھے ،وہ اپنی تحریروں میں اسلام کی بالادستی اور اسکی ہمہ گیریت و ابدیت اور دنیا و آخرت کی فلاح و بہبود کے لئے صرف اسلام ہی کے کار آمد ہونے کو بہت ہی خوبصورتی اور دلکش انداز میں پیش کرتےتھے ،ان جیسی علمی شخصیت مدتوں میں پیدا ہوتی ہے۔
اس مجلس میں شرکت کرنے والوں میں جنید ندوی ریسرچ اسکالر جامع ازہر،فراز کوثر ندوی ،سرفراز عالم ندوی ،اشفاق عالم ندوی،مکرم علی قدوائی اور عبد الاحد رحمانی خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔