جامعہ ملیہ میں وژن2025کا اجراء کرتے ہوئے پروفیسر امیتابھ کنڈو و دیگر دانشوران

نئی دہلی: 15؍ جولائی(پریس ریلیز)
ماہر اقتصادیات پروفیسر امیر اللہ خاں اور محقق و تاریخ داں ڈاکٹر عبدالعظیم اختر کی سخت محنتوں کے بعد مسلمانوں کی سیاسی ،سماجی اور معاشی حالات کوظاہر کرنے والی تحقیقی رپورٹ ’ وزن 2025؍‘ گزشتہ دنوں ماہر اقتصادیات پروفیسر امیتابھ کنڈو نے کے ہاتھوں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سی آئی ٹی کانفرنس ہال میں جاری کی گئی۔بتایا گیاہے کہ سچر کمیٹی رپورٹ اور کنڈو رپورٹ کے بعد مسلمانوں کے سیاسی، سماجی،تعلیمی اور معاشی حالات کو پرکھنے و سمجھنے کے لئے یہ سب بڑی رپورٹ ہے۔اس حوالہ سے پروفیسر امیتابھ کنڈو نے کہا کہ پروفیسر امیر اللہ خان اور ڈاکٹر عبدالعظیم اختر کی سخت محنتوں کے بعد یہ تحقیق منظر عام پر آئی ہے، جس میں ملک کے مسلمانوں کے حالات کو دیانتداری کے ساتھ بتایا گیاہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب اعداد و شمار اور تحقیق کے لحاظ سے مسلمانوں کے تمام حالات کو بیان کرتی ہے جو ترقی کے تمام پہلوؤں میں سماج میں سب سے نیچے رہیں ہیں، پروفیسر کنڈو نے کہا کہ یہ اسٹڈی بھارتیہ سماج کے سماجی اور معاشی پہلوؤں کے سلسلے میں کئی معتبر سوالات اٹھاتی ہے۔ ماہر اقتصادیات پروفیسر امیر اللہ خان نے ڈاکٹر عبدلعظیم اختر کے ساتھ اس تحقیق میں ہندوستانی مسلمانوں کو بہتر تعلیم، صحت تک رسائی اور ترقی کا حصہ بننے کی ضرورت پر زو دیاہے۔ راجیو گاندھی انسٹی ٹیوٹ کے وجے مہجن نے کہا کہ اس رپورٹ سے سچر کمیٹی کی رپورٹ کے بعد تبدیلیوں کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ پروفیسر نوشاد علی آزاد نے رپورٹ کو لانے کے لئے مقصداوبجکٹیو انسٹی ٹیوٹ کی کوششوں کو سراہا۔ہندوستان کی ڈائریکٹر نیشنل فاؤنڈیشن محترمہ مونیکا بنجی نے اپنے خطاب میں کہاکہ ریاست کے ساتھ ساتھ مرکز میں مسلمانوں کے لئے بجٹ بہت کم مختص ہے جو مسلم معاشرہ کے تئیں حکومت کی بے حسی کی طرف اشارہ ہے، انہوں نے کہا کہ یہاں تک کہ مغربی بنگال میں 28 فی صد مسلمان ہیں ان پر بھی صرف 2 فیصد سے کم خرچ کیا جاتاہے۔پروفیسر سدرشن رامسوامی نے اپنے خطاب میں کہاکہ انسانی ترقی کو سمجھنے میں ایسی رپورٹوں کی اہمیت کو یاد کیا جاتاہے جس میں امارتیا سین اور مہوبوبول ہک کے ذریعہ شروع کی گئی تھی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پالیسی سازوں کے ذریعہ ترقی میں فرقوں کے مسائل کو حل کیاجائے گا۔سابق الیکشن کمشنر ڈاکٹر ایس وائی قریشی نے مسلم آبادی میں اضافے کولیکر جاری بحث مباحثہ کو بے بنیاد بتاتے ہوئے اصل تفصیلات بیان کی ۔ انہوں نے مسلم لڑکیوں کی تعلیم اور ملازمت دینے پر زور دیا۔ انہوں نے خاندان کی منصوبہ بندی کی حمایت میں شریعت سے ثبوت فراہم کئے اور کہا کہ یہ روایت ابتدائی طریقوں اور طرز عمل کے ساتھ مسلمانوں کی طرف سے شروع کی گئی تھی۔ اپنے صدر خطاب میں چیئرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم نے موجودہ حالات پر روشنی ڈالی اور اس حقیقت پر زور دیا کہ وزن 2025کی طرح حقیقی تصویریں پیش کی جاتی رہنی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ 1962، 1965 اور 1971 میں مسلمانوں کی جانب سے زبردست قربانیاں دی گئی ہے مگر 1947ء کی طرح ان کو بھی بھلادیاگیاہے ۔انہوں نے کہاکہ اب تو ہمیں آہ کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے اس تحقیق سے مسلم طبقہ کے مسائل کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔اس رپورٹ کے محقق اور شہر شہر جاکر اس رپورٹ کے سالوں محنت کرنے والے ڈاکٹر عظیم اختر نے بتایا کہ سچر کمیٹی اور کنڈو کمیٹی کے مسلمانوں کے معاشی، سماجی اور سیاسی حالات کو بیان والی یہ سب بڑی رپورٹ ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس سچر کمیٹی وغیرہ رپورٹ کے اعداد و شمار پر کئی مرتبہ سوالات کھڑے کئے گئے ہیں لیکن شاید ہم نے پہلی ایسے غیر سرکاری ذرائع سے اعداد و شمارجمع کئے ہیں جو قابل اعتبار ہیں،ہم ورکشاپوں اور سیمینار کے ذریعہ مسلمانوں کے حالات جاننے کے لئے مختلف شہروں میں گئے اور ان کے تمام حالات کو پرکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی، کئی سال کی سخت محنت کے بعد یہ تحقیق منظر عام پر آسکی ہے۔پروگرام میں شریک تمام شرکاء نے ’وزن 2025‘ کو ہر پہلو سے معتبر بتاتے ہوئے ڈاکٹر عبدالعظیم اختر اور پروفیسر امیراللہ خاں کی محنتوں کی ستائش کی۔