جارج فرنانڈیز:ہزار چہروں والاایک چہرہ

عبدالعزیز
ہندو پاک کی سیاست میں چہروں کا صبح و شام بدلنا عام بات ہے، بعض لوگوں کے بارے میں پوچھنا پڑتا ہے کہ آپ اس وقت کس جماعت میں ہیں؟ مسکراکر بتاتے ہیں کہ ’’فلاں جماعت میں ہوں‘‘، کچھ دنوں کے بعد خبر ملتی ہے کہ جناب نے پارٹی بدل لی ہے۔ ایک پاکستانی سیاستداں نے الیکشن اور حکومت سازی کے بعد ٹی وی چینل پر کہاکہ وہ مسجد میں بیٹھ کر قسم کھاسکتے ہیں کہ انھوں نے پارٹی کبھی نہیں بدلی، وہ ہمیشہ حکمراں جماعت میں رہے۔ اگرچہ یہ بات جارج فرنانڈیز کے بارے میں نہیں کہی جاسکتی ،مگر نظریہ بدلنے اور محاذ بدلنے میں ان کو بھی کمال حاصل تھا۔ منگلور کے ایک عیسائی خاندان سے وہ تعلق رکھتے تھے، ان کے ماں باپ انھیں پادری بنانا چاہتے تھے اور اس کی تربیت بھی دے رہے تھے کہ جارج فرنانڈیز 19؍سال کی عمر میں منگلور کو خیرباد کہہ کر 1949ء میں بمبئی شہر آگئے اورکسی طرح زندگی گزارنے لگے، فٹ پاتھ پر سوتے تھے۔ دن کے وقت گزر اوقات کیلئے کچھ کرلیا کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ راستے میں جو چیز مسل پاؤ (Misal Pav) کے نام سے بکتی تھی، اسے کھاکر اکثر سوجایا کرتے تھے۔
جارج فرنانڈیز میں تنظیمی صلاحیت تھی، وہ جلسے جلوس منظم کرنے میں آہستہ آہستہ ماہر ہوگئے ، انھیں گودی رہنما (Dock Leader) پی ڈی میلو کی سرپرستی میسر آگئی، جس کی وجہ سے ان کی زندگی کوجلا مل گئی، پھر تو ان کا قدم ورکر سے لیڈر کی طرف بڑھتا چلا گیا، بمبئی کی ٹیکسی یونین کے لیڈر ہوگئے۔ اس کے بعد وہ ایک ایسی بڑی شخصیت بن کر ابھرے کے ٹیکسی ڈرائیوروں کے ساتھ مل کر پورے بمبئی شہر کو مفلوج کردیا، ٹریڈ یونین لیڈر کی حیثیت سے ملک گیر شہرت حاصل ہوگئی اور ریلوے اسٹرائیک کراکر شہرت اور مقبولیت کی اونچائیوں کو چھونے لگے، 1977ء میں جارج فرنانڈیز نے جنتا پارٹی بنانے اور اندرا گاندھی کی حکومت کو گرانے میں اہم رول ادا کیا، 1967ء میں پہلی بار لوک سبھا کے الیکشن میں جنوبی بمبئی سے کھڑے ہوئے اور کامیاب ہوئے تھے، کانگریس کے سرکردہ لیڈر ایس کے پاٹل کو ہراکر زبردست ناموری حاصل کرلی؛لیکن بال ٹھاکرے کا عروج جب بمبئی میں بڑھا ،تو جارج فرنانڈیز کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگی، 1971ء میں الیکشن اگر چہ وہ ہارگئے، مگر جارج فرنانڈیز کی دوستی بال ٹھاکرے اورکانگریس کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ بسنت راؤ نائک سے ہوگئی،نائک شرد پوار کے آدمی تھے اور فرقہ پرست تھے۔
جارج فرنانڈیز بہار منتقل ہوگئے اور مظفر پور کے حلقۂ انتخاب سے لوک سبھا سیٹ پر کامیاب ہوئے، جنتا پارٹی کی سرکار میں کابینہ درجہ کے وزیر ہوئے، مرارجی ڈیسائی کی حکومت کو گرانے میں حصہ لیا اور چودھری چرن سنگھ کے ساتھ ہوگئے، زیادہ دنوں تک سرکار قائم نہیں رہی، کچھ دنوں تک جنتادل میں رہے، لالو پرساد یادو کے طرز عمل سے روٹھے، تو نتیش کمار اور جارج فرنانڈیز نے ’’سمتا پارٹی‘‘ کی بنیاد ڈالی، کانگریس کی دشمنی میں سمتا پارٹی بی جے پی کی سربراہی والے محاذ این ڈی اے میں شامل ہوگئی۔ جارج فرنانڈیز کی ادا اس قدر پسند آئی کہ سنگھ پریوار والے انھیں این ڈی اے کا کنوینر بنا دیا اور جب اٹل بہاری واجپئی کی حکومت قائم ہوئی، تو جارج فرنانڈیز وزیر دفاع مقرر ہوگئے، اس زمانے میں جارج فرنانڈیز، جنھوں نے اپنی زندگی ایک مزدور کی حیثیت سے شروع کی تھی اور مزدوروں اور کسانوں کیلئے لڑتے تھے، پکے جن سنگھی ہوگئے، اسی زمانے میں ،یعنی 2002ء میں گجرات میں فساد ہوا اور مسلمانوں کے بچے، بوڑھے اور مرد اور عورت پر شدید قسم کے مظالم ڈھائے گئے، لوک سبھا میں ایک لیڈر نے جب حکومت کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی کہ ایک ماں کے پیٹ سے بچہ نکال کر دو ٹکڑے کر دیے گئے، تو ظالم جارج فرنانڈیزنے کہاکہ ایسا فسادات کے زمانے میں ہوتا ہے، کوئی انہونی بات نہیں ہے، گجرات میں فوج بھی بھیجنے میں پس و پیش سے کام لیا، ایک ہفتے بعد فوج گجرات بھیجی گئی، جب تباہی اور بربادی جن سنگھیوں کی خواہش کے مطابق مکمل ہوچکی تھی۔
جارج فرنانڈیز ابتداء اًرام منوہر لوہیا کے نظریے کے حامی تھے اور ایک سوشلسٹ لیڈر کی حیثیت سے ابھرے تھے ،مگر آر ایس ایس اور بی جے پی کا دُم چھلا بن کر ان کی سیاسی زندگی کا خاتمہ ہوا، ایک طرح سے ہیرو بن کر ابھرے تھے اور زیرو بن کرڈوب گئے، موت کی آغوش میں جانے سے پہلے بس سانس آتی جاتی رہی اور قصہ تمام ہوا، کئی سال تک بسترِ مرگ سے چمٹے رہے، نہ اٹھنے بیٹھنے کی سکت رہی، نہ بولنے کی طاقت، کسی کو پہچانتے بھی نہیں تھے، صرف کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا کرتے تھے، مرنے سے پہلے کسمپرسی کی زندگی گزارتے رہے، ایسی سزا خدا دشمنوں کو بھی نہ دے۔ زندگی کے ایام اٹل بہاری واجپئی سے بھی بدتر تھے، لیلا کبیر فرنانڈیز ان کی بیوی تھیں، مگر 1980ء سے ہی دونوں ایک دوسرے سے الگ رہتے تھے، جب جارج فرنانڈیز بری طرح بیمار ہوئے،ہاتھ پاؤں، دل و دماغ سب ناکارہ ہوگئے تھے،تو رسماً لیلا آتی جاتی رہیں، سین ان کا بیٹا بھی آتا جاتا رہا، جب ان کی سیاسی دنیا کی دوست جیا جیٹلی اور جارج کے بھائیوں نے دہلی ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا کہ جارج فرنانڈیز کی دیکھ بھال ٹھیک سے نہیں ہورہی ہے، تو دہلی ہائی کورٹ کے جج منموہن سنگھ نے فیصلہ صادر کیا کہ ان کے بھائیوں اور جیا جیٹلی کو جارج فرنانڈیز سے ملاقات کا موقع فراہم کیا جائے، عدالتی فیصلے کے بعد جیا جیٹلی اور ان کے بھائی جارج فرنانڈیز کو دیکھنے کیلئے آنے جانے لگے، کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس دھن دولت تھی، جس کی وجہ سے وارثین میں چشمک تھی، بیوی بیٹے اس کو اپنا حق سمجھتے تھے ،جبکہ جیا جیٹلی اور ان کے بھائی اور رشتے دار اپنے حق کا دعویٰ کرتے تھے، شایداب ان کی موت کے بعد جائیداد کا جھگڑا بھی شروع ہو۔
جارج فرنانڈیز جن کو ’’جارج صاحب‘‘کے لقب سے پکارا جاتا تھا، دو سنگین مرض میں مبتلا تھے: ملیشیا (Alzhimer) اور رعشہ (Parkinson) دونوں بیماریاں ایسی خطرناک ہوتی ہیں کہ آدمی کسی لائق نہیں رہتا ، بس آخری سانس کا انتظار کرتا رہتا ہے، جارج صاحب کئی چہروں کے ساتھ زندہ رہے اور اپنا اصل چہرہ تلاش کرتے کرتے چلے گئے، اردو کے ایک معروف شاعر پرویز شاہدی نے ایسے لوگوں کیلئے بہت پہلے ایک نظم ’’بے چہرگی‘‘ کے نام سے کہی تھی، جارج صاحب اسی بے چہرگی کی علامت بن گئے تھے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068