Home خاص کالم تین طلاق توبہانہ ہے!

تین طلاق توبہانہ ہے!

by قندیل

 
مشرف عالم ذوقی
لوک سبھا میں مسلمان ممبر آف پارلیمنٹ کی تعداد ٢٢ پر سمٹ گئی ہے، بل منظور ہوا تو صرف اسد الدین اویسی نے آواز اٹھائی،باقی اکیس مسلم ممبران خاموش رہے،کانگریس نے بی جے پی کی حمایت کی، ایک فاحشہ نے جوش میں آ کر مسلمانوں کی داڑھی کے خلاف ٹویٹ کیا، گودی میڈیا نے اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ پر لیا،ہماری مسلم تنظیموں کی طرف سے لگاتار تین طلاق پر بیانات جاری ہو رہے ہیں، اویسی نے آواز لگائی کہ بھابھی کے ساتھ بیس لاکھ ان ہندو عورتوں کو انصاف کب دوگے، جن کو انکے شوہروں نے چھوڑ رکھا ہے، لیکن اویسی بھی جانتے ہیں کہ آر ایس ایس اور مودی کا اصل ٹارگٹ کیا ہے، طلاق تو بہانہ ہے، طلاق کے ذریعہ پہلی بار ملک کے آئین اور قانون پر اکثریت کا دعوی ٹھوکا گیا،ہندو اکثریت کو اور مسلم اقلیت کو یہ فرق سمجھایا گیا کہ اب دو طرح کے قانون ملک میں نافذ ہونگے،اکثریت قتل بھی کرےگی تو اسے معصوم اور بے گناہ سمجھا جاےگا، اقلیت اف بھی کرےگی تو اسے جرم تصور کیا جائے گا، اس بات پر قہقہہ لگانے کو دل چاھتا ہے کہ مسلم تنظیمیں آر ایس ایس اور مودی کے جھانسے میں آ کر طلاق کے پس پشت اس سازش کو بھول رہی ہیں ، جو ان دنوں تیس کروڑ مسلمانوں کے مستقبل سے کی جا رہی ہیں، وقف کی املاک پر قبضہ، بے نامی جائداد کے بہانے مسلمانوں کی جاگیریں ہڑپنے کا کھیل بھی شروع ہو چکا ہے، بکاؤ میڈیا کے غلام مرکزی حکومت کے انصاف کی دہائیاں دے رہے ہیں، مسلمانوں سے ان کے کاروبار چھین لئے گئے، ہلاکت روز مرہ کی عام خبر بن گی، مسلم عورتوں کے انصاف کے بہانے انصاف کو دو حصّوں میں تقسیم کر دیا گیا، عدالت کے مینار پر بھگوا جھنڈا لہرا کر یہ کہنے کی کوشش کی گئی کہ عدالتیں بھی بھگوا رنگ میں رنگی جا چکی ہیں،
ہم اب بھی معصوم بنے ان خبروں پر بھروسہ کر رہے ہیں –
طلاق کا فیصد ہندوؤں میں زیادہ ہے، طلاقِ ثلاثہ کے بہانے حکومت مسلمانوں کو تقسیم کرنا چاہتی ہے،لیکن ایک ایسا بیان جاری ہوا جو حکومت کے منشا کے مطابق تھااور حکومت نے خاموشی سے ہنستے ہنستے تین طلاق پر کابینہ میں کانگریس کی حمایت سے بل کو منظور کرا دیا،اگر طلاق ہندوستان میں خواتین کے پسماندہ رہنے کی بنیادی وجہ ہے، تب ہندوستانیوں کی ازدواجی حیثیت کے بارے میں 2011 مردم شماری کے نتائج مودی حکومت کے لئے تشویش ناک ہونے چاہییں،خاص طور پر ہندو خواتین میں طلاق کا فیصد کہیں زیادہ ہے اور ہندوؤں کی ازدواجی زندگی کو زیادہ خطرہ درپیش ہے، ہندو عورتوں کی حالت زیادہ نازک ہے، جو مسلم خواتین کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہیں – سپریم کورٹ میں طلاق ثلاثہ کا معاملہ اٹھائے جانے کے بعد ہندو عورتوں کے جو اعداد و شمار سامنے آ رہے ہیں وہ وہ بہت زیادہ ہیں جبکہ سارا زور مسلم عورتوں کی سیاست پر ہے، یہ اعداد و شمار اس حقیقت پر زور دیتے ہیں کہ اگر طلاق ہی خواتین کو با اختیار بنانے اور صنفی مساوات کے لئے ایک رکاوٹ ہے تب مسلم خواتین کے مقابلے میں ہندو خواتین کی جانب توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہے-طلاق کے معاملے میں 68 فیصد ہندو ہیں، جبکہ صرف 23.3 فیصد مسلمان ہیں – انڈیا سپینڈ آرگنائزیشن نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ، اعدادوشمار کے مطابق ناکام شادی کے معاملات شہروں کے مقابلے میں دیہات میں زیادہ ہیں کیونکہ وہاں اب بھی بھارت کی ایک بڑی آبادی رہتی ہے – اسی رپورٹ میں ہندو عورتوں کی شادی کو لے کر ناکامی کی وجہ بھی بتائی گئی اور کہا گیا کہ ہندو عورتوں میں طلاق کا فیصد بڑھ رہا ہےـ
مردم شماری 2011 سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ 1000 میں سے 5.5 ہندو شامل ہیں، اس میں وہ خواتین بھی شامل ہیں جنہیں ان کے شوہروں نے چھوڑ رکھا ہے. اس فہرست میں ایک نام وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کی بیوی مسز جسودا بین کا بھی ہے،لہذا قانونی طور پر طلاق شدہ خواتین 1.8 کی تعداد کے ساتھ علیحدگی کی شکار خواتین کو بھی شامل کر لیا جائے تو ہندوؤں کے درمیان ایسی خواتین کی تعداد 1000 میں 7.3 ہو جاتی ہے، اس حقیقت سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہندوؤں کے درمیان طلاق یا علیحدگی کی شرح مسلمانوں کے درمیان طلاق کے شرح سے بہت زیادہ ہے، مردم شماری 2011 کے بعد چھ برسوں میں ان میں اضافہ ہی ہوا ہے،
ہندوستانی مسلمانوں کا مستقبل محفوظ نہیں، اس کی ذمے داری بہت حد تک علما اور مسلم تنظیموں پر بھی ہے، مسلمان ایم پی بھی ذمہ دار ہیں جن پر ہم بھروسہ کرتے ہیں اور جو ہماری آواز تک اٹھانے کی ہمت نہیں رکھتے،یہ بل پہلا بل نہیں ہے، اب حکومت کے لئے راستے کھل گئے ہیں،یہ بات اب سمجھ میں آ جانی چاہئے کہ بل تین طلاق پر نہیں ، مسلمانوں کی ہلاکت پر منظور ہوا ہے -ایک ایسی حکومت مسلمانوں سے انصاف کی باتیں کر رہی ہے ،جس نے دادری کے مجرموں
کو سزا نہیں دی، جسے افروز الا سلام کے قاتل کو سزا دینا گوارا نہیں،جو حکومت بنانے کے پہلے دن سے مسلمانوں کو حاشیہ پر لانے کی تدبیریں کر رہی ہے –

You may also like

1 comment

غوث بارہ بنکوی 31 دسمبر, 2017 - 17:23

آپ کی تحریر قابل موافقت ھے
مسلم امہ کی حمایت میں اویسی صاحب کی تقریر واقعی قابل تعریف بھی ھے اور ھم اہل ایمان کو اس بل کے نفاذ سے مزید غوروفکر کرنے کا سںب بھی ھے
اگر ملت کے دیگر لیڈر اس طرح کا مظاھرہ کرنے پہ جرات وھمت سے کام لینے لگیں تو امید ھی کا نھیں بلکہ کامیابی کا چراغ روشن ھوجائے گا

Leave a Comment