تین طلاق بل: دہلی میں مسلم خواتین کاشدیداحتجاج

نئی دہلی:6جنوری(قندیل نیوز)
دہلی کے متعدد مقامات پر آج سیکڑوں کی تعداد میں مسلم خواتین نے طلاق کے بارے میں مجوزہ بل کے خلاف شدید احتجاج کیا اور اسے خواتین کے خلاف ایک سازش بتایا ،مظاہرہ میں شریک خواتین نے مودی سرکار کے طلاق ثلاثہ بل کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ یہ بل ہماری شریعت میں مداخلت ہے ،مسلم شوہروں کو جیل بھیجنے کی سازش ہے اور مسلم خواتین کو سڑکوں پر نکالنے اور بھیک مانگنے پر مجبور کردینے کی پلاننگ ہے ۔
پرانی دہلی ،لال کنواں، بارہ ہندوراؤاور عید گاہ چملین روڈپر طلاق ثلاثہ بل کے خلاف خواتین نے احتجاجی مارچ نکالا اور پرزور اندازمیں مجوزہ بل کی مخالفت کی ۔چاروں مقامات پر مظاہرہ میں خواتین بڑی تعداد میں شریک تھیں اور اپنے ہاتھوں میں انہوں نے پلے کارڈ اٹھا رکھاتھا جس میں یہ لکھاہواتھاکہ مودی سرکار کے ذریعہ لایاگیا یہ بل سیاسی مقصد کیلئے ہے ،طلاق ثلاثہ بل غیر قانونی ہے ،خواتین کے مفاد کے خلاف ہے۔ان خواتین نے انتہائی پرزور انداز میں ممبران پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا کہ اس بل کو سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجائے ،مسلم اسکالرس اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ سے صلاح ومشورہ کیا جائے اور کچھ ضروری ترمیمات کی جائے۔ اس احتجاجی مارچ کا انعقاد آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈکی خواتین ونگ سے وابستہ محترمہ زینت مہتاب نے کیا تھا ،انہوں نے کہاکہ جوبل لوک سبھا سے پاس کیا گیا ہے اور راجیہ سبھا میں ابھی زیر التوا ء ہے وہ ہم مسلم عورتوں کے خلاف بی جے پی حکومت کی ایک گہری سازش ہے ،اس بل کے پاس ہوجانے کے بعد مسلم بہنوں کی پریشانی میں اضافہ ہوگا اور طلاق جیسی رحمت ان کیلئے زحمت بن جائے گی ،انہوں نے کہاکہ یہ بل شوہر اور بیوی کے درمیان اعتماد کے رشتے کو ختم کرے گا ،ایک عورت کو اپنی مرضی کے مطابق کہیں شادی کرنے کا اختیار نہیں ہوگا اور ہندووں کی طرح انہیں بھی جدائیگی کیلئے کی سالوں تک مقدمہ لڑنا پڑے گا ۔انہوں نے کہاکہ اس قانون کے نافذ ہوجانے سے کوئی پڑوسی یا کوئی اور دشمنی میں جاکر شکایت کردے گا جس کی بنیاد پر شوہر کو جیل جاناہوگا جب تک بیوی اسے جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کرے گی تب تک بہت دیر ہوچکی ہوگی ۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ ایک طرف یہ کہاجارہاہے کہ تین طلاق واقع ہی نہیں ہوگی جس کا مطلب ہے کہ شوہر بے قصور ہے دوسری جانب تین سالوں کیلئے شوہر کو جیل میں ڈالا جارہاہے تو پھر اس دوران بیوی اور بچوں کی کفالت کون کرے گا ،عورت اتنے دنوں تک کس جرم میں اپنے شوہر سے جدارہے گی اور پھر شوہر جیل سے واپس آنے کے بعدکس طرح بیوی کے ساتھ رہے گا اور اس طرح عورت کو اور مسائل کا سامنا کرناپڑے گا انہوں نے اس خدشہ کا بھی اظہارکیاکہ اس قانون سے معاشرہ میں برائی پھیلے گی ۔واضح رہے کہ طلاق ثلاثہ بل گذشتہ ہفتہ لوک سبھا سے پاس ہونے کے بعد 3 جنوری کو راجیہ سبھامیں پیش کیاگیاتھا جہاں اپوزیشن نے اسے سلیکٹ کمیٹی میں بھیجنے کا مطالبہ کیا جس کے لیے حکومت تیارنہیں ہوئی یہاں تک پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس مکمل ہوگیا ہے اب بجٹ سیشن میں اس بل پر کوئی فیصلہ ہوگا ۔