تو کیوں کر ہو عجم اپنا

تازہ بہ تازہ، سلسلہ 9

فضیل احمد ناصری

الہی کیسے اونچا ہو زمانے میں عَلَم اپنا
صنم والوں پہ پھر مرنےلگا پیرِ حرم اپنا

جسے اہلِ جہاں تعبیر کرتے ہیں ہزیمت سے
لگا بیٹھے ہیں سینے سے وہی سامانِ غم اپنا

لگا کر ٹھوکریں امت کی وحدت کو یہ دیوانے
صنم خانے کی جانب پھر بڑھاتے ہیں قدم اپنا

خلیل اللہ کی سنت پہ مٹ جانے کے دعوے ہیں
مگر باطل پہ کرتے ہیں سرِ تسلیم خم اپنا

وہ کہتے ہیں کہ مندر بھی خدا کا جلوہ خانہ ہے
بَرَہمن بھی مسلماں کی طرح ہے محترم اپنا

ھواللہ کہہ کےجو بت کل گر پڑےتھےمنہ کےبل سارے
انہیں کی جلوہ سامانی سے پُر ہے پھر حرم اپنا

ہمارے قائدوں کی بھی زبانیں ہیں رقیبوں سی
عرب اپنا نہ ہو پایا،تو کیوں کر ہو عجم اپنا

دلِ مسلم بھی رفتہ رفتہ مردہ ہوتے جاتے ہیں
یہی غفلت رہی قائم تو سر ہوگا قلم اپنا

مسلمانوں نےجب بھی کفر کو شیوہ بنایا ہے
بدل ڈالا ہے کافر نے بھی اندازِ کرم اپنا

حجازی لَے اگر یوں ہی سسکنے پر رہی ہر دم
تو اک دن دیکھنا، ہوگا خدا ان کا، صنم اپنا

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*