توہینِ آفتابِ رسالت:ذروں سے یہ خورشیدبجھاہے نہ بجھے گا!

احمدبن نذر
ظلم وشقاوت،سنگ دلی وقساوت،جبروتشددکی مہیب تاریکیوں، تمردوسرکشی،کفروطغیان اور بد بختی وجہالت کے گھٹاٹوپ اندھیروں کے خوفناک سینے کوچیرتے ہوئے عدل ومساوات،ہم دردی ومواخات،محبت والفت،رافت ورحمت اور شفقت وغم گساری کا سورج تمام تر رعنائیاں لئے اپنے مطلع پر نمودارہوا۔آنکھیں موندنے والوں نے آنکھیں موندلیں؛گندہ ذہن،ناپاک ذہنیت اور بد طینت جن کی عقلوں پر ڈاٹ لگے ہوئے تھے اور جن کی کج فہمی نے انہیں ظلمت پسند بنایاہواتھا‘انہوں نے بجائے اس کے کہ آفاق پر چھائی ہوئی روشنی سے استفادہ کر کے اپنی گم رہی پر متنبہ ہوتے اور سیدھی راہ پر چل پڑتے،اس آفتابِ ضیاپاش پر تھوک کر اپنے چہروں کوآلودہ کر لیااورجس ماہتاب سے اندھیروں میں بھٹکتے ہوئے لاتعداد مسافرین اور تاریک زدوں کو ان کی حقیقی منزل اور یقینی ہدف سے روشناس ہوناتھااسے اپنی بے اثر پھونکوں سے گل کرنے کی ناپاک وناکام کوشش میں مصروف ہو گئے۔ناعاقبت اندیشوں کایہ غول اپنے دلوں میں چھپے ہوئے ’’خبث‘‘کامظاہرہ کر کے اپنے تمام اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے اس منبع انوار سے نکلنے والی روشن کرنوں پر غلط فہمیوں اور بے سروپاباتوں کے دبیز پردے ڈالنے میں مشغول ہوگیا۔جس ذات کو انسانیت ہی نہیں؛ بلکہ حیوانات،جمادات ونباتات سمیت تمام جہانوں کے لئے پیکرِ رحمت بناکر مبعوث کیاگیاتھا ،اپنی دریدہ ذ ہنی کااظہار کرتے ہوئے اسے سب وشتم کاشکار بنانے اور اس کے خلاف زبان طعن دراز کرنے لگے۔
افتراپردازی کابازارگرم ہو گیا،اندھیروں کی پرستش کرنے والوں نے اجالے کے پیام بر کے اردگرد ناپاک سازشوں کاجال بچھاناشروع کردیا؛لیکن چوں کہ حق کو ہمیشہ امدادِغیبی ونصرتِ خداوندی حاصل رہی ہے اور جب تک آسمان پر جگمگاتی قندیلوں کے اندر سے چمکنے کی صلاحیت سلب نہ کرلی جائے، یہ نصرت واعانت کاسلسلہ جاری رہے گا؛چنانچہ پھر دنیانے دیکھااور نہ صرف دیکھا؛بلکہ متحیر ومتعجب نگاہوں سے دیکھا کہ وہ کرنیں جس کے ’’مضر‘‘اثرات سے بچنے کے لئے آنکھیں موند لی گئی تھیں اور اسے خطرے کی گھنٹی قرار دے کر گردوپیش کو اس سے محفوظ ومامون رکھنے کی مکمل کوشش کی گئی تھی؛ لیکن اس کے اثرات بڑی تیزی کے ساتھ منتقل ہوتے ہوئے دکھائی دینے لگے،طاغوتی لشکروں کے تمام مکر’’ہباءََ منثورا‘‘اور ان کے دام تزویر’’تارعنکبوت‘‘ثابت ہوئے۔بھلاایسا کیوں نہ ہوتا ،جب کہ کائنات کی سب سے سچی کتاب نے تو یہ قانونِ فطرت صدیوں قبل اپنے مخصوص ڈھنگ اور خاص رنگ وآہنگ کے ساتھ بیان فرماتے ہوئے کہہ دیاتھا کہ’’حق آ گیااور باطل مٹ گیا،بے شک باطل تھاہی مٹنے ہی والا‘‘۔(بنی اسرائیل‘آیت:۸۱)
وہ آواز اٹھی تواٹھتی ہی چلی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے عالم پر اس طرح چھاگئی کہ اس نے سماعتوں کو نہ صرف متاثربلکہ مسحورکردیا۔اس آواز میں ایک کشش تھی نورانی کشش‘جاذبیت تھی انوکھی جاذبیت جس میں سسکتی انسانیت کے لئے سامان تسلی،زخموں سے چوراورآہوں سے معمور جانوں کے لئے مرہم اور شکستہ دل مظلوموں کے لئے سکونِ قلب کانسخہ تھا؛کیوں کہ اس صدائے دل نواز میں سچائی تھی‘ حقیقت تھی؛ اس میں کسی لگاوٹ‘بناوٹ‘تصنع اور ملمع سازی کا شائبہ تک نہ تھا۔چنانچہ اس پکار کا ہر وہ دل مسکن اور ہر وہ ذہن ودماغ گہوارہ بن گیا جوحق پسند‘نیک طبیعت اور حقیقت کامتلاشی تھااورہراس شخص نے اس صداپرلبیک کہاجوفیصلہ لینے میں تعصب‘ہٹ دھرمی‘عناد اور بغض کے بہ جائے حقائق بینی اور صداقت فہمی سے کام لیاکرتاتھا۔جن کے قلوب واذہان پر نسلی عصبیت‘خاندانی رقابت اور نسبی تفاخر کا تسلط تھاوہ سدا کے لئے حرماں نصیب قرار دے دیئے گئے اوروہ لوگ جوحق کے جوئندہ اور قلبِ سلیم رکھنے والے تھے انہوں نے نہ صرف سچے دل سے خلوص کے ساتھ اس پیغام کوقبول کیا بلکہ اپنی زندگی اور اپنی متاعِ حیات کے تمام تر بیش بہا اثاثے ندائے حق کے اس منادی کے قدموں میں اپنی تنگ دامنی کے اعتراف اورعجزکے احساس کے ساتھ زبان حال سے یہ کہتے ہوئے پیش کردیا کہ:
حق تو یہ ہے کہ حق ادانہ ہوا
اور جن کا کفِ نصیب ہدایت کی لکیر سے خالی تھا،ان محروم القسمت لوگوں میں جس کا نام سر فہرست ہے وہ شخص تھا جس کے سر میں غرور کا قبضہ تھا‘جسے رب کائنات کی جانب سے حق کے پرکھنے کی بے پناہ صلاحیت ودیعت کی گئی تھی لیکن اس بد بخت نے اس خداداد نعمت کی ناشکری کی اوراس عطیہء خداوندی سے کام لے کرحق نوا کی ہم نوائی کے بجائے سچائی کی اس آواز کودبانے اور سدا کے لئے خاموش کردینے کی کوشش میں خود کو جھونک دیاتو حق وباطل کے درمیان امتیاز کی صلاحیت بخشنے والے نے اس سے اعترافِ حق کی لیاقت واپس لے لی اور اس کے قلب پربدبختی کی مہر ثبت کردی۔پھر دنیانے دیکھا کہ وہی شخص جس کی عقل ودانائی کے چرچے زبان زد خاص وعام تھے اور زبان خلق اسے’’ابوالحکم‘‘کہہ کر پکارتی تھی اس نے جب متعصب ذہنیت کامظاہرہ کیا اوراپنی کم ظرفی کااعلان کرتے ہوئے آفتابِ صداقت کودیکھ کر اس کی ضیابارکرنوں سے اپنے تاریک وجود کو بقعۂ نور میں تبدیل کرنے اور’’صاحب نور‘‘سے اجالے مستعار لے کراپنی کائناتِ قلب وجگر کو منورکرنے کے بجائے اس سراجِ منیر کو بجھانے کی تدبیریں کرنے لگا تو وہی ’’ابوالحکم‘‘رہتی دنیاتک کیلئے ’’ابوجہل‘‘سے ملقب کر کے نشانِ عبرت بنادیاگیا۔
چشمہائے فلک اس بات پر شاہد ہیں کہ اس شمعِ حق کو جب جب بجھانے کی ناپاک کوشش اور اس نوائے حق کو جتنی زور کے ساتھ دبانے کی سعیِ مذموم کی گئی‘اس کی روشنی میں اسی قدرتیزی آئی اور یہ صدااتنی ہی بلند ہوتی چلی گئی۔حق وباطل ہمیشہ ایک دوسرے سے متصادم بلکہ برسر پیکار رہے ہیں اور صبحِ قیامت تک یہ معرکہء خیروشر جاری رہے گا۔اسی حقیقت کو واشگاف کرتے ہوئے شاعر مشرق نے کہا تھاکہ:
ستیزہ کار رہاہے ازل سے تاامروز
چراغِ مصطفوی سے شرارِ بولہبی
اوراب بھی یہ ناپاک سلسلہ رکانہیں؛ بلکہ ہر لمحہ اپنے طریقۂ کار میں تجددلاکر اپنے مکروہ عزائم اور بدترین منصوبوں کوعملی جامہ پہنانے میں مصروف ہے۔
تاریخ کی نگاہوں نے یہ عبرت ناک منظر بھی دیکھا کہ راجپال نامی ایک ذلیل ترین شخص نے نبیِ معظم(صلی اللہ علیہ وسلم) پر اتہامات کی یورش کرتے ہوئے ایک ناپاک کتاب لکھی، جس میں اس ذا ت بابرکات(صلی اللہ علیہ وسلم) کو مطعون ومقذوف کرنے کی جرأتِ بے جااور جسارتِ ناروا کی گئی تھی، تو ایک اَن پڑھ نوجوان، جسے نہ کسی بڑی دینی درس گاہ سے سند فراغ حاصل تھی ،نہ وہ کسی عالمی یونیورسٹی کاڈگری یافتہ تھا،نہ کسی خانقاہ کاحاضر باش تھااور نہ کسی شیخ کاارادت مند؛بلکہ وہ ایک سیدھاسادہ عام نوجوان تھا،جو محنت ومزدوری کر کے بہ قدر کفاف اکلِ حلال کاانتظام اپنی قوت بازو سے کرتا۔اسے جب اس خبیث حرکت کاعلم ہوا،تو اس نے راجپال نامی سگِ گستاخ کو جہنم رسید کردیااور اس ’’جرم‘‘کی سزا کے طور پر خودکو تختۂ دار کے حوالے کردیا:
خوشا وقتے کہ میری موت تیرے کوچے میں آجائے
یہی تو زندگی کاآخری ارمان ہے ساقی
عشقِ نبی میں ڈوبے ہوئے ہر دلِ دردمند کے لیے وہ روح فرسا اوردل دوزلمحہ بھی آیاکہ ’’شیطان‘‘رشدی نامی ایک ملعون نے مقدس اورپاکیزہ’’قرآنی آیات‘‘کے مقابلے میں متعفن اور ناپاک’’شیطانی آیات‘‘لکھ کر اپنے نوشتۂ اعمال پر کالک پوت لی اور فالج زدہ ذہنیت کے مالک یہودی نشریاتی ادارہ’’وائی کنگ پبلکیشنز‘‘نے مغلظات سے پُراس کتاب کو پورے طمطراق کے ساتھ شائع کیا،جس میں کائنات کی سب سے باعصمت شخصیت ؛بلکہ پاک بازوں کے سرتاج کی جانب فحش باتیں منسوب کی گئی تھیں اور اس ذات کی ردائے شفاف؛ بلکہ شفاف ترکو داغ دار کرنے کی گھناؤ نی حرکت کی گئی تھی ،مگر آفریں ہے مغرب کی اس ’’روشن خیالی‘‘اور’’اظہارخیال کی آزادی‘‘پر کہ اسے اس کرتوت کا مزہ چکھانے کے بجائے اس ’’عظیم کارنامہ‘‘کے صلے میں اس ’’شیطان‘‘کے بدبودار وجود کی مکمل پشت پناہی کی گئی اور راتوں رات اسے شہرتوں کے بام عروج پر پہنچادیاگیا�آ پھراس طرح بھی شیدائیانِ رسالت کے دلوں کوکچوکے لگانے کاسامان کیاگیاکہ اس محسن اعظم(صلی اللہ علیہ وسلم)کے اہانت آمیز خاکے ’’آرٹ‘‘کی نمائش کے طورپر پیش کئے گئے اوریہ کہہ کر اس شنیع حرکت کو جواز فراہم کرنے کی بھی جسارت کی گئی کہ ’’جب ہٹلر اور چرچل کے کارٹون بنائے جاسکتے ہیں تو(فداہ ارواحنا)محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کے خاکے کیوں شائع نہیں کئے جاسکتے؟‘‘جی چاہتا ہے کہ جہالت وحماقت کے ان مجسم نمونوں سے ان کی عقلوں کاماتم کرتے ہوئے پوچھوں کہ اے عقل کے اندھو!الجھن و بے قراری کے باد سموم کوسکون وقرار کے بادنسیم سے،سیاہی کو سفیدی سے،حقیقت کوفریب سے،افتراکوسچائی سے،کذب بیانی کو صدق کلامی سے،سفاکی کو رافت و غم گساری سے اور نفرت وتعصب کے شعلے کو انس ومحبت کی ٹھنڈی شبنم سے کیاتعلق اور کیساربط؟
چہ نسبت خاک را با عالم پاک!
یوں بھی ہواکہ ہندوستان کے معروف شہر’’بھونیشور‘‘سے نشر ہونے والے’’اوڑیا‘‘زبان کے’’سمباد‘‘نامی اخبار نے 12 ربیع الاول(13/جنوری/2014)کواپنی تعفن زدہ ذہنیت کامظاہرہ کرتے ہوئے ہادیِ عالم (صلی اللہ علیہ وسلم)کی خیالی تصویر شائع کرکے اِس جہان میں قعرِمذلت اور اُس جہان میں آتشِ سوزاں کی ہمیشگی کواپنے لئے مقدر کرلیا، پھر کیاتھا،دیکھتے ہی دیکھتے فضائیں مکدر،ہوائیں غبار آلود اورلوگ مشتعل ہوگئے۔حبِ رسالت اور عشقِ نبوی سے سرشار نوجوان غم وغصہ کی تصویر بنے اپنی جان ہتھیلیوں پہ لئے سڑکوں پرآگئے اورمذکورہ اخبار کے دفتر میں توڑ پھوڑ کرکے اسے نذرِ آتش کردیااور کسی ’’لومۃ لائم‘‘کی پرواہ کئے بغیرتمام ’’مصلحتوں‘‘کوبالائے طاق رکھتے ہوئے بر ملا یہ اعلان کردیاکہ:
ناموس محمد عربی پر ہم جان نچھاور کر دیں گے
گر وقت نے ہم سے خوں مانگاہم وقت کا دامن بھر دیں گے
اگرچہ یہ آتش زدگی اور بربادی کسی مسئلے کاحل نہیں ہے، مگر اس عشق کو کیا کہئے کہ کسی پس وپیش اور لیت ولعل کی بھول بھلیوں میں پڑنا جس کے ’’آداب‘‘ کے خلاف ہے۔شاید غیر ضروری’’دور اندیشیوں‘‘سے پاک ہونے کی وجہ سے ہی:
عشق کی دیوانگی طے کر گئی کتنے مقام
عقل جس منزل پہ تھی، اب تک اسی منزل پہ ہے
کیونکہ:
عقل عیار ہے سو بھیس بنالیتی ہے
عشق بے چارہ ملّا ہے، نہ زاہد، نہ حکیم
اور اسی ’’کوتاہ اندیشی‘‘کاکرشمہ تھاکہ:
بے خطر کود پڑاآتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِتماشائے لبِ بام ابھی
اوراب پھرشیطنت دریدہ دہنی پہ آمادہ،عفونت نیلی چھتری کے نیچے موجودابناے آدم کواپنی لپیٹ میں لینے کوتیاراورذلالت اپنے عروج کے مراحل طے کرنے کوبیتاب ہے کہ تقدیس وتقدس،پاکیزگی وپاک بازی،کاملیت وکمال،جلالت وجمال،صباحت وملاحت،حسن خُلق وخلقت اوراس جیسے ناقابل شمارولاتعدادذخیرہ ہاے الفاظ جس اوج آدمیت اوررفعت انسانیت کی لاثانی وبے مثیل ومثال چوکھٹ پرپہنچتے ہی اپنے عجزوقصر،نقص وکوتاہ دامنی اورعجزودرماندگی کے احساس تلے گراں بارہوکے ندامت وشرمندگی کے مارے عرق آلودہوئے جاتے ہیں،نیدرلینڈسے تعلق رکھنے والے’’گیرٹ ولڈز‘‘نام کے بدہیئت وبدفطرت نے اس وجودِمطہرومشرف کی خاکہ سازی کامقابلہ منعقدکروانے کی بیہودہ،اسفل ترین اورنیچ حرکت کاارتکاب کرنے کی جسارت کی ہے،یہ اس ذہنی آوارگی اورجسمانی آلودگی سے پُرمعاشرے کا پروردہ ہے ،جسے آغا شورش کاشمیری(رحمہ اللہ)نے خوب آئینہ دکھایاہے کہ:
رات کی تاریک سناٹوں کے پیداوارلوگ
میکدوں میں سیرتِ خیرالبشرپہ نکتہ چیں
لیکن ان میں سب کے سب ایسے ہی دریدہ دہن،منہ پھٹ،حرکت ناروااور جسارت بے جاکرنے والے نہیں؛ بلکہ ظلمت کو ضیااور صرصر کو صباکانام دینے کے بجائے اندھیرے کو تاریکی اور اجالے کو روشنی کہنے کاحوصلہ رکھنے والے بھی ہیں۔
منصف مزاجوں کی اس فہرست میں اپنے اندر معلومات کا خزینہ رکھنے والے افراد بھی ہیں اور سیدھے سادے واجبی سی تعلیم حاصل کرنے والے لوگ بھی‘فلسفی و سائنس دان بھی ہیں اورسیاسی قائدین بھی،کھیل کی دنیامیں اپنے نام کی دھاک بٹھانے والے کھلاڑی بھی ہیں اورسرحدوں کے محافظ فوج کے جاں باز بھی‘قلم کاجادو جگانے والے ادبا بھی ہیں اور تخیلات کو الفاظ کا پیرہن دینے والے شعرا بھی،مقننہ کے اراکین بھی ہیں اورایوانِ حکومت میں عوامی نماندگی کرنے والے لیڈران بھی!
ان ہی لوگوں میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے تعلق رکھنے والا حق نویس عیسائی مصنف ’’مائیکل ہارٹ‘‘بھی ہے ،جس نے اپنی مقبول ترین کتاب ’’سو عظیم آدمی‘‘میں سچائی کابرملا اعتراف کیااور اسے انسانی تاریخ میں متاثر کن شخصیات کاتذکرہ کرتے ہوئے نبیِ رحمت(صلی اللہ علیہ وسلم)کاذکرزبانِ قال وحال دونوں سے ہی یہ کہتے ہوئے سب سے پہلے کرنا پڑاکہ:
آفاقہاگردیدہ ام لیکن تو چیزے دیگری
اوراس آئینہ خانے کاایک عکسِ جمیل اردو کے نامور شاعر ’’رگھوپتی سہائے فراقؔ گورکھپوری‘‘کے یہ اشعار بھی ہیں کہ:
انوار بے شمار معدود نہیں ہے
رحمت کی شاہ راہ مسدود نہیں ہے
معلوم ہے کچھ تم کو محمدؐکامقام
وہ امتِ اسلام میں محدود نہیں ہے
یہ دو مثالیں بطور نمونہ ’’مشتے از خروارے‘‘کے طور پر پیش ہیں ورنہ حقیقت یہ ہے کہ:
سفینہ چاہئے اس بحر بے کراں کے لیے
یہ بات بھی ناقابلِ انکار ا ورمتعین ہے کہ جب بغض وعداوت کے شعلے ٹھنڈے ہوں گے،تعصب کے دبیز پردوں کو چاک کردیا جائے گا،عناد کی تیرہ وتار گھٹائیں چھٹ جائیں گی،منافرت ومخاصمت کے دھوؤں فضا صاف ہو جائے گی،یہ دنیا انانیت پرستی کے لبادے کو اتار پھینکے گی اورآنکھوں پر بندھی بے جااور بلاوجہ ضد کی مکروہ پٹیاں کھول کرسچائی کی کھوج میں سرگرداں اور حقائق کی متلاشی ہوگی تو بے اختیار یہ کائنات بارگہِ رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وسلم)میں جبینِ عقیدت خم کرکے سکون وطمانیت کااحساس کرے گی اور وہی لوگ ، جوناموسِ رسالت(صلی اللہ علیہ وسلم) پر داغ لگانے کے در پے ہیں ،ان کی نسلیں غلامانِ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کہلانے میں فخر محسوس کریں گی؛ کیونکہ رفعتوں کے مالک کایہ فرمان حرف بہ حرف مبنی بر حقیقت ہے کہ:
’’ہم نے آپ کے ذکر کو بلند کردیا‘‘(الم نشرح،آیت:۴)
اسی لیے:
باطل جو صداقت سے الجھتا ہے تو الجھے
ذروں سے یہ خورشید بجھاہے نہ بجھے گا

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*