تلفظ اور لہجوں کا اختلاف


مسعود جاوید

پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر رمضان کے تلفظ کی ادائیگی کے سلسلے میں علمی بحث کم اور ناشائستہ الفاظ میں لعن طعن اور سعودی ریٹرن جیسے اصطلاحات سے لوگ اپنے حریفوں کو نوازتے رہے. اس میں کچھ تو مبنی بر حقیقت تبصرے تهے اور کچھ مبنی بر تعصب ریمارکس اور "عقلی دلائل”.
دراصل رمضان عربی لفظ ہے جس کا صحیح تلفظ رمضان ر مفتوح میم مفتوح ضاد مفتوح الف اس کے بعد نون ساکن یعنی Ramadhan اس میں دقت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اس کا متبادل حروف دوسری زبانوں میں نہ ہوں. حرف ضاد کا متبادل نہ d دال ہے اور نہ dh دهال ہے اسی طرح حرف ث کا متبادل نہ س s ہے اور نہ th ته ہے ان حروف کی ادائیگی میں زبان کا رول سب سے اہم ہوتا ہے جیسے ث کی ادائیگی کے لئے زبان کی نوک ثنایا علیا یعنی اوپر کے دو دانت جو سامنے عموماً بڑے ہوتے ہوتے اس کے شروع (جڑ نہیں) کے کنارے میں لگانے سے ایک ہلکی آواز س کا شائبہ لئے ہوئے ہوا کے ساتھ نکلتی ہے. اسی طرح ذ ص اور حروف حلقی کی ادائیگی میں زبان کو جبڑے اور دانتوں کے مختلف حصے اور حلق شامل ہوتے ہیں. اس علم کو تجوید کہتے ہیں اور صحیح قرآن کی تلاوت کے لئے یہ شرط ہے لیکن بدقسمتی سے ایشیائی ممالک میں اس پر کم ہی توجہ دی گئی. پچھلے کئی سالوں سے اسکولی بچوں کے لئے مختلف مساجد میں مکاتبِ دینیہ کا نظم ہے جہاں قرآن تجوید یعنی صحیح تلفظ و مخارج کے ساتھ پڑهنا سکهایا جاتا ہے.
قران میں رمضان کا ذکر دو مناسبت سے ہے ایک یہ کہ اس ماہ رمضان میں قرآن نازل ہوا : شهر رمضان الذي أنزل فيه القرآن اور دوسرا یہ اس ماہ رمضان میں روزہ فرض ہے.
زبان اور دیگر کئی مسئلے میں جو رواج عرف اور custom ہے اسے نظرانداز نہیں کیا جاتا ہے بہت سارے قوانین گرچہ تحریری شکل میں دستور کا حصہ نہیں ہیں لیکن عرف کی بنیاد پر نافذالعمل ہیں. اردو زبان چونکہ مختلف زبانوں کے مفردات سے مرکب ہے اس لئے دیگر زبانوں سنسکرت ہندی ترکی اور فارسی کے مفردات کی طرح عربی کے بہت سے مفردات اردو زبان کے حصے ہیں لیکن چونکہ ان کی ادا کرنے والے غیر عرب تهے اس لئے بہت سے مفردات اپنی اصل شکل میں نہیں رہے. رمضان اسی کی ایک شکل ہے کہ ایشیائی اسے Ramzan بولتے ہیں جبکہ عرب اسے رمضان Ramadhan ہر حرف پر فتحہ کے ساتھ اور جس میں Z تو بالکل نہیں ہاں dh کا شائبہ ہوتا ہے.
تلفظ کا مسئلہ صرف ہمارے یہاں بر صغیر ؛ ہندوستان پاکستان بنگلہ دیش وغیرہ میں نہیں ہے یہ ایک عالمی مسئلہ یا ظاہرہ phenomenon ہے اور ایک علاقہ سے دوسرے علاقے میں بدل جاتا ہے. مثال کے طور پر حرف ج شمالی یمن میں ج J ہے جمہوری Jamhoori جبکہ جنوبی یمن میں ج G ہے وہاں کے لوگ گمہوری Gamhoori لکهتے اور بولتے ہیں ـ
. مصر میں بهی ج G ہے یعنی جمال Gamal گمال لکها اور بولا جاتا ہے. اسی طرح مصر میں ق Q کی ادائیگی ان کی زبان پر ثقیل ہوتی ہے اس لئے وہ ق کی ادائیگی ع کی طرح کرتے ہیں جسے ہر دو چار جملے کے بعد ان کی زبان سے نکلتا ہے بعل لک ایه ( جو در اصل باقول لک ایه ہے) یہ امریکہ کے لوگوں سے غالبا لیا گیا ہے جو بات بات پر کہتے ہیں I tell you what. مصریوں کو چهیڑنے کے لیے ہم ان سے پوچهتے ہیں کہ مصر کی راجدھانی کا نام کیا ہے تو عموماً وہ بتانے سے کتراتے ہیں اور اکثر اسے مصر ہی کہتے ہیں جبکہ راجدھانی قاهرہ ہے لیکن اگر ق کے ادائیگی ع کی طرح کی جائے تو عاهرہ ہوگی جس کے معنی ویشیا کے ہیں.
بہار کے بعض علاقے خاص طور پر جو گنگا پار کہلاتے ہیں وہاں کے لوگوں کی زبان پر حرف ڑ کی ادائیگی ثقیل ہوتی ہے اس لئے ڑ کی جگہ ر بولتے ہیں جیسے سڑک پر گهوڑا دوڑتا ہے اسے وہ سرک پر گهورا دورتا ہے بولتے ہیں جبکہ لکهتے درست ہیں . یوپی کے بعض علاقے خاص طور پر لکھنؤ کے اطراف کے لوگ لکھنؤ کو نخلو کہتے ہیں .
جنوبی ہند کی زبانوں میں غالباً متبادل حروف ہیں جس کا فقدان ہندوستان کی دوسری زبانوں میں ہے اسی لئے ہم Natrajan کے ٹ کے لئے T لکهتے ہیں اور راما مورتی میں ت کے لئے بهی T لکهتے ہیں جبکہ جنوبی ہند کے لوگ ت کے th لکهتے ہیں Ramamurthiـ
آمدم بر سر مطلب یہ کہ زبان، بولیاں اور لہجوں میں اختلاف کا تعلق علاقوں سے ہے اس بارے میں ایک کو صحیح اور دوسرے کو غلط کہنا اپنی برتری دیکهانا یا جو لوگ عرب ممالک میں ملازمت کے بعد لوٹے ہیں ان کا Ramadhan پر اصرار کرنا اور نہ ماننے والوں سے بدکلامی اور جاہل کہنا کم علمی کا ثبوت دینا ہے. ان فروعی باتوں پر بحث کرنے سے آپس میں اختلافات کے علاوہ کچھ اور حاصل نہیں ہےـ