تعلیم کامقصد طلباء میں مضبوط کرداروں اور اخلاقی قدروں کو جگا ناہے:وینکیانائیڈو

نئی دہلی19فروری(قندیل نیوز)
نائب صدرجمہوریہ ہندایم وینکیانائیڈو نے کہا ہے کہ تعلیم کو ایسا ہونا چاہئے کہ وہ طلباء میں ایک مضبوط کردار پیدا کرے اور اخلاقی قدروں کوجگائے۔ وہ ممبئی میں آر اے پودار کالج آ ف کامرس اینڈ ایکونومکس کی پلاٹینم جوبلی تقریبات کے افتتاح کے بعداجتماع سے خطاب کررہے تھے۔ مہاراشٹر کے ہاؤسنگ کے محکمے کے وزیر پرکاش مہتا اور دیگر شخصیتیں بھی اس موقع پرموجودتھیں۔نائب صدر جمہوریہ نے والدین ، اساتذہ ، اسکولوں اور کالجوں سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ گھروں اور اسکولوں میں ذہنی دباؤکاماحول نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہاہے کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ کچھ والدین بچوں کی خطرناک ذہنی کیفیت کو سمجھ نہیں پاتے اور وہ اپنے بچوں کے ذہنی دباؤ کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اہم موضوع وزیراعظم جناب نریندر مودی کے بھی دل کی بات ہے جنہوں نے ایگزام وارئرس کے عنوان سے ایک کتاب تحریر کی ہے جو امتحانات کی وجہ سے اضطرابیت اور دباؤ پر غلبہ پانے کے مقصد سے لکھی گئی ہے۔نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ملک کے وسیع انسانی وسائل کو آبادی کی شکل میں حاصل بالادستی کی طاقت میں بدلنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں اسے آنے والے برسوں میں دنیا کی چوٹی کی تین بڑی معیشتوں میں شامل ہونے کیلئے بھارت کی ترقی کی طرف لے جانا ہے۔تعلیم ایسی ہونی چاہئے کہ اس سے کسی فرد کی مجموعی شخصیت کُلی اعتبار سے فروغ حاصل کرے۔ تعلیم کی وجہ سے کوئی فرد اپنے کریئر سے متعلق متبادلوں سے باخبر ہونا چاہئے نیز وہ اپنی زندگی کے بقیہ ہر مرحلے پر بھی باخبر رہے۔نائب صدر جمہوریہ نے کہاہے کہ تعلیم ایسی ہونی چاہئے کہ وہ نوجوانوں کو بااختیار اور روشن خیال بنائے۔ ان کی تجزیاتی صلاحیتوں میں بہتری لائے اوران میں نئے خیالات پیدا کرے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ معیار اور سب کی شمولیت والی تعلیم فراہم کیے بغیر محض عمارتوں پرعمارتیں بنانے سے نئے بھارت کی تعمیر نہیں ہوگی۔ تعلیم نہ صرف یہ کہ سب کو فراہم ہو بلکہ اس پر مناسب خرچ آنا چاہیے اورایسی ہونی چاہئے کہ لوگوں کو یہ روزگار فراہم کرنے کے علاوہ بااختیار اور روشن خیال بنائے۔