Home تجزیہ تعدد ازدواج :حُکم یا اجازت؟

تعدد ازدواج :حُکم یا اجازت؟

by قندیل


مولانا ندیم الواجدی
تعدد ازدواج یعنی مسلم مرد کے لئے ایک سے زائد بیویاں رکھنے کے خلاف بھی عدالت میں عرضی داخل کی گئی ہے اور عدالت نے اس معاملے میں شنوائی کرتے ہوئے حکومت سے اس کا موقف بھی دریافت کرلیا ہے، اندیشہ یہ ہے کہ تین طلاق کی طرح حکومت اس معاملے کو بھی انتخابی ایشو بنائے گی، اگرچہ اسلام میں کثیر زوجگی لازمی نہیں ہے، تاہم اس کی اجازت دی گئی ہے، کوئی بھی مرد ایک سے زائد شادی کرسکتا ہے، شریعت نے چار بیویوں کی گنجائش رکھی ہے، لیکن ہندوستان میں بہت کم مسلمان مرد ایسے ہوں گے جنھوں نے ایک سے زائد شادی کررکھی ہوگی، تین اور چار بیویاں رکھنے والے تو نہ ہونے کے برابر ہیں، ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق محض سولہ لاکھ مسلم خواتین ایسی ہیں جو دوسری بیوی کی حیثیت سے رہ رہی ہیں، جب کہ ایک کڑوڑ ہندو خواتین دوسری بیوی کی حیثیت سے زندگی گزار رہی ہیں، حالاں کہ ہندو میرج ایکٹ ۱۹۵۶ء کی رو سے کوئی ہندو پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی نہیں کرسکتا، اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اس کو جرم مانا جائے گا اور سزا دی جائے گی، جب کہ شریعت ایکٹ ۱۹۳۷ء کی رو سے مسلمان ایک سے زائد نکاح کرسکتا ہے، اب تک اس ایکٹ پر عمل ہورہا تھا، موجودہ حکومت کوشش کررہی ہے کہ عورت کی مظلومیت اور جنسی مساوات کے نام پر تین طلاق کی طرح اس ایکٹ کی وہ دفعہ بھی ختم کردی جائے جس کی رو سے مسلمان کو کثیر زوجگی کی اجازت ملی ہوئی ہے۔
تعدد ازواج کا معاملہ بڑا اہم ہے، اسی لئے اس معاملے کو نشانہ بنایا جاتا ہے، یہ ان امور میں سے ایک ہے جن کی بنیاد پر اسلام پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس نے مسلم مرد کو ایک سے زیادہ بیوی رکھنے کی اجازت دے کر مسلمان عورت پر ظلم ڈھایا ہے، اس کو اذیت میں مبتلا کیا ہے، اس کے جذبات سے کھلواڑ کیا ہے، حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض تجدد پسند مسلمان بھی تعدد ازدواج کے خلاف نظر آتے ہیں اور اسے ناجائز اور حرام کہنے سے بھی نہیں چوکتے، اس سلسلے میں محمد عبدہ (۱۹۵۰-۱۸۴۹) کا نام لیا جاسکتا ہے، جنھوں نے تعدد ازدواج کو بالکلیہ ناجائز قرار دیا ہے، ان کی دلیل یہ ہے کہ تعدد ازدواج عدل ومساوات کے ساتھ مشروط ہے، اور یہ ایسی صفت ہے جو اس زمانے میں بالکل مفقود ہے، انھوں نے بیویوں کے ساتھ شوہروں کی بدسلوکی، سوتیلے بچوں کے درمیان دشمنی اور بیویوں کی رقابت کو بھی تعدد ازدواج کے عدم جواز کی دلیل قرار دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ تعدد ازدواج کا معاملہ حاکم وقت یا قاضی کے ہاتھ میں ہونا چاہئے کہ اس کی اجازت سے دوسری شادی ہو، اور اگر دوسری شادی ہوجائے تو وہ حالات کے مطابق فیصلہ کرکے اس کو کالعدم بھی قرار دے دے، (الاعمال الکاملہ، محمد عبدہ: ۲/۱۲۴) مشہور مصنف قاسم امین نے بھی اپنے پیش رو محمد عبدہ کے تتبع میں تقریباً یہی نظریہ پیش کیا ہے، وہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ حاکم وقت کو چاہئے کہ وہ مصلحت عامہ کی رعایت کرتے ہوئے تعدد ازدواج کو مشروط غیر مشروط بہ ہر صورت ناجائز قرار دے دے، (تحریر المرأۃ ص ۳۹۶)۔ عرب ممالک کے کئی مصنفین کی کتابوں میں محمد عبدہ اور قاسم امین کے خیالات کی بازگشت ملتی ہے، جیسے محمد ابو شقہ، ’’تحریر المرأۃ فی عصر الرسالہ‘‘ میں، محمد غزالی ’’قضایا المرأۃ بین التقالید الراکدۃ والوافدہ‘‘ میں، عباس محمود العقاد ’’مرأۃ القرآن‘‘ میں، عبد اللہ عفیقی ’’المرأۃ العربیۃ فی جاہلیتہا واسلامہا‘‘ میں، جحانہ طہ ’’المرأۃ العربیۃ فی منظور الدین والواقع‘‘ میں، عفیف عبد الفتاح طیارہ ’’روح الدین الاسلامی‘‘ میں، ڈاکٹر محمد عمارۃ ’’تیارات فی الفکر الاسلامی‘‘ میں عورتوں پر ظلم وستم کے من گھڑت قصے لکھ کر اور ان کے ساتھ ناانصافیوں کے افسانے تراش کر تعدد ازدواج جیسے شرعی مباحات کو ناجائز قرار دینے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں، (بہ حوالہ تعدد ازدواج؛ اسلام اور علماء، محمود احمد صدیقی) یہ وہ لوگ ہیں جو یورپ کے ناقدین مؤرخین اور مستشرقین کے خیالات سے مرعوب ہیں، بہ ظاہر تووہ اپنی کتابوں میں ان ناقدین کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن درحقیقت وہ ان کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں، اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے لگتے ہیں، یہ صرف ہندوستان کے صحیح الفکر علماء ہیں جو شریعت کے احکام اور اس کی تعلیمات کی حقیقت کو سمجھتے ہیں، اور اسلام کے صاف شفاف آئینے پر جو گردوغبار مستشرقین یورپ کے ذریعے ڈالا جاتا ہے اسے کسی مرعوبیت کے بغیر صاف کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں، گذشتہ ڈیڑھ صدی سے تعدد ازدواج کے مسئلے پر اسلام پسندوں اور تجدد پسندوں کی طرف سے اتنا کچھ لکھا گیا ہے کہ ان کا احاطہ بھی نہیں کیا جاسکتا، تجدد پسندوں کے پاس تعدد ازدواج کی مخالفت میں صرف یہ ایک دلیل ہے کہ اس سے پہلی بیوی کے جذبات مجروح ہوتے ہیں، یہ عمل اس کے ساتھ ناانصافی ہے، اس پر ظلم ہے، یہ صورت مساوات انسانی کے خلاف ہے، اس سے فرد کے حقوق متأثر ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ، یہ ظاہر بیں تجدد پسند تعدد ازدواج کی ضرورت حکمت اور مصلحت تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔
عجیب بات یہ ہے کہ تعدد ازدواج کے معاملے میں صرف اسلام کو نشانہ بنایا جاتا ہے، حالاں کہ دنیا کا کوئی مذہب ایسا نہیں ہے جس میں کثیر زوجگی کی اجازت نہ ہو، اور اس اجازت پر عمل نہ کیا جاتا ہو، ہندو مذہب میں بھی ایک سے زیادہ شادی کی جاسکتی ہے، ویدک تعلیمات سے اس کا ثبوت ملتا ہے، رام چندر جی کے والد مہا راجہ دشرتھ کی تین بیویاں تھیں، راجہ پانڈو کے جد اعلا کے دو بیویاں تھیں، راجہ شنتن کے بھی دو بیویاں تھیں، بچھترایرج کے دو بیویاں اور ایک لونڈی تھی، شری کرشن جی کے حرم میں تو سینکڑوں بیویاں تھیں،(سیرت رحمۃ اللعالمین سلیمان منصورپوری: ۲/۱۲۷) عیسائی اور یہودی مذاہب میں بھی ایک سے زیادہ شادی کرنے کی اجازت ہے، اس کا ذکر توریت، انجیل وغیرہ میں ملتا ہے، متعدد انبیاء سابقین جن کا ذکر قرآن وحدیث میں ہے ایک سے زیادہ بیویاں رکھتے تھے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دو بیویاں تھیں، حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چار بیویاں تھیں، حضرت داؤد علیہ السلام کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کے حرم میں ننانوے بیویاں تھیں، حضرت سلیمان علیہ السلام کے یہاں چھ سو بیویوں کا ذکر ملتا ہے، اسلام سے پہلے عرب، ہند، ایران، مصر، بابل وغیرہ میں کثرت ازدواج کا رواج عام تھا، عربوں میں تو زیادہ بیویوں کا ہونا عزت وبرتری کا پیمانہ اور دولت مندی کا معیار سمجھا جاتا تھا، دور جاہلیت میں تعداد کی کوئی تحدید نہیں تھی، جو جتنی بیویاں چاہتا اتنی رکھتا، اسلام نے تعدد ازدواج پر پابندی نہیں لگائی کیوں کہ ایسا کرنا انسانی مصلحتوں کے خلاف ہوتا، البتہ اس کی تحدید کردی کہ ایک مرد چار سے زیادہ شادیاں نہ کرے، عرب ممالک میں آج بھی ایک سے زیادہ نکاح کرنے کا رواج ہے، بعض گھروں میں تین تین، چار چار بیویاں بھی ہیں جو پیار محبت سے رہتی ہیں اور ان کے بچوں میں بھی یگانگت پائی جاتی ہے، البتہ ہمارے ملکوں میں ایک سے زائد شادی کو معیوب خیال کیا جاتا ہے، لوگ دوسری شادی کے بجائے داشتہ یا رکھیل رکھنا زیادہ پسند کرتے ہیں تاکہ معاشرہ ان پر انگلی نہ اٹھائے، دین دار لوگ چھپ کر شادی کرنے میں عافیت سمجھتے ہیں، حالاں کہ بسا اوقات دوسری شادی کرنا انسانی ضرورت بن جاتا ہے اور اس ضرورت کی تکمیل کے بغیر بعض اوقات زندگی دشوار اور تکلیف دہ ہوجاتی ہے۔
اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ ہر معاملے میں حکمت اور مصلحت کو پیش نظر رکھتا ہے، جیسے نکاح بہت سی حکمتوں پر مبنی ہے، جس طرح طلاق ناپسندیدہ ہونے کے باوجود بعض حالات میں شادی شدہ افراد کے لئے ناگزیر ضرورت بن جاتی ہے، یہی حال تعدد ازدواج کا ہے، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بیوی میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی، کبھی کوئی عورت ایسی بیماریوں میں مبتلا ہوتی ہے جو ہم بستری سے مانع بن جاتی ہیں، ان حالات میں اگر دوسری شادی کی اجازت نہ دی جائے تو یہ مرد پر ظلم ہوگا، بعض مردوں میں قوت اور شہوت زیادہ ہوتی ہے، ایک بیوی سے ان کی ضرورت پوری نہیں ہوتی، یوں بھی خواتین کو ہر ماہ مخصوص ایام کے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے، حمل اور ولادت کے زمانے میں بھی مرد اپنی بیوی کے قریب نہیں جاسکتا ان حالات میں انصاف اور حکمت کا تقاضا تو یہی ہے کہ مردوں کو تعدد ازدواج کی اجازت دی جانی چاہئے، ورنہ وہ حرام راستے سے بھی اپنی ضرورت پوری کرسکتے ہیں، معاشرے میں مردوں کی تعداد زیادہ اور عورتوں کی کم رہتی ہے، ایسی صورت حال میں بھی یہ ضروری ہے کہ ایک سے زیادہ شادی کی اجازت ہو، ورنہ بہت سی عورتیں بن بیاہی رہ جائیں گی، جس سے معاشرے میں جنسی عدم مساوات کے ساتھ دوسری بہت سی برائیاں بھی پیدا ہوں گی، مصلحت کا تقاضا تو یہ ہی ہے کہ مردوں کو ایک سے زیادہ بیوی رکھنے کی اجازت ہونی چاہئے کیوں کہ اس طرح وہ بن بیاہی خواتین کی تعداد میں کمی لانے کا سبب بھی بن سکتے ہیں، اور بہت سی خواتین کی معاشی کفالت کا ذریعہ بھی، شادی کے ذریعے عورتوں کو معاشی کفالت ہی میسّر نہیں آتی بل کہ انہیں باعزت اور آبرو مندانہ زندگی گزارنے کے لئے ایک مضبوط سہارا بھی مل جاتا ہے، مرد کاروبار زندگی میں زیادہ مصروف ہوتے ہیں، اس کے لئے انہیں سفر کی ضرورت بھی پیش آتی ہے، یہ سفر بعض اوقات ہفتوں، اور مہینوں کو بھی محیط ہوتا ہے، مرد کو بیوی کی صورت میں ہم سفر کی ضرورت رہتی ہے، بچوں کی تربیت اور امور خانہ داری کی مصروفیت کا تقاضا یہ ہے کہ بیوی گھر پر رہے، دوسری طرف شوہر کی ضرورت کا تقاضا یہ ہے کہ بیوی اس کے ساتھ جائے، اگر دوسری بیوی موجود ہو تو اس مشکل پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے۔
اسلام نے ایک سے زیادہ شادی کرنے کی اجازت تو دی ہے، مگر اس کو لازم نہیں کیا، اور اجازت بھی ایک ایسی شرط کے ساتھ مشروط کردی ہے جس کی تکمیل کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے، اور وہ شرط ہے دو یا دو سے زیادہ بیویوں کے ساتھ عدل وانصاف کرنا، تاکہ کسی ایک کو یہ شکایت نہ ہو کہ اس کے مقابلے میں دوسری بیوی کو زیادہ ترجیح دی جارہی ہے، اس سلسلے میں قرآن کریم کی یہ آیت ہمارے لئے مشعل راہ ہے، فرمایا: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتَامیٰ فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِنَ النِّسَآئِ مَثْنیٰ وَثُلٰثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً۔ (النساء: ۳) ’’اور اگر تمہیں یہ ڈر ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے ساتھ انصاف نہ کرسکوگے تو جو عورتیں تمہیں اچھی لگیں ان سے نکاح کرلو، دو دو، تین تین، چارچار سے لیکن اگر تمہیں عدل اور برابری نہ کرپانے کا ڈر ہو تو ایک ہی کافی ہے‘‘۔ قرآن کریم کی اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ کثیر زوجگی کے معاملے میں عدل شرط اوّلیں ہے، جو لوگ اس شرط کے متحمل نہیں ہیں ان کو ایک ہی بیوی پر قناعت کرنا چاہئے، یہی ان کے حق میں بہتر ہے، عدل یہ ہے کہ تمام بیویوں کے یہاں شب باشی میں عدل ہو، ضروریات زندگی کی فراہمی میں بھی انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں، ہمارے اکابر میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے دوسرا نکاح کیا، کیوں کہ پہلی بیوی سے کوئی اولاد نہیں تھی، پہلی اہلیہ محترمہ ہی نے بہ اصرار حضرت کو دوسرے نکاح پرآمادہ کیا، حضرت کے یہاں عدل کا کس قدر اہتام تھا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ خانقاہ امدادیہ کی سہ دری میں جہاں حضرت تشریف فرمارہتے تھے ایک ترازو لٹکی رہتی تھی، کوئی بھی چیز آتی اس کے دو حصے کئے جاتے اور برابر تول کر دونوں گھروں میں بھجوائی جاتی، اگر کپڑا آتا تو یہ سوچے بغیر کہ کاٹنے سے کپڑا بیکار ہوجائے گا اس کے دو ٹکڑے کرتے اور دونوں گھروں میں بھجواتے، اگر اس درجے کا عدل اور انصاف ہو تو ایک سے زیادہ نکاح کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن نکاح کی صحت عدل کی شرط پر موقوف نہیں ہے، نکاح عدل نہ ہونے کی صورت میں بھی منعقد ہوگا اور باقی رہے گا، البتہ عدل نہ کرنے کا گناہ ضرور ہوگا، جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم نے عدل کی شرط لگا کر دوسری شادی کا دروازہ بند کردیا ہے وہ حدیث کے ذخیرے پر بھی نظر ڈال لیں جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو بہت سے صحابہؓ کے گھر میں چار سے زیادہ بیویاں تھیں، آپ نے پانچویں، چھٹی، ساتویں کو طلاق دلوائی اور چار کی اجازت دی، اس سے صاف ظاہر ہے کہ آیت عدل سے اجازت ختم نہیں ہوتی ہے، بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے سے گھر کا امن وسکون درہم برہم ہوجاتا ہے، یہ مفروضہ غلط ہے، ایسے بھی گھر موجود ہیں جہاں ایک بیوی ہے، اور گھرمیں سکون کا فقدان ہے، اب رہی یہ بات کہ عورت کو تعدد ازدواج کی اجازت کیوں نہیں، یہ سوال وہی لوگ کر سکتے ہیں جو عورت کی قدر ومنزلت کی حقیقت کو نہیں سمجھتے، وہ یہ بھی نہیں سمجھتے کہ عورت کے اگر ایک سے زیادہ شوہر ہوں تو اس سے نزاع بھی پیدا ہوگا، اولاد کا نسب بھی ضائع ہوگا، اور ان کی تربیت وکفالت بھی متأثر ہوگی۔
ضرورت ہے کہ تعدد ازدواج کے معاملے کو ہلکا نہ سمجھا جائے، اس کا تعلق ان امور سے ہے جن کی شریعت نے اجازت دی ہے، کسی عدالت یا حکومت کو یہ حق نہ ہونا چاہئے کہ وہ شرعی مباحات کو محرّمات میں تبدیل کرے یا ان کی صحت کو کسی شرط کے ساتھ مربوط کردے۔
[email protected]

You may also like

Leave a Comment