تشدد اور نقصان دہ محبت کا شکار بچپن:تدارک کی ضرورت


ڈاکٹر منور حسن کمال
جنگ زدہ ممالک ہوں یا تشدد کے شکار ممالک اور علاقے، ہر جگہ بچوں پر اس کے منفی اثرات پڑنا ایک عام سی بات ہوگئی ہے۔ حقوق انسانی کی تنظیمیں یا فروغ اطفال کے ادارے جب تک ان کی خبر گیری کے لیے آگے آتے ہیں، اس وقت تک بے شمار بچے یا تو موت کا شکار ہوجاتے ہیں یا بھوک اور افلاس کی نذر ہوچکے ہوتے ہیں۔ گزشتہ ماہ یمن میں ایک اسکول پر اتحادی فوج کی بمباری میں درجنوں بچوں کی ہلاکت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جنگ زدہ علاقوں میں فریقین یہ نہیں دیکھتے کہ کہاں بچوں کا اسکول ہے اور کہاں مریضوں کا اسپتال۔ انہیں تو بم برسانا ہے، چاہے اس میں سیکڑوں بچے موت کا شکار ہوجائیں، معذور ہوجائیں یا جن کے والدین فوت ہوجائیں وہ در در بھٹکنے کو مجبور۔ بین الاقوامی ادارے سیو دی چلڈرن(Save the Children) کی ایک رپورٹ کے مطابق یمن میں کم وبیش 50 لاکھ بچے قحط کا شکار ہیں اور غذائی اجناس ان سے کوسوں دور ہیں۔ اسی ادارے نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ یمنی کرنسی کی قدر میں گراوٹ کے سبب غذائی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور کتنے ہی خاندان بھکمری اور خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔
یمن میں حوثی باغیوں اور حکومت کے درمیان جنگ کا آغاز 2015کے اوائل میں ہوا تھا۔ پھر اس جنگ میں سعودی عرب اور اتحادی ممالک بھی شامل ہوگئے۔ وہاں اساتذہ اور سرکاری ملازمین کو وقت پر تنخواہیں بھی نہیں مل پارہی ہیں اور جنگ کے بعد سے گزشتہ ماہ تک غذائی اجناس کی قیمتوں میں 68 فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے۔ جہاں تک یمنی کرنسی کی بات ہے تو اس کی قدر میں ریکارڈ 180فیصد کمی واقع ہوچکی ہے۔ ایک طرف تو قحط کا بحران، تو وہیں دوسری طرف وبائی امراض بھی اپنے پاؤں پسار رہے ہیں۔ یمن میں ہیضے کے خوفناک عفریت نے ہزاروں بچوں کو اپنی زد میں لے لیا ہے۔ مذکورہ ادارے کا دعویٰ ہے کہ اس نے 5 برس سے کم عمر کے تقریباً4 لاکھ بچوں کو امداد پہنچائی ہے۔
پڑوسی ملک پاکستان میں بھی معصوم نونہالوں کی صورتحال بہت زیادہ اچھی نہیں ہے۔ گزشتہ صدی کے آخری برسوں میں جاوید اقبال نامی شخص پر کم وبیش 100 بچوں کو جنسی تشدد کے بعد ہلاک کرنے کے انکشاف سے وہاں بچوں کے تحفظ کا مسئلہ سامنے آیا تھا۔اسے عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی، لیکن کچھ عرصے کے بعد وہ اپنے سیل میں مردہ پایا گیا تھا۔ روشنی ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن (Roshni Research and Development Welfare Organization) کا کہنا ہے کہ اُس وقت اگر انتظامیہ اور نظم ونسق سنبھالنے والے ادارے بچوں کی گمشدگی کی رپورٹیں درج کرتے اور تحقیق کی جاتی تو یہ معاملہ بہت پہلے سامنے آسکتا تھا۔ اس ادارے کا کہنا ہے کہ وہاں آج بھی صورتحال بہت بہتر نہیں ہے۔ 18 سال سے کم عمر کے بچوں کی ایک تشریح یہ سامنے آتی ہے کہ وہ جب تک 18 برس کا نہ ہوجائے، وہ بچہ ہی ہے۔ اگر وہ گھنٹوں، دنوں یا مہینوں سے اپنے والدین کے رابطے میں نہیں ہے تو وہ گمشدہ ہے اور اس کے ساتھ کوئی بھی حادثہ یا واردات رونما ہوسکتی ہے۔ وہ کسی ندی نالے میں گر کر زخمی ہوسکتا ہے، اس کو ورغلایا جاسکتا ہے، بھکاری مافیا اس کا اغوا کرسکتے ہیں، جنسی تشدد کا شکار بنایا جاسکتا ہے،یا زرتاوان کے لیے اس کو اغوا کیا جاسکتا ہے۔ یہاں تک کہ کسی دوسرے ملک میں بھی اسے اسمگل کیا جاسکتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جو گروہ بچوں کو اغوا کرتے ہیں وہ انہیں پہلے تو تشدد کا شکار بناتے ہیں، پھر انہیں گدا گری کے لیے بڑے شہروں کے مختلف علاقوں میں چھوڑ دیتے ہیں اور گروہ کے ممبران باضابطہ ان کی نگہداشت کرتے ہیں۔ اگر کوئی بچہ گداگری سے انکار کرتا ہے، یا ان کی مطلوبہ رقم بھیک میں جمع نہیں کرپاتا تو اس کو اتنا زدوکوب کیا جاتا ہے کہ بعض مرتبہ اس کے ہاتھ پاؤں تک ٹوٹ جاتے ہیں، پھر اس معذور کو گدا گری کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے، تاکہ لوگ ہمدردی میں اسے بھیک دیں۔
کئی گروہ بڑے شہروں میں ایسے بھی ہیں جو بے اولاد جوڑوں کی فطری خواہش کہ ان کا بھی کوئی بچہ ہو، کو پورا کرنے کے لیے بچوں کا اغوا کرتے ہیں۔ حالانکہ حکومتی سطح پر ان کی گرفتاری کے لیے سخت انتظامات ہیں، لیکن پھر بھی بعض جگہوں پر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔اِدھر ہمارے ملک میں بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2012 سے 2016 یعنی 5برس کے درمیان جنسی تشدد کے واقعات میں دوگنا اضافہ سامنے آیا ہے۔ ہندوستان میں 2007 میں وزارت برائے خواتین وفروغ اطفال نے ایک سروے کرایا تھا، جس میں ہندوستان کی 13ریاستوں کے 17ہزار سے زیادہ بچوں نے شرکت کی تھی۔ سروے میں شریک 53.2 فیصد بچوں نے کہا تھا کہ انہیں ایک یا ایک سے زیادہ مرتبہ جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ شورش زدہ کشمیر میں بھی یتیم ویسیر بچوں کی تعداد کثیر ہے۔ اِن بے سہارا اور بے آسرا بچوں کے صحیح اعداد وشمار واضح نہیں ہیں لیکن اچھی بات یہ ہے کہ یہاں کئی ادارے سرگرم عمل ہیں اور مختلف یتیم خانوں میں اِن بچوں کی پرورش وپرداخت ہورہی ہے۔ پڑوسی ملک نیپال سے بچوں اور بچیوں کی اسمگلنگ کے واقعات آئے دن سامنے آتے رہتے ہیں۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق نیپال میں انسانی اسمگلنگ کا شکار ہونے والی لڑکیوں نے بتایا کہ انہیں جلد جوان کرنے اور جسم فروشی کے دھندے میں دھکیلنے کے لیے ہارمونز کے انجکشن دیے جاتے ہیں اور دوا بھی کھلائی جاتی ہے۔ ایک لڑکی نے بتایا وہ کہتے ہیں کہ میں دوا کھا کر جلد بڑی ہوجاؤں گی اور اپنے گھر واپس جاپاؤں گی۔ اسمگلر کمسن بچیوں کا اس لیے انتخاب کرتے ہیں، کیونکہ بڑی لڑکیاں پہچان لی جاتی ہیں اور بارڈر پر پولیس انہیں پکڑ لیتی ہے، جبکہ کمسن بچیوں کو وہ اپنی بچی بتا کر آسانی سے لے جاتے ہیں۔
تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں بچے انرجی ڈرنکس کا بہت زیادہ استعمال کررہے ہیں۔ یہ مشروبات بچوں میں صحت سے متعلق کئی مسائل پیدا کرتے ہیں اور والدین محبت میں خاموش رہتے ہیں۔ برطانیہ میں عوامی صحت عامہ کے وزیر اسٹیو برائن کا کہنا ہے کہ بچوں کی صحت اور تعلیم کو خراب کرنے والی اشیاء سے انہیں بچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے کہ کیفین اور چینی سے بھرے ہوئے مشروبات بچوں کی معمول کی خوراک کا حصہ بنتے جارہے ہیں۔ یہ بچے یوروپ کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پہلے ہی 50 فیصد زیادہ ایسے مشروبات استعمال کررہے ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم تھریسامے کا خیال ہے کہ بچپن میں موٹاپا ہمارے ملک کا سب سے بڑا صحت کا مسئلہ ہے اور وہ ایسے اقدامات کررہے ہیں کہ ان میں چینی کا استعمال کم ہوجائے اور بچے صحت مند چیزوں کا انتخاب کریں۔
فروغ اطفال کے لیے کام کرنے والے اداروں کو چاہئے کہ وہ ہر سطح پر بچوں کی مدد اور نگہداشت کی کوشش کریں۔ اسکولوں میں ورکشاپ کا انعقاد کریں، والدین کے سامنے باہمی صلاح ومشورے سے کوئی ایسا لائحہ عمل مرتب کریں کہ والدین اور سرپرستوں کو ناگوار بھی نہ گزرے اور بچے بھی راہ راست پر آجائیں، لیکن یہ بچوں کے مزاج اور عادات کے مطابق ہونا چاہئے۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انہیں ایسے اہداف کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جہاں پہنچنا ان کے لیے ممکن نہیں ہوتا اور اس میں ان کا بچپن کہیں کھوجاتا ہے۔ بچپن کو بچانا بھی ضروری ہے، تاکہ بچے کا بچپن بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کے ذہن میں کشادگی آتی جائے اور وہ ترقی کے زینے طے کرتا جائے۔ قدرتی رفتار سے جب بچے بڑے ہوں گے تو وہ کامیابی کی نئی عبارت لکھیں گے اور نئی منزلیں ان کا استقبال کریں گی۔ جہاں تک بچوں کے اغوا اور انہیں گداگری کے پیشے میں دھکیلنے کی بات ہے تو اس سلسلے میں انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ہمارے ادیب بھی اہم خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ اس لیے کہ آج بچہ کتاب، کمپیوٹر اور قلم کا نیا استاد بن کر ابھر رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر ہمارا ملک ہی نہیں پوری دنیا کے بچے کامیاب مستقبل کی جانب قدم بڑھائیں گے۔ اس لیے کہ یہی بچے کل کے ملک کے عظیم معمار ہیں۔