تخلیق کار کا کرب ہی اظہار کے وسیلے ڈھونڈتا ہے: پروفیسر ابنِ کنول


حیدرآباد: (قندیل نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں منعقد ’’تخلیق کار سے ملاقات اور افسانوی نشست‘‘ پروگرام میں اردوکے معروف افسانہ نگار پروفیسر ابن کنول نے شعبہ کے طلبا و طالبات سے خطاب کیا۔ پروفیسر موصوف نے طلبا سے کہا کہ تخلیق کار کا کرب ہی اظہار کے وسیلے ڈھونڈتا ہے۔ انہوں نے تخلیق کی راہ میں قدم رکھنے والے نئے تخلیق کاروں کو داستانوں کے مطالعہ کا مشورہ دیا۔ پروفسر ابن کنول نے اردو کی بقا کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ ہر دور میں بزرگوں کو یہ خوف رہتا ہے کہ ہماری زبان آنے والی نسلوں تک نہیں پہنچ پائے گی لیکن دراصل اردو کی بقا ان لوگوں ہی سے ہے جو ہر دور میں اپنی مادری زبان کے تئیں اپنے دل میں کرب رکھتے ہیں اور یہی لوگ اردو زبان کو ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔ پروگرام میں پروفیسر ابن کنول نے اپنا افسانہ ’’نیا درندہ‘‘ بھی سنایا۔ پروفیسر ابن کنول فی الوقت دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں صدر کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ پروگرام کی ابتدا میں پروفیسر فاروق بخشی نے ابن کنول کا تعارف پیش کیا۔ صدارتی کلمات میں شعبۂ اردو کے صدر اور اسکول برائے السنہ، لسانیات اور ہندوستانیات کے ڈین پروفیسر نسیم الدین فریس نے مہمان محترم کی آمد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی تخلیقات میں زمان و مکان کی ہم آہنگی کا ذکر کیا۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر وسیم بیگم نے کیا۔ پروگرام میں ڈاکٹر اسلم پرویز، پروفیسر ابو اکلام، ڈاکٹر شمس الہدیٰ اور ڈاکٹر مسرت جہاں کے علاوہ پروفسیر ظفر الدین، پروفیسر وہاب قیصر،پروفیسر شاہد نوخیز، ڈاکٹر سید محمود کاظمی، ڈاکٹر کہکشاں لطیف، ڈاکٹر شمس الدین، ڈاکٹر اکبر اور ڈاکٹر ظفر گلزار کے علاوہ ریسرچ اسکالرز اور طلبا و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔