تحریک آزادی میں علمائے کرام کا حصہ


ڈاکٹرمولانا ابوالکلام قاسمی شمسی 
آزادی ہر قوم کا پیدائشی حق ہے اور یہ انسانی فطرت کا خاصہ بھی ہے۔ اس حق اور فطرت کا تقاضہ ہر ملک کے انسانوں میں ہے۔ اسی تقاضہ کا نتیجہ تھا کہ ہندوستان کی تحریک آز ادی میں ہر طبقہ کے لوگوں نے حصہ لیا۔ لیکن ہندوستا ن کے علماء تاریخ عالم کے خلاف جذبہ آزادی سے خاص طور پر سرشار تھے۔ دنیا کی تاریخ میں عام طور پر مذہبی لوگوں نے ہر آنے والے انقلاب اور آزادی کا راستہ روکا ہے، مگر ہندوستان کا حال مختلف ہے۔ یہاں کے علماء نے انقلاب اور آزادی کے لئے ہراول دستہ کے طور پر کام کیا ہے۔مفتی انتظام اللہ شہابی تحریر کرتے ہیں:
’’ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں علماء کا جس طرح شاندار کارنامہ اور جذبہ وطنیت کا مظاہرہ ہے،اس کی مثال کسی دوسری جگہ نظر نہیں آتی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے اقتدار،تغلب اور استیلاکے خلاف سب سے پہلے علماء ہی کی آواز مخالف اٹھی۔‘‘(۱)
علمائے کرام میں جذبہ آزادی کی وجہ بیان کر تے ہوئے شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمدمدنیؒ تحریر کرتے ہیں:
’’ انگریزوں کے سفاکانہ مظالم نے عام مسلمان بالخصوص علمی طبقہ میں آزادی کی عام تڑپ پیدا کی۔‘‘(۲)
۱۸۰۳ء میں ملکی غلامی کے پروانے پر شاہ عالم کے دستخط کے بعد ہندوستان کی آزادی کا خاتمہ ہو رہا تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے اقتدار اور غلبہ کے خلاف کسی میں کچھ بولنے کی ہمت نہیں تھی۔ اسی وقت ایک عالم اٹھا اور اس نے انگریز کے خلاف پہلا نعرہ بلند کیا،اور اس کے خلاف جہاد کا فتوی صادر کیا،وہ شخصیت تھی حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی کی، جو حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے فرزند ارجمند تھے۔ ساتھ ہی شاہ عبدالعزیز ؒ کے داماد حضرت مولانا سیدعبدالحئ ؒ نے حکم دیا کہ دہلی سے کلکتہ تک انگریز کے خلاف جنگ کرنا خدائی فیصلہ ہے۔ یہی وہ اعلان جہاد اور فتوی تھا جس کے مطابق ہندوستان کے علمائے کرام ہندوستان کی آزادی کے لئے آگے بڑھے۔ اور اس اعلان نے تو علماء کی ایک جماعت کو میدان جنگ میں کھڑا کر دیا، جس کی تفصیل آئندہ صفحات میں مذکور ہے۔
ڈاکٹر ہنٹر نے لکھا ہے:
’’علماء میں سے جو لوگ زیادہ زیرک (عقلمند)تھے۔ انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کی حیثیت میں آنے والے تغیر کو بہت پہلے بھانپ لیا تھا۔ یہ تغیر اب ایک حقیقت بن چکا ہے ۔ وقتاً فوقتاً شائع ہونے والے فتوؤں سے یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے۔ ‘‘(۳)
ڈاکٹر اقبال حسین خاں تحریر کرتے ہیں:
’’پوری جنگ آزادی میں مسلم علماء نے بہت اہم کردار ادا کیا ۔اس لئے انگریز ایک طرف ان سے خائف بھی رہتے تھے، دوسری طرف درپردہ انہیں زک پہنچانے کے لئے کو شش کرتے رہتے۔ انگریزوں نے بڑی کوشش کی کہ علماء کی توجہ اپنی طرف سے ہٹا کر ان کو داخلی مسائل میں الجھا دیں۔اس سلسلہ میں انہوں نے کثرت سے مذہبی اختلافات پیدا کرا دئیے، جو بیشتر بے بنیاد یا انتہائی سطحی بنیادوں والے تھے۔ علماء کے لئے روز افزوں داخلی انتشار سد راہ ضرور بنا۔ لیکن اصل مرکز انگریز ہی رہے۔ ‘‘(۴)
مزید تحریرکرتے ہیں۔
’’علماء نے اپنے وقار و منزلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قوم کو غیر ملکی اقتدار کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کے لئے آمادہ کیا ۔اس مقصد سے انہوں نے ہندوستان کو دارالحرب قرار دیا۔(۵)
مسٹر ہمفرے نے جو برطانوی جاسوس تھا ،لکھا ہے:
’’مسلمان علماء بھی ہماری تشویش کا باعث تھے۔ یہ لوگ اس قدر متعصب تھے کہ اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے۔بادشاہ اور امراء تمام افراد ان کے آگے جھوٹے تھے۔ ‘‘(۶)
ہنری ہملٹن تھامس (Henry Hemilton Thomes)نے ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی پرتبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’میں نے پہلے بیان کیا ہے کہ غدر ۱۸۵۷ء کے بانی اور اصل محرک ہندو نہ تھے۔ اور اب میں یہ دکھانے کی کوشش کرونگا کہ یہ غدر مسلمانوں کی سازش کا نتیجہ تھا۔ہندو اگر اپنی مرضی اور خواہشات تک محدود ہوں تو وہ کسی ایسی سازش میں شرکت نہیں کر سکتے تھے، نہ کرنا چاہتے تھے۔‘‘(۷)
پنجاب میں سکھ انگریزوں سے معاہدے کر رہے تھے۔ اس سے آزادی کی تحریک کے لئے خطرات تھے۔اس لئے علماء نے سرحد بالاکوٹ میں پہلے سکھوں اور پھر انگریزوں کے خلاف لڑائی کی۔اس جنگ کے رہنما حضرت سید احمد شہیدؒ اورمولانا اسمٰعیل شہید ؒ تھے۔ حضرت سید احمد شہید ؒ نے شروع میں نواب امیر خان والی ٹونک کو مدد پہنچائی۔لیکن جب نواب صاحب نے انگریزوں سے صلح کا فیصلہ کیا، تو حضرت سید احمد شہید ؒ نے ان کے سامنے ان الفاظ میں اپنی برہمی کا اعلان کیا:
’’ نصاریٰ(انگریزوں) سے نہ ملیں بلکہ لڑیں ۔خدائے تعالیٰ آپ کے ساتھ ہے۔‘‘(۸)
پھر جب وہ نہ مانے تو فرمایا:
’’اگر آپ نصاریٰ (انگریزوں) سے ملنے جاتے ہیں تو میں آپ سے رخصت ہوتا ہوں۔‘‘(۹)
اپنی تحریک کو مضبوط کر نے کے لئے علمائے کرام نے ہر اس شخص کو دعوت دی، جو انگریز وں کے خلاف لڑنے کے لئے تیار تھا۔ چنانچہ انہوں نے سرحد کی انقلابی تحریک میں مہاراجہ گوالیار کو بھی شرکت کی دعوت دی۔
۱۸۲۰ء میں حضرت سید احمد شہیدؒ اور مولانا اسمٰعیل شہیدؒ کی قیادت میں آزاد حکومت بھی قائم ہوئی۔ مگر انگریزوں کی سازش اور اپنوں کی بے وفائی سے یہ حکومت نا کام ہو گئی ۔ با لآخر ۱۸۳۱ء میں دونوں مجاہد بالا کوٹ میں شہید کر دےئے گئے۔ مگر یہ تحریک ’’تحریک مجاہدین‘‘ کے نام سے جاری رہی ۔
حضرت سید احمد شہید ؒ اور مولانا اسمٰعیل دہلوی کی شہادت کے بعد تحریک مجاہدین کی قیادت علمائے صادقپور کے حصہ میں آئی۔ علمائے صادقپور نے اس تحریک کو آگے بڑھا یا۔اس تحریک کے قائد مولانا ولایت علیؒ نے سرحد ی علاقوں کے مرکزکی کمان اپنے ہاتھ میں لیا۔مولانا ولایت علی ؒ اور مولانا عنایت علیؒ دونوں حضرات سرحد پار انگریزوں سے لڑائی کر تے ہوئے گرفتار کر لئے گئے۔اور انہیں پٹنہ بھیج دیا گیا۔ مولانا عنایت علی نے ۱۸۵۴ء میں انگریزوں کے حلیف نواب امب پر حملہ کیا۔ اوران کی سر سڈنی کاٹن کی فوج سے ٹکر ہوئی۔آخر انگریزی فوج کے محاصرہ میں بھوک پیاس اور بیماری سے جان دیدی۔اس تحریک میں علمائے صادقپور( عظیم آباد) نے نہایت اہم رول ادا کیا۔ مولانا عبداللہ صادقپوریؒ نے ۱۲۰۰ مجاہدین کی فوج تیار کی اور انگریزوں سے مقابلہ کیا۔ جس کے نتیجہ میں مولانا یحیے علیؒ اور مولانا احمداللہؒ پر انبالہ اور پٹنہ میں مقدمہ سازش چلایا گیا۔ ان حضرات کی خانہ تلاشی ہوئی۔ ۱۸۵۷ء کی ۱۸؍جون کو مولانا احمد اللہ صادقپوریؒ ، مولانا شاہ محمد حسین صادقپوریؒ اور مولانا واعظ الحقؒ ساکن بخشی محلہ نظر بند کر دےئے گئے۔انہیں ویلیم ٹیلر کمشنر پٹنہ نے تین مہینہ نظر بند رکھا۔ ان واقعات کے بعد ۱۸۵۷ء کا عذر ہوا ۔
۱۸۶۳ء میں پھر مجاہدین کا انگریزوں سے مقابلہ ہوا۔ جس کے نتیجہ میں صادقپور کے علماء میں سے مولانا احمداللہ کے چھوٹے بھائی مولانا یحیے علی اور مولانا عبد الرحیم صادقپوریؒ گرفتار کر لئے گئے۔اسی موقع پر مولانا جعفر تھا نیسریؒ کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔اور یہ سبھی حضرات انبالہ بھیج دےئے گئے۔ اور انہیں مقدمہ کے بعد کالا پانی میں عمر قید کی سزا ملی۔پھر ۱۸۸۵ء میں مولانا احمداللہ پر بغاوت کا مقدمہ قائم کیا گیا۔اور انہیں بھی عمر قید کی سزا ملی۔ ان کی ساری جائدادیں ضبط کر لی گئیں۔ مولانا احمداللہؒ نے ۱۸۸۲ء میں اور مولانا یحیے علیؒ نے ۱۸۸۶ء میں جزیرہ انڈمان میں وفات پائی ۔اسی سلسلہ میں مولانا محمد حسن کو بھی ۱۸۶۸ء میں گرفتار کیا گیا۔ اور ان پر اتنا ظلم ڈھایا گیا کہ وہ شہید ہوگئے۔
۱۸۵۷ء میں شاملی کے میدان میں علمائے کرام نے انگریزوں کے خلاف جنگ شروع کی۔ جس کی امامت حضرت حاجی امداداللہؒ اور قیادت مولانا محمدقاسم نانوتویؒ ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ ، مولانا منیر اور حافظ ضامن شہید کررہے تھے۔ان قائدین کے پیچھے مسلمانوں کی ایک بڑی فوج تھی۔ اس فوج کا ایک دستہ مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ کی قیادت میں ہتھیار اور بندوق سے لیس ہوکر باغ میں چھپ گیا۔ جب انگریزی فوج وہاں سے گذری، تو اس دستہ نے فائر شروع کر دیا۔ جس سے انگریزی فوج توپخانہ چھوڑ کر بھاگ کھڑی ہوئی۔ اس کے بعد مجاہدین نے شاملی کے فوجی کیمپ پر حملہ کردیا۔ وہاں فوج نے ہتھیار ڈال دےئے۔ یہ جنگ جاری ہی تھی کہ دہلی پرانگریزوں کا قبضہ ہوگیا۔ اس جنگ میں حافظ ضامن شہید ہو گئے۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ مظفرنگر جیل میں ڈال دےئے گئے۔ مولانا محمد قاسم نانوتویؒ تہہ خانہ میں چھپ گئے۔ انگریز فوج ان کی تلاش کر تی رہی۔ حضرت حاجی امداداللہؒ ہجرت کرکے مکہ معظمہ چلے گئے۔ شاملی کے محاذ کے پس منظر میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے ۱۸۵۷ء کے دس سال بعد ۱۸۶۶ء میں دارلعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی۔اور انقلابیوں کی ایک جماعت پیدا ہونے لگی۔ اس انقلابی مرکزکی قیادت حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کے ہاتھوں میں تھی۔ چنانچہ حضرت شیخ الہند ؒ نے آزادی کے لئے ایک خفیہ محاذ ۱۹۰۵ء میں قائم کیا۔اور پھر اندرونی اور بیرونی دونوں ہی طریقوں پر ملک کی آزادی کے لئے جدوجہد شروع کی ۔ بیرونی ملک کا کمان مولانا عبیداللہ سندھیؒ کے حوالہ کیا گیا۔ مولانا سندھی نے اس سلسلہ میں قابل قدر خدمات انجام دےئے۔ اور بہت حد تک آزادی کے لئے راستہ ہموار کرلیا۔ انہوں نے کابل پہنچ کر ۱۹۱۹ء میں کانگریس کمیٹی کی بنیاد بھی رکھی ، جس کے الحاق کی منظوری آل انڈیا کانگریس نے اپنے سیشن میں دیدی ۔اس طرح ۱۹۰۵ء سے۱۹۱۵ء تک حضرت شیخ الہند ؒ کی قیادت میں ریشمی خطوط کی سازش چلتی رہی۔ اس تحریک کے دوسرے قائد مولانا منصور انصاریؒ تھے۔ مولاناسندھیؒ اور مولانا منصور انصاریؒ اس سازش کے سلسلہ میں تیس سال افغانستان،روس، ترکی، آذر بائیجان اوریاغستان کے پہاڑوں میں دربدر پھر تے رہے۔ یہاں تک کہ جنوری ۱۹۴۶ء میں بحالت جلاوطنی مولانا منصور انصاری ؒ کا کابل میں انتقال بھی ہوگیا۔ اسی ریشمی خطوط سازش کے نتیجہ میں حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ حجاز میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ گرفتار کرلئے گئے ۔گرفتار ہونے والوں میں شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ ، حکیم نصرت حسین، سید ہاشم اور مولانا عزیز گل سرحدی بھی شامل تھے۔ یہ مجاہدین تین سال دو ماہ تک مالٹا میں انگریز حکومت کے قید کی سختیاں برداشت کر نے کے بعد رہا ہو کر وطن واپس ہوئے ۔ اور پھر ۱۹۱۹ء میں جمعیتہ علماء ہند کا قیام عمل میں آیا ۔ اور ملک کی آزادی کے لئے مسلسل کوشش شروع ہو گئی۔ ملک کی آزادی کے سلسلہ میں جمعےۃ علماء ہند نے جو کام کیا،وہ ہندوستان کی تاریخ کا اہم باب ہے۔ جمعےۃ علماء ہند نے تحریک مجاہدین اور ریشمی رومال تحریک کے تجربہ کی بنیاد پر اس کو محسوس کیا کہ تنہا ملک کی آزادی حاصل کر نا آسان نہیں ہے۔ چنانچہ جمعےۃ علماء ہند نے ۱۹۲۰ء میں ہندو اور مسلمان دونوں کے باہمی اتحاد سے جنگ آزادی میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ اور اس فتوی پر علماء نے دستخط کئے۔ اس فتوی کے نتیجہ میں تقریباً پچاس ہزار مسلمان یا تو جیل گئے یا وطن سے بے وطن کر دےئے گئے ۔ ۱۹۲۰ء سے ۱۹۳۰ء تک جمعےۃ علماء ہند کی قیادت حضرت مولانا ابوالکلام آزاد، حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ اور حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی نے فرمائی۔۱۹۳۰ء کے بعد جمعےۃ علماء ہند میں قابل ذکر علماء کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ جن میں مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن ،مولانا احمد سعید، مولانا سید محمد میاں، مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری ،مولانا شاہد فاخری، مولانا عبد الحلیم صدیقی، مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد، مولانا ابوالوفاء شاہجہاں پوری،مولانا قاسم شاہجہاں پوری اور مولانانورالدین بہاری کے نام شامل ہیں۔ پھر۱۹۴۲ء میں مولانا آزاد کی صدارت میں ہندوستان چھوڑو تحریک شروع ہوئی، تو جمعےۃ علماء ہند اور کانگریس نے اس میں بھر پور حصہ لیا۔آخر ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کو حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ کی پیشین گوئی جو ۱۸۵۷ء میں محاذ شاملی کے بعد کی تھی، وہ پیشین گوئی سچ ہو کر سامنے آئی ’’ ہمارے جسم غلام سہی ،مگر ہماری روح کوآزاد رہنا چاہئے۔ اس طرح ہم اگلے ۵۷ء سے پہلے غیر ملکی غلامی کا خاتمہ کر دیں گے‘‘