Home نظم نام مسلمانوں کی صورت، کام ابولہبوں جیسا

نام مسلمانوں کی صورت، کام ابولہبوں جیسا

by قندیل

تازہ ترین سلسلہ(47)

 فضیل احمد ناصری
شمع کا سارا زورِ حکومت بے چارے پروانے تک
اہلِ جنوں کا ذکرِ درخشاں شہروں سے ویرانے تک
ہم سے جو خاکم بدہن پوچھو مومنِ ہند کا مستقبل
جیل سے چل کر دارورسن یا دارورسن سے تھانے تک
اپنی سیاست: اپنی سیاست خلق خدا کی تسکیں تھی
ان کی سیاست: ان کی سیاست دینِ محمد ڈھانے تک
قہر تو یہ ہے نغمۂ یورپ کے ہم سب دیوانے ہیں
اپنی صدائیں جاتی نہیں ہیں مغرب کے کاشانے تک
نام مسلمانوں کی صورت، کام ابولہبوں جیسا
مردِ صحافت پہونچا بھی تو عورت کے سرہانے تک
زہد کا پیکر، دل کا ابوذر ڈھونڈ لیا، پر مل نہ سکا
چھان چکا ہوں قریہ قریہ، مسجد سے مے خانے تک
اہلِ کلیسا رفتہ رفتہ تخت پہ جا کر بیٹھ گئے
شیخ کی ساری جہدِ مسلسل عہدے اور نذرانے تک
کفر ہی ملجا، کفر ہی ماویٰ، کفر سے توبہ کون کرے
نام کا ایماں رہ گیا زندہ، جمعے کے دوگانے تک
شکوۂ بے ہنگام کی عادت اہلِ خرد کا کام نہیں
گیسوے جاناں کی لمبائی آئے تو دیوانے تک

You may also like

Leave a Comment