Home نظم آزادئ اظہار پہ قدغن ہے ضروری

آزادئ اظہار پہ قدغن ہے ضروری

by قندیل

تازہ ترین سلسلہ(46)

 فضیل احمد ناصری
افکار میں وسعت کے لیے فن ہےضروری
آرائشِ گل فام کو درپن ہے ضروری
الحاد اسی راہ سے پھیلا ہے جہاں میں
آزادئ اظہار پہ قدغن ہے ضروری
دنیا نہیں،ظلمات کی وادی اسےکہیے
ہر ہاتھ میں اسلاف کا دامن ہے ضروری
وہ میرا ہوا خواہ رہا ہے، نہ رہے گا
مندر کی حفاظت کو برہمن ہے ضروری
اے ہمدمِ دیرینہ چلو سیر کو نکلیں
بلبل کی نوا کے لیے گلشن ہے ضروری
اےدشمنِ جاں! قتل نہ کر،چھوڑدےمجھ کو
بجلی کے مزے کے لیے خرمن ہے ضروری
کہتا ہوں بڑی بات، گوارا اسے کرنا
بدعات کی ترویج کو مدفن ہے ضروری
برسات ہے اشکوں کی یہاں سارا زمانہ
ہم وہ نہیں، جس کے لیے ساون ہے ضروری

You may also like

Leave a Comment