Home نظم خود رہبرانِ حق ہی، حیران پھر رہے ہیں

خود رہبرانِ حق ہی، حیران پھر رہے ہیں

by قندیل

تازہ ترین سلسلہ(35)

 فضیل احمد ناصری
بیمارِ عشق ہے جو، کیوں کر اسے شفا ہو
دارو ہی بے اثر ہے، جب درد "لا دوا” ہو
خود رہبرانِ حق ہی، حیران پھر رہے ہیں
یہ کارواں ہمارا، کیوں منزل آشنا ہو
چھوٹا نہ مومنوں کا، دنیا پہ جان دینا
پھر کیسے بت کدوں سے، اسلام کو گلہ ہو
رونق رہی نہ باقی، بزمِ قلندراں کی
گویا کہ شامتوں کا سیلاب بہہ رہا ہو
ان بندگانِ حق کو آنکھیں ترس گئی ہیں
جن کی حیات گویا تصویرِ مصطفیٰ ہو
دل چاہتا ہے میرا، ماضی کو لوٹ جاؤں
ہاتھوں میں ہوں کتابیں، اور سامنے دیا ہو
دل دے دیا بتوں کو، سر دے دیا بتوں کو
اللہ مومنوں کا، پھر کیسے آسرا ہو
اس دور کے مسلماں، بیٹھے ہیں یوں سکوں سے
جیسے سفینہ ان کا، ساحل سے آ لگا ہو

You may also like

Leave a Comment