بی جے پی پارلیمانی انتخابات جیتناچاہتی ہےلیکن کس قیمت پر ؟

عمیر کوٹی ندوی
بی جے پی کے لیڈر بی ایس یدی یورپا نے 27؍فروری کو کرناٹک کے چتردرگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”پاکستان کے اندر گھس کر دہشت گرد کیمپوں کو برباد کرنے کے 26؍فروری کے قدم سے ملک میں مودی کی حمایت میں لہر پیدا ہوئی ہے اور اس کا نتیجہ آئندہ لوک سبھا انتخابات میں نظر آ سکتا ہے……اس نے نوجوانوں میں جوش بھر دیا ہے۔ اس سے ہمیں (کرناٹک میں28 میں سے) لوک سبھا کی 22سے زیادہ سیٹیں جیتنے میں مدد ملے گی……بی جے پی کے حق میں دن بہ دن لہر پیدا ہوتی جارہی ہے”۔ بی ایس یدی یورپا کے مذکورہ بیان کے ساتھ ایک اور بات بھی ذہن میں رہے تو اس مسئلہ پر تصویر کچھ زیادہ ہی صاف نظر آئے گی۔ دی وائر میں 24؍فروری کو شائع اپنے مضمون ” عام انتخابات میں پہلی بار مکمل طور پرکشمیر مدعے کاسیاسی استعمال ہوگا” کا آغاز معروف صحافی اور دی وائر کے بانی ایڈیٹروں میں سے ایک ایم کے وینو نے ان الفاظ سے کیا تھا کہ ” پلواما حملے کے بعد حالات ایسے ہیں کہ بی جے پی اس کا سیاسی فائدہ لینے کے لالچ سے بچ ہی نہیں سکتی۔ نریندر مودی کے لئے اس سے بہتر اور کیا ہوگا کہ نوکریوں کی کمی اور زرعی بحران سے دھیان ہٹاکر انتخابی بحث اس بات پر لے آئیں کہ ملک کی حفاظت کے لئے سب سے زیادہ اہل کون ہے؟”۔ انہوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ ” سچائی یہی ہے کہ ہم بھلے اس کو پسند کریں یا نہ کریں، پلواما کی سیاست کیا جانا طے ہے۔ حزب مخالف پارٹیوں کو پوری طرح سے اس کے لئے تیار رہنا چاہیے”۔ بی ایس یدی یورپا کے مذکورہ بیان نے ثابت کردیا ہے کہ حقیقت میں اس وقت یہی ہو رہا ہے جوایم کے وینو نے کہا تھا۔
برسر اقتدار طبقہ کی پوری سیاست ، پوری انتخابی مہم اسی نکتہ کے ارد گرد گھوم رہی ہے اور مسئلہ کو زیادہ سے زیادہ گرمانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پلواما واقعہ کے وقت برسر اقتدار طبقہ کی سیاست کس مقام پر تھی اس کا اندازہ چودھری اجیت سنگھ کی پارٹی راشٹریہ لوک دل کے قومی جنرل سکریٹری شیوکرن سنگھ کی اس بات سے لگایا جاسکتا ہے جو انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔راشٹریہ لوک دل کے قومی جنرل سکریٹری نے کہا ہےکہ "انتخابی سال چل رہا ہے اور بی جے پی حیرت انگیز طرز عمل سے کام کر رہی ہے۔ ملک کے 43 سی آر پی ایف کے اہلکار ان کی ‘انٹیلی جنس کی ناکامی’ کی وجہ سے قبل از وقت موت کا شکار بن گئے۔ اس غیر متوقع واقعہ کی وجہ سے سبھی سیاسی جماعتوں نے اپنے تمام پروگراموں کو ملتوی کردیا لیکن بی جے پی کی انتخابی ریلی اس دن بھی منعقد ہوئی اور ملک کے وزیراعظم مسلسل انتخابی ریلیاں کرتے رہے”۔اس وقت بھی بی جے پی کاطرز عمل حیرت انگیز طور پر ‘انتخابی ریلیوں’ اور ‘ انتخابی مہم’ والا ہی رہا جب ہمارے ملک کی فضائیہ نے پاکستان کے اندر داخل ہو کر کارروائی کی۔ اس کارروائی کے تعلق سے ہمارے ملک نے بہت ہی محتاط اور نپے تلے الفاظ میں اپنی بات رکھی۔ یہ کارروائی 26؍فروری کی شب میں کی گئی تھی اور دن میں ساڑھے گیارہ بجے داخلہ سکریٹری وجئے گوکھلے نے پریس کانفرنس میں اس کے بارے میں بات کی اور غیر فوجی(non-military) کارروائی بتایا۔
اس قدر محتاط اور نپے تلے الفاظ سے ہمارے ملک کی سیاست نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ یہ بات درست ہے کہ پڑوسی ملک سے ہمارے رشتے کبھی اچھے نہیں رہے ہیں اور ان سے ہمیں بہت سی شکایتیں ہیں۔ حالیہ دنوں میں ناراضگی،شکایتوں، کشیدگی اور ٹکراؤ میں بہت اضافہ ہوگیا ہے۔اس وقت تو صورت حال بہت کشیدہ ہے۔ لیکن یہ عجیب اتفاق ہے کہ اس وقت اس ‘کشیدگی’ کا ہمارے ملک کے اندر حیرت انگیز طور ‘سیاسی استعمال’ ہو رہا ہے۔ حکمراں طبقہ اول وقت سے گرما گرم بیانات دے رہا ہے اور سخت سے سخت الفاظ کا استعمال کر رہا ہے۔ یہ سب انتخابی مہم، جلسوں، ریلیوں اور عوامی جلسوں میں ہو رہا ہے اور ان الفاظ کے ساتھ ہورہا ہے کہ "پلواما واقعہ پر سیاست نہ ہو”، "ملک کے تحفظ اور وقار کے مسئلہ پر سیاست نہ ہو”۔ ہمارے ملک کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ "مجھے مٹی کی قسم ہے، میں ملک کو مٹنے نہیں دوں گا، میں ملک کو لوٹنے نہیں دوں گا”۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ”میں ملک کے لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ملک محفوظ ہاتھوں میں ہے”۔ یہ ایم کے وینو کے الفاظ میں ” نریندر مودی کے لئے اس سے بہتر اور کیا ہوگا کہ نوکریوں کی کمی اور زرعی بحران سے دھیان ہٹاکر انتخابی بحث اس بات پر لے آئیں کہ ملک کی حفاظت کے لئے سب سے زیادہ اہل کون ہے؟”کا ہی حصہ معلوم ہوتا ہے۔ایم کے وینو کا یہ اندازہ بھی درست ثابت ہورہا کہ”ہم اتر پردیش میں آدتیہ ناتھ جیسے کسی آدمی کو اس کی قیادت کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں، جو غالباً بی جے پی کے لئے سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والی ریاست ہے”۔اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے 26؍ فروری کو ہردوئی ضلع میں متعدد منصوبوں کا آغاز کرتے ہوئے کہا ہے کہ”دشمنوں کو جواب دینا مودی کو معلوم ہے۔ناممکن کو ممکن بنانے کا نام مودی ہے……کسی بھی کام کو کرنے کے لئے قوت ارادہ ہونی چاہئے اور مضبوط قوت ارادہ صرف نریندر مودی میں ہے”۔
بی جے پی کے صدر امت شاہ نے غازی پور میں کہا ہےکہ "اپوزیشن اتحاد ملک کی حفاظت نہیں کر سکتا، پاکستان کی دہشت گردی کا منہ توڑ جواب نہیں دے سکتا، دہشت گردی کا خاتمہ نہیں کر سکتا، ملک کی معیشت کو تیز رفتاری نہیں دے سکتا، بھارت کو وشوگرو کے عہدے پر دوبارہ ممیز نہیں کر سکتا ہے”۔ شیوسینا نے یہ کہتے ہوئے کہ”اس کارروائی اور پلواما پر سیاست نہ ہو” وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کی ہے۔ یہ سب بیانات معاملہ کو کس رخ پر لے جارہے ہیں ملک کے عوام اسے خوب سمجھ رہے ہیں اور یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اس کارروائی اور پلواما پر سیاست ہو رہی اور زور وشور سے ہو رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں بھی بی جے پی پر سرجیکل اور ایر اسٹرائیک کا سیاسی فائدہ اٹھانے کا الزام لگاتی رہی ہیں۔یدی یورپا کے بیان سے اس پر بحث کے پھر سےتیز ہونے کی امید ہے۔ کانگریس نے کشیدگی کے اس دور میں پی ایم مودی کے انتخابی پروگرام کرنے پر بھی سوالات قائم کئے ہیں۔ایسے میں اب اس پورے معاملے پر سیاسی بیان بازی کے دور کا آغاز ہوناطے مانا جا رہا ہے۔ یہی سیاست کا سب سے ناپسندیدہ پہلو ہے جہاں انسانیت، اخلاقیات، شہری حقوق، مساوات، عدل وانصاف، سچائی ، حقیقت پسندی اور جمہوریت وجمہوری اقدار کو بالائے طاق رکھ کر کامیابی اور ہر صورت میں کامیابی کو اولیت دی جانے لگتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے جس انداز سے ملک نفرت کے دوش پر سفر کرتا رہاہے ، اس کھیل کے ماہرین چاہتے ہیں کہ آئندہ پارلیمانی انتخابات تک وہ اسی طرح سفر کرتا رہے۔ لیکن کس قیمت پر ، کیاملک کے تحفظ وسالمیت، شہریوں کے جان ومال اور انسانیت کی قیمت پر؟