بھیونڈی فساد۲۰۱۶:دو ملزمین کی ضمانت سپریم کورٹ سے منظور

ممبئی ۳۱؍ اگست
۱۳؍ اکتوبر ۲۰۱۶ء کو گنجان مسلم آبادی والے صنعتی شہر بھیونڈی میں محرم کے موقع پر نکلنے والے تعزیہ کے جلوس کے دوران پھوٹ پڑنے والے فرفہ وارانہ فسادات جس میں ۸؍ افراد شدید زخمی اور چند پولس اہلکاروں کو بھی پتھر بازی کی وجہ سے چوٹیں آئیں تھی کے معاملہ میں گرفتار دو مسلم نوجوانوں کی ضمانت عرضداشت پر آج سپریم کورٹ آف انڈیا میں سماعت عمل آئی جس کے دوران عدالت نے دونوں ملزمین کو مشروط ضمانت پررہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے۔یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربرہ گلزار اعظمی نے ممبئی میں اخبار نویسوں کو دی
آج ملزمین شبیر شاہ اور سلیم شاہ کی ضمانت عرضداشتوں پر بحث سپریم کورٹ آف انڈیا کی تین رکنی بینچ کے جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس نوین سنہا اور جسٹس کے ایم جوزف کے روبرو عمل میں آئی جس کے دوران سابق ایڈیشنل سالیسٹر جنرل آف انڈیا و سینئر ایڈوکیٹ امریندر شرن اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ گورو اگروال نے بحث کی ۔
دفاعی وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں چارج شیٹ نچلی عدالت میں داخل کی جاچکی ہے نیز دو سال کا وقفہ گذر جانے کے باجود ابھی تک معاملے کی سماعت شروع نہیں ہوسکی ہے لہذا ملزمین کو ضمانت پر رہا کیا جائے ۔
اسی درمیان سرکاری وکیل کی ملزمین کی ضمانت پر رہائی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملزمین نے پولس پر حملہ کرکے حکومت کی املاک کو نقصان پہنچایا تھا نیز ان کی ضمانت رہائی سے امن وامان بگڑ سکتا ہے لہذا انہیں ضمانت پر رنہیں رہا کرنا چاہئے۔
فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے ملزمین کو اس شرط پر ضمانت پر رہا کیا کہ وہ جیل سے رہا ہونے کے بعد پولس اسٹیشن مین حاضری دیں گے نیز گواہوں سے کوئی رابطہ نہیں کریں گے اور عدالت کی کارروائی کے وقت عدالت میں حاضررہیں گے۔
گلزار اعظمی نے مزید کہا اس سے قبل تھانہ سیشن عدالت نے اسی معاملے کے ایک دیگر ملزم زبیر عبدالجبار پٹھان کو مشروط ضمانت پر رہا کیا تھا جس کی پیروی جمعیۃ علماء کی جانب سے ایڈوکیٹ شریف شیخ و عبدالمتین شیخ نے کی تھی۔
واضح رہے کہ ۱۳؍ اکتوبر ۲۰۱۶ء کو محرم کے موقع پر بھیونڈی شہر سے تعزیہ کا جلوس نکالا گیا تھا جسے شہر میں گھمایا جارہا تھا اس دوران ہنومان مندر کے پاس چند شرپسندوں نے جلوس میں رخنہ اندازی کی کوشش کی اور شرکاء جلوس پر پتھراؤ کیا جس کے بعد دونوں فرقوں کی جانب سے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا گیا اس دوران پولس بھی پتھراؤں کی زد میں آگئی اور اس کی گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا تھا ۔
حادثہ کی اطلاع ملنے کے بعد شاستری نگر پولس نے ۱۹؍ مسلم نوجوانوں کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات307, 395, 436, 353, 332, 336, 338, 427, 143, 147, 148, 149 ، 34اور پبلک پراپرٹی ڈیمجیس ایکٹ کی دفعہ 3 اور 4نیز بامبے پولس کی دفعہ 37(1) 135 کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا اور ان تمام ملزمین کے خلاف فرد جرم بھی عدالت میں داخل کی تھی۔
گلزار اعظمی نے آخیر میں کہا کہ اس معاملے کا سامنا کررہے دیگر ملزمین کی ضمانت پررہائی کے لیئے وکلاء سے صلاح ومشورہ کرنے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔