بھوپال فرضی انکاؤنٹر کو جائز قرار ردینے والی کمیشن کی رپورٹ سپریم کورٹ میں چیلنج

جمعیۃ علماء نے کمیشن کی رپورٹ پر کھڑے کیئے سوال، ایس آئی ٹی کے ذریعہ تحقیقات کرائے جانے کی مانگ
ممبئی:26؍ جولائی(پریس ریلیز)
مہاراشٹر کی پڑوسی ریاست مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال کے مضافات میں گذشتہ سال فرضی انکاؤنٹر میں مارے گئے آٹھ مسلم نوجوانوں کے معاملے کی تحقیقات کرنے والے یک رکنی عدالتی کمیشن جس نے پولس کے اقدامات کو جائز ٹہراتے ہوئے اپنی ۱۷؍ صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا تھاکہ کریمنل پروسیجر کوڈ کی دفعات 41/42 کے تحت پولس نے کارروائی کی جس پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا کے خلاف جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی ) نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں کریمنل رٹ پٹیشن داخل کردی ہے جس کا ڈائری نمبر 27010/2018 ہے ، یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی ۔
گلزار اعظمی نے بتایا کہ کریمنل رٹ پٹیشن محمد جلیل خلجی کی جانب سے داخل کی گئی جس کو ایڈوکیٹ ساریم نوید اورایڈوکیٹ آستھا شاہ نے تیار کیا ہے جس میں کمیشن کی رپورٹ میں درج خامیوں کو تفصیل سے آگا ہ کرتے ہوئے عدالت عظمی سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ انکاؤنٹر معاملے کی تفتیش اسپیشل انویسیٹی گیشن ٹیم تیار کرکے اس سے کرائی جائے ا ور یہ تحقیقات عدالت کی نگرانی میں ہو۔
عرضداشت میں مزید درج کیا گیا ہیکہ آٹھ مسلم نوجوانوں کے ساتھ انکاؤنٹر کی رات ہلاک ہونیوالے پولس کانسٹبل کی موت کس وجہ سے اور کس نے کی اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہئے نیز متعلقہ پولس افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے عدالت احکامات جاری کرے۔
عرضداشت میں کہا گیا ہیکہ انکاؤنٹر کے معاملات میں سپریم کورٹ کی جانب سے مرتب کردہ رہنمایانہ اصولوں کی دھجیاں اڑائی گئیں جس پر عدالت کو کارروائی کرنا چاہئے نیز انکاؤنٹر کرنے والے پولس اہلکاروں کو سرکار کی جانب سے ایوارڈ اور پروموشن پی یو سی ایل فیصلہ کی روشنی میں غیر واجبی ہے جس پر عدالت کو ایکشن لینا چاہئے۔
عرضداشت میں مزید بتایاگیا کہ گذشتہ برس یکم نومبر کو ایک منصوبہ بند شازش کے تحت مبینہ سیمی کے رکن آٹھ مسلم نوجوانوں کا قتل کیا گیا اور اسے بعد میں انکاؤنٹر کا نام دیا گیا حالانکہ آج تک یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ آٹھ مسلم نوجوان ہائی سیکوریٹی سیل سے کیسے بھاگے تھے بلکہ پولس کی من گھڑت کہانی سے یہ بات واضح ہوتی ہیکہ مسلم نوجوانوں کو ایک منظم شازش کے تحت قتل کیا گیاتھا ۔
عرضداشت میں بتایا گیا کہ سپریم کورٹ کے ٹی ٹی انٹونی بمقابل اسٹیٹ آف کیرالافیصلہ کے مطابق کمیشن کی رپورٹ کوئی حتمی رپورٹ نہیں ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت بھی نہیں ہے بلکہ کمیشن کی رپورٹ صرف حکومت کی معلومات کے لیئے ہوتی ہے لہذا عدالت عظمی اس تعلق سے تازہ تفتیش کراکے رپورٹ طلب کرنا چاہئے۔
عیاں رہے کہ آٹھ مسلم نوجوانوں کے انکاؤنٹر میں ہلاک کیئے جانے کے خلاف جمعیۃ علماء مہاراشٹر نے عرض گذار عبدالرشید محمد یوسف کے توسط سے جبلپور ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی تھی اور آٹھ لوگوں کو فریق بنایا تھا جس میں مدھیہ پردیش حکومت (پرنسپل سیکریٹری)، ڈائرکٹر جنرل آف پولس (ایم پی)،انسپکٹر جنرل آف پریزن سینٹرل جیل، سپرنٹنڈنٹ آف پولس ہیڈ کوارٹر، ڈپٹی انسپکٹر جنرل پریزن(بھوپال)، جیل سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل، اسٹیشن ہاؤس آفیسرپولس ہیڈکوارٹراور اسٹیشن ہاؤس پولس آفیسرگاندھی نگر(بھوپال) شامل تھے لیکن جبلپور ہائی کورٹ نے یہ کہتے ہو ئے پٹیشن خارج کردی تھی کہ مدھیہ پردیش حکومت نے سپریم کورٹ کے رہنمایانہ اصولوں کے تحت کمیشن کی تقرری کی ہے لہذا کمیشن کی رپورٹ آنے تک اس تعلق سے کوئی بھی ہدایت نہیں جاری کی جاسکتی ہے لیکن جسٹس پانڈے کمیشن کی رپورٹ نے ملزمین کو انکاؤنٹرمیں ہلاک کرنے والے پولس اہلکاروں کو کلین چٹ دے دی ہے جس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ سال مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال کی سینٹرل جیل سے مبینہ طور پر آٹھ مسلم قیدی جن پر سیمی کے رکن ہونے کا الزام تھا جیل توڑ کر فرار ہوگئے تھے لیکن فرار ہونے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی ریاستی انسداد دہشت گرد دستہ نے ان لوگوں کو راجدھانی کے مضافات میں ایک انکاؤنٹر میں قتل کردیا تھا ۔