بچہ اور قرآن

تصنیف:عبداللہ بن عامر عیسری
ترجمہ: شمشاد عالم قاسمی
طباعت:روشان پرنٹرس، دہلی
قیمت:180روپے
تبصرہ: محمد عدنان
قرآن پاک محض ایک کتاب نہیں؛بلکہ انسانی زندگی کا منشور اور دستورِحیات ہے؛لہذا خاص طورپر ایک مسلمان کا اس کتاب سے تعلق عہدِ طفولیت سے ہی قائم ہونا چاہیے؛تاکہ وہ اپنی آیندہ کی زندگی میں اس کے علوم و معارف اور تعلیمات و ہدایات سے مستفید ہوکر ظاہری و معنوی کامرانیوں سے ہم کنار ہو، یہ تعلق قائم کرنے کی ابتدائی ذمے داری بچے کے والدین پرہے،اگر والدین اپنے بچے کا رشتہ قرآن پاک سے جوڑیں گے،تواس کے خوش آیندنتائج بھی سامنے آکررہیں گے؛بلکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جن بچوں کو ان کے والدین بچپن ہی سے قرآن پاک سے جوڑتے ہیں، ان بچوں کا قرآن کریم سے ہمیشہ مضبوط ربط رہتا ہے؛لیکن افسوس کہ آج ہرمسلمان گھر میں قرآن مجید موجودتو ہے، مگر ہم عام طورپراس کی روشنی سے محروم اور اس کے علم و حکمت سے بے بہرہ ہیں۔
زیر نظر کتاب’’بچہ اور قرآن‘‘ عربی کتاب ’’الطفل و القرآن‘‘ کی پہلی جلد کا اردو ترجمہ ہے، اصل کتاب کے مصنف عمان کے مشہور عالم عبداللہ بن عامر عیسری ہیں، یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے؛ مگر ابھی صرف پہلی جلد کا ترجمہ منظرعام پر آیاہے،ترجمے کا کام مفتی شمشاد عالم قاسمی نے انجام دیا ہے، موصوف نئی نسل کے فضلاے دیوبند میں اپنی علمی وادبی صلاحیت اورتالیف و تحقیق کے خوب صورت ذوق کے حوالے سے امتیازی شناخت رکھتے ہیں اور فی الحال جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے شعبۂ عربی میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں، یہ ان کی دوسری کاوش ہے، ان کی پہلی کتاب’’الکلام الطرب ‘‘ کے نام سے ہے جو باب الأدب من دیوان الحماسۃ کی اردو شرح ہے اور درسِ نظامی کے طلباو اساتذہ میں مقبول ومتداول ہے۔
یہ کتاب (بچہ اور قرآن) بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے انتہائی بہترین اور آسان کتاب ہے،مصنف نے خالص تربیتی مقصد کو سامنے رکھ کر اس کی تالیف کی؛اس لیے اسلوبِ بیان اور زبان و الفاظ کے انتخاب وغیرہ میں سہل پسندی ووضاحت پر خاص توجہ دی گئی ہے،کتاب کا بنیادی موضوع یہ ہے کہ بچوں کا قرآن کریم سے تعلق کیسے قائم کریں؟ اس کے کیا کیا طریقے ہیں؟پھر چونکہ بچپن کے مراحل مختلف ہیں، اسی لحاظ سے مصنف نے ان تمام مراحل کی رعایت کرتے ہوئے تیرہ فصلیں قائم کی ہیں اور ان کے تحت بچوں کو قرآن سے مربوط کرنے کے طریقوں پر گفتگو کی ہے،جیساکہ ان فصلوں کے عناوین سے اس کی وضاحت ہوتی ہے:
پہلی فصل:قرآن کریم کے ساتھ جنین کا تعلق کیسے قائم کریں؟ دوسری فصل:قرآن کریم کے ساتھ دودھ پیتے بچے کا تعلق کیسے قائم کریں؟ تیسری فصل:قرآن کریم کے ساتھ شیرخوار بچے کا تعلق کیسے قائم کریں؟ چوتھی فصل:اسکول یا مدرسہ میں داخلے سے پہلے بچے کا قرآن کریم سے کیسے تعلق قائم کریں؟ پانچویں فصل:مشروط تعلق: قرآن کریم سے بچوں کی انسیت پیدا کرنے میں اس سے کیسے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے؟ چھٹی فصل: مالک بننے کا فطری رجحان:قرآن کریم کے ساتھ بچوں کا تعلق پیدا کرنے میں اس سے کیسے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے؟ ساتویں فصل:قرآن کریم کے ساتھ حفظ کا سنہرا مرحلہ،آٹھویں فصل:قصے بیان کریں ،امید کہ وہ نصیحت حاصل کر لیں،نویں فصل:قرآنی مکاتب:کیا ان کی واپسی ہوگی؟ دسویں فصل بچہ اور عربی زبان (طوفان کا قصہ)،گیارہویں فصل:بچہ اور عربی زبان (نکلنے کی راہ)،بارہویں فصل:بچے کے اندر قرآن کریم کی آیتوں میں غور و فکر کرنے کی صلاحیت کو کیسے پروان چڑھائیں؟ تیرہویں فصل:قرآن کریم کے نور میں بچوں کو کیسے غوطہ دیں؟
ان عناوین سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کتاب بچوں کے لیے کتنی مفید ہے، ان فصلوں میں سے ہر ایک کے اندر بچوں کی تربیت کے عمدہ طریقے بتائے گئے ہیں، جیسے جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہو تو ماں کو چاہیے کہ وہ قرآن کریم کی تلاوت سنے ،اس سے بھی بچے پر اثر پڑتا ہے،دودھ پیتے بچوں کو قرآن کریم کی تلاوت سنائی جائے، عمر
کے دوسرے مرحلے میں بچے کے ارد گرد قرآن کریم کے خوبصورت نسخے رکھ دیے جائیں؛ تاکہ بچہ جب ادھر ادھر نظر دوڑائے تو قرآن ہی نظر آئے،جب بچہ کو کوئی چیز ہدیہ دی جائے ،تو قرآن کریم کا خوبصورت نسخہ ہی دیا جائے، پھر اگلے مرحلے میں ان کو قرآن کریم میں موجود دعائیں یاد کرائی جائیں وغیرہ وغیرہ۔مجموعی طور سے یہ کتاب بچوں کی تربیت کے لیے بہت اہم ہے، اس طرح کی کتابوں کا اجتماعی مطالعہ زیادہ مفید ہے، ہر فصل کے اخیر میں خالی جگہ دی گئی ہے؛تاکہ قاری اس میں اپنی رائے، تبصرے یا تاثرات کا اظہار کر سکے۔
مترجم نے اس کتاب کا ترجمہ کرنے میں عام اردو خواں طبقے کی رعایت کرتے ہوئے آسان الفاظ اورسہل جملوں کا استعمال کر کے اسے بالکل عام فہم بنانے کی مکمل کوشش کی ہے،چونکہ اصل کتاب عربی میں ہے؛ اس لیے اس قیمتی سرمایے سے ہر کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا تھا، مترجم کا شکریہ اداکیاجانا چاہیے کہ انہوں نے اس کتاب کا اردو ترجمہ کرکے اس کا نفع اردو جاننے والے طبقوں تک وسیع کردیا ہے۔بچوں کی مثالی اسلامی تربیت کے حوالے سے یہ کتاب غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے اور ہر والدین کو اس کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے ۔کتاب کا ٹائٹل دیدہ زیب اور دلکش ہے،طباعت خوب صورت اور اوراق بھی اعلی قسم کے ہیں، روشان پرنٹر، دہلی نے طباعت کا اہتمام کیاہے ، کتاب کی قیمت 180 ؍روپے ہے۔