بنگلہ دیش سے روہنگیا پناہ گزینوں کوواپس میانمار بھیجنے کے خلاف احتجاج

ڈھاکہ:20؍جنوری (قندیل نیوز)
بنگلہ دیش میں پناہ لئے سینکڑوں روہنگیا مسلمانوں کو میانمار بھیجے جانے کی منصوبہ بندی کے خلاف احتجاج شروع ہو گیا ہے۔جمعہ کو روہنگیا پناہ گزینوں نے بنگلہ دیش کی حکومت کے فیصلے کے خلاف احتجاج بھی کیا۔پناہ گزین میانمار کے راکھین صوبے واپس جانے سے پہلے شہریت اور تحفظ کی ضمانت کا مطالبہ کرنے والے نعرے لگا رہے تھے اور ہاتھوں میں بینر لئے ہوئے تھے۔یہ مظاہرہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے یانگی لی کے شمال مشرقی بنگلہ دیش کے کیمپوں کے دورے سے پہلے ہوا جہاں اس وقت 10لاکھ مسلم اقلیت رہ رہے ہیں۔غور طلب ہے کہ بنگلہ دیش کا میانمار کے ساتھ سمجھوتہ ہوا ہے جس کے تحت اکتوبر 2016سے آئے کم از کم 750000پناہ گزینوں کو اگلے دو سال میں وطن بھیجا جائے۔یہ عمل اگلے ہفتے سے شروع کرنا ہوگالیکن انتہائی مشکل حالات میں رہ رہے روہنگیاؤں نے کہا ہے کہ گھروں پر حملے، قتل اور عصمت دری جیسے مظالم کے بعد گھر چھوڑکر فرار کے بعد وہ راکھین لوٹنا نہیں چاہتے۔بتا دیں کہ بنگلہ دیش نے میانمار سرحد کے قریب کے کیمپوں میں 10لاکھ سے زیادہ روہنگیا پناہ گزینوں کی گنتی کی ہے، جو سابقہ تخمینے سے کہیں زیادہ ہے۔روہنگیا پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے کی تیاریوں کے درمیان بنگلہ دیش کے رجسٹریشن منصوبے کے سربراہ نے گزشتہ بدھ کو یہ معلومات دی۔بنگلہ دیش کی بری فوج نے گزشتہ سال میانمار سے روہنگیا مسلمانوں کے نئے جتھے کے ملک میں داخل ہونے کے بعد ان پناہ گزینوں کو بایومیٹرک رجسٹریشن شروع کیا تھا۔میانمار میں مسلم اقلیت دہائیوں سے ظلم و جبربرداشت کرتے آرہے ہیں۔اس سلسلے میں بنگلہ دیشی بری فوج میں بریگیڈیئر جنرل اور روہنگیا رجسٹریشن منصوبے کے سربراہ سعید الرحمن نے کہا تھا کہ اب تک ہم نے 1004742روہنگیا پناہ گزینوں کا رجسٹریشن کیا ہے،انہیں بایو میٹرک رجسٹریشن کارڈ دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہزاروں روہنگیا پناہ گزینوں کا رجسٹریشن باقی ہے۔رحمان نے کہا کہ تازہ ترین اعداد و شمار اقوام متحدہ کی طرف سے فراہم شدہ اعداد و شمار کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ جنوب مشرقی بنگلہ دیش میں میانمار سرحد کے قریب 962000روہنگیا رہ رہے ہیں۔اس سے پہلے بنگلہ دیش حکومت نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ قرار کا مقصد وطن واپسی کے آغاز کے دو سال کے اندر روہنگیا مسلمانوں کو میانمار لوٹاناہدف ہے۔بیان میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ کب روہنگیا پناہ گزینوں کی واپسی کے آغاز ہو گا۔اس قرار کے دائرے میں تقریبا دو لاکھ روہنگیا پناہ گزینوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے جو اکتوبر 2016سے پہلے سے بنگلہ دیش میں رہ رہے ہیں،انہیں فرقہ وارانہ تشدد اور فوجی کارروائیوں کی وجہ سے میانمار سے بھاگنا اور بنگلہ دیش میں پناہ لینا پڑا تھا۔