بلٹ ٹرین میں نظر نہیں آتا ’میک ان انڈیا‘، 70فیصد ٹھیکہ جاپانی کمپنی کے پاس

نئی دہلی :18؍جنوری (قندیل نیوز)
نریندر مودی ملک کی معیشت کو نئی بلندیوں پر پہنچانے کے لئے ’میک ان انڈیا‘کا نعرہ وزیر اعظم بننے کے بعد سے ہی دے رہے ہیں۔ان مہنگے پروجیکٹ بلٹ ٹرین میں بھی یہی نعرہ دیا گیا تھا، لیکن جو حقیقت سامنے آ رہی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نعرے سے حکومت کافی دور ہے۔ذرائع سے ملی معلومات کے مطابق جاپانی اسٹیل اور انجینئرنگ کمپنیوں کے پاس 17 ارب ڈالر یعنی 1.1لاکھ کروڑ روپے کی ہندوستانی بلٹ ٹرین میں بڑی قیمت حاصل ہوئی ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہندوستانی کمپنیوں کو اس میں کچھ خاص نہیں ملا۔ایک رپورٹ کے مطابق جاپان اس پروجیکٹ میں کافی پیسہ لگا رہا ہے اور بلٹ ٹرین واسطے ریلوے لائنوں کی تعمیر کے لئے 70فیصد سامان کی سپلائی جاپانی کمپنی کی جانب سے کی جائے گی۔ حالانکہ اس پورے معاملے میں وزیر اعظم کے دفتر نے کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا۔جاپانی نقل وحمل کی وزارت اس پروجیکٹ میں سرکاری طور پر شامل ہیں، اور اس کا کہنا ہے کہ سامان کی سپلائی کے لئے دونوں ملک مل کر طے شدہ حکمت عملی کے ساتھ کام کریں گے، اس کے بارے میں جولائی تک معلومات دی جائے گی۔گزشتہ سال ستمبر میں ہندوستان اور جاپان کے درمیان دو چیز ’میک ان انڈیا‘کا فروغ اور ’ٹیکنالوجی کے تبادلے‘کے ساتھ بلٹ ٹرین پر معاہدہ کیا گیا تھا۔نئی دہلی کو امید تھی کہ اس پروجیکٹ کے ذریعے ملک میں تعمیر صنعت بڑھے گا، ساتھ ساتھ نئے روزگار پیدا ہوں گے اور جاپانی ٹیکنالوجی کو قریب سے جاننے کا موقع ملے گا۔وزیر اعظم مودی کو 2019میں عام انتخابات میں اترنا ہے، اور ان پر ہندوستان میں بے روزگاری کم کرنے کے لئے لاکھوں نئے روزگار دینے کا دباؤ ہے۔نیشنل ہائی اسپیڈ ریل کارپوریشن لمیٹڈ (این ایچ ایس آر سی ایل)کے منیجنگ ڈائریکٹر اچل کھرے نے بتایا کہ جاپانی اس معاملے میں انتہائی محدود سوچ والے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ جاپان میں ہندوستان کے مقابلے میں کام کرنے کا طریقہ پوری طور پر مختلف ہے۔دونوں ممالک میں کام کرنے کے طور طریقے مختلف ہیں۔کھرے نے کھل کر بات نہیں بتائی، لیکن ہندوستانی ریلوے کے حکام کا خیال ہے کہ ان کے جاپانی ہم منصب کئی بار ہندوستانی کمپنیوں کی کارکردگی پر سوال اٹھا چکے ہیں اور انہیں اس پر شک ہے کہ وہ وقت کی اہمیت کو سمجھیں گے۔وہیں ورلڈ بینک کی رپورٹ بتاتی ہے کہ ہندوستان بزنس کرنے کے لحاظ سے 190ممالک میں 100ویں نمبر پر ہے۔دوسری طرف جاپان کی نقل و حمل کی وزارت ریلوے بیورو کے بین الاقوامی انجینئرنگ امور کے ڈائریکٹر ٹومویکی ناکانو بتاتے ہیں کہ ہندوستانی کمپنیوں کو فی الحال ہائی اسپیڈ ریلوے نظام کی ٹیکنالوجی کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہے۔حالانکہ پہلے بھی کئی ہندوستانی افسر یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ ہندوستانی کمپنیوں کو بلٹ ٹرین منصوبے میں اہم ذمہ داری نہیں ملنے جا رہی۔جاپان بلٹ ٹرین کے لئے انتہائی کم سود پر ہندوستان کو 50سال کے لئے بڑی قرض دے رہا ہے۔مودی کی’میک ان انڈیا‘فلیگ شپ کے تحت یہ منصوبہ ہے کہ 2022تک ہندوستان اپنے یہاں مینو فیکچرنگ کے ذریعے 2 ٹریلین ڈالر تک معیشت پہنچا دے اور اس دوران 10کروڑ نئی ملازمت کی فراہمی ہوسکے۔جاپانی وزیر اعظم شنجو ابے نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ گزشتہ سال ستمبر میں ہندوستان کی پہلی بلٹ ٹرین کی بنیاد رکھی تھی۔یہ ٹرین ممبئی سے احمد آباد تک چلے گی۔احمد آباد مودی کے آبائی شہر گجرات کا سب سے بڑا پیشہ ورانہ شہر ہے۔