Home خاص کالم بلا عنوان

بلا عنوان

by قندیل


ڈاکٹر جسیم الدین،
پوسٹ ڈاکٹورل فیلو شعبہ عربی دہلی یونیورسٹی،ددہلی
حضرت مولانا محمد سالم قاسمی کی شخصیت عبقری تھی، قحط الرجال کے دور میں آپ کا وجود ایک سرسبز چھاؤں کی طرح تھا، جہاں تشنگان علم اپنی علمی تشنگی بجھانے کے ساتھ آپ کے سایۂ عاطفت میں رہ کر سکون قلب حاصل کرتے تھے، مولانا کی وفات سے نہ صرف دونوں دارالعلوموں کے فارغین افسردہ ہیں بلکہ موت العالم (بکسر اللام) موت العالم(بفتح اللام) کے مصداق پوری دنیا سوگوار ہے، مجھے تو دیر شب میں ہی القلم للبحث والترجمہ گروپ کے ذریعے یہ اطلاع ملی تھی کہ حضرت کی طبیعت بہت ہی زیادہ ناسازگار ھے، صبح تک بقید حیات رہنا مشکل ہے، صبح تو گذر گئی لیکن نماز ظہر ادا کرنے کے بعد ڈاکٹر ظفیر الدين صاحب قاسمی گیسٹ فیکلٹی شعبہ عربی دہلی یونیورسٹی دہلی نے جب یہ بتایا کہ حضرت مولانا داعی اجل کو لبیک کہہ گئے، إنا لله وإنا إليه راجعون، توتھوڑی دیر کے لیے خاموش رہا، پھر بات شروع ہوئی اور موبائل پر مختلف گروپوں کے ذریعے حضرت مولانا کی تصاویر کے ساتھ ساتھ انتقال پر تعزیتی کلمات تواتر کے ساتھ وارد ہونے لگے،میں اور ڈاکٹر ظفیر الدين اس وقت نئی دہلی میٹرو سے جامعہ ملیہ اسلامیہ مجینٹا لائن سے سفر میں تھے دونوں اپنے اپنے موبائل پر حضرت مولانا کی وفات پر آنے والے تاثرات کو پڑھنے میں محو تھے، اسی دوران ہم دونوں اپنی اپنی رہائش گاہ تک پہنچ گئے، نماز جنازہ اور تدفین میں شرکت کے لیے ڈاکٹر ظفیر الدين صاحب وقفہ وقفہ سے مفتی قمرالدين صاحب سے بات چیت بھی کرتے رہے، میں نے بھی خود کو آمادہ کیا لیکن نومولود بیٹے اور دو چھوٹی بچیوں کی علالت کی وجہ سے جنازے میں شرکت سے قاصر رہاـ حضرت مولانا سے باضابطہ میری ملاقات 2003 میں جامعۃ الفلاح بلریا گنج اعظم گڑھ کے عالمی سمینار میں ہوئی جس میں مصر، کویت سمیت سعودی عرب کے متعدد علماء تشریف فرما تھے، اس موقع پر مجھے بھی مقالہ پڑھنا تھا، مقالہ صبح کی نشست میں پڑھنے کے بعد نماز ظہر حضرت کے ساتھ میں ادا کی اور بات چیت کی. ہرچندکہ دارالعلوم دیوبند میں2000سے 2003کے نصف تک قیام کے دوران گاہے بگاہے وقف دارالعلوم جاکر حضرت مولانا انظر شاہ کشمیری اور آپ کی درس میں تبرکا شریک ہوا، لیکن باضابطہ ملاقات نہیں رہی، جامعۃ الفلاح کے سمینار میں ملاقات کے بعد دیوبند کئی بار گیا، لیکن ملاقات سے محروم ہی رہا، آج آپ کی رحلت پر ساری دنیا سوگوار ھے، میں بھی سوگوار ہوں، لیکن تقسیم دار العلوم کا قضیہ ذہن میں بار بار گردش کررہا ھے اور یہ خیال آرہا ھے کہ حضرت مولانا کو کم از کم عمر کے اخیر مرحلے میں ہی سہی دارالعلوم دیوبند کے منصب اہتمام پر فائز کردیا گیا ہوتا تو شاید دارالعلوم دیوبند کی ایک سیاہ تاریخ ہمیشہ کے لیے محو ہوجاتی، لیکن افسوس صدافسوس یہ ممکن نہ ہوسکا اور منصب اہتمام کا اصل حقدار یہ حسرت لیے ملک عدم کوچ کرگیا،خیالات کا تلاطم ہے، لیکن پھر کبھی إن شاءالله، الله تعالى حضرت کے درجات کو بلند فرمائے اور انبیاء، صلحا وصدیقین کی معیت عطا فرمائے !

You may also like

Leave a Comment