بلاے جاں ہے غالب اس کی ہربات!

رشیدودود
ایک دن ایک دوست نے یمن میں اسکول بس پر سعودی اتحاد کے حملے کا ذکر کیا، ہم نے کہا: بھائی! کچھ بھی کہنے سے پہلے بس یہ پتہ کر لو کہ یمن کے اسکولوں کا تعطیلی شیڈول کیا ہے؟ اس کے بعد کچھ کہو، لیکن ہمارے اُس دوست نے پوچھا کہ آپ کی خفیہ ایجنسی کا نام کیا ہے؟ اب اس پر ہم کیا جواب دیتے؟ کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا؟ اس لئے فقط مسکرا کر رہ گئے، پرسوں ہی سے سوشل میڈیا پر امام حرم شیخ صالح طالب کے گرفتاری کی خبر آ رہی ہے، کل پرنٹ میڈیا میں بھی یہ خبر آ گئی، سب کا منبع وہی دشمن جاں ہے، جسے یاران تیزگام الجزیرہ کے نام سے جانتے ہیں، الجزیرہ ایک پراسرار میڈیا گروپ ہے، افغانستان پر امریکی حملے کے دوران اسے شہرت ملی اور آج تک اس کی یہ شہرت برقرار ہے، الجزیرہ کی ایک چیز اور مشہور ہے اور وہ ہےاُس کی جانبداری، الجزیرہ مصر میں جمہوریت چاہتا ہے؛ لیکن قطر کی شاہی حکومت کا وہ ثنا خواں ہے، الجزیرہ شام میں امن چاہتا ہے؛لیکن وہ ایران سے پینگیں لڑانے سے بھی باز نہیں آتا،الجزیرہ امریکیوں کو کوستا ہے کہ اُنہوں نے کیوں فتح اللہ گولن کو پناہ دیا ہے، اُسے یہ لوگ کیوں نہیں ترکی کے حوالے کرتے؟ لیکن یہی الجزیرہ شیخ یوسف قرضاوی کو اپنے چینل پر بلا کر مصر اور سعودیہ کو طاغوت ڈکلیئر کراتا ہے، الجزیرہ نے اپنے آقاؤں سے کبھی نہیں پوچھا کہ تم نے شیخ کو کیوں پناہ دے رکھا ہے؟ اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کے پیغامات کو بھی نشر کر کے الجزیرہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں "کارہائے نمایاں” انجام دیے ہیں، اسی طرح سے الجزیرہ کا سعودی مخالف ہونا بھی کوئی ڈھکا چھپا نہیں، تمیم کو وہ کبھی نہیں یاد کرتا؛لیکن محمد ہمیشہ اس کے اعصاب پر سوار رہتا ہے اور اب اُسی”صادق و امین”الجزیرہ نے خبر دی ہے کہ امام حرم شیخ صالح طالب کو گرفتار کر لیا گیا ہے-
کسی خبر کو پرکھنے کا طریقہ کیا ہے؟ کون سی خبر سچی ہے اور کون سی جھوٹی؟ اس کی خبر ہمیں کیسے ہو؟ آئیے دیکھ لیتے ہیں!
وطن عزیز کے بارے میں پاکستانی اور چینی پریس کبھی کوئی مثبت خبر نہیں دے سکتے، اسی طرح سے ہندوستانی پریس بھی پاکستان اور چین کی منفی خبروں ہی کو ہمیشہ پیش کرتا ہے، العربیہ سے ہم یہ توقع نہیں کر سکتے کہ وہ قطر کی مثبت خبروں کو کبھی پیش کرے گا، رائٹر جیسی نیوز ایجنسیاں عالم اسلام کے بارے میں ڈھونڈکر منفی خبریں پیش کرتی ہیں، بی بی سی جیسے ادارے کی بھی اپنی استعماری خواہشات ہیں، جن سے وہ کبھی اپنا پیچھا نہیں چھڑا سکتا، تو پھر الجزیرہ سے ہم یہ توقع کیوں رکھتے ہیں کہ وہ سچائی ہی کو پیش کرے گا، آخر الجزیرہ سچائی کا علمبردار کب سے ہو گیا؟
ہندوستان کے مختلف شہروں سے ایک اردو روزنامہ شائع ہوتا ہے، نام ہے انقلاب، پرسوں اُس کے لکھنؤ اور گورکھپور اڈیشن میں امام حرم کی گرفتاری والی خبر فرنٹ پیج پر شائع ہوئی، منبع وہی صادق و امین الجزیرہ ہے؛لیکن لطف کی بات یہ ہے کہ یہی خبر ممبئی کے اڈیشن میں نہیں شائع ہوئی، لکھنؤ اور گورکھپور اڈیشن شکیل حسن شمسی دیکھتے ہیں اور ممبئی اڈیشن کے مدیر شاہد لطیف ہیں، اب اس سے زیادہ کیا بتاؤں؟
آپ لوگ چاہتے ہیں کہ میں سعودی کو الجزیرہ کی نظر سے دیکھوں، قطر کو العربیہ کی نظر سے دیکھوں، پاکستان کو ہندوستان کی نظر سے دیکھوں، ہندوستان کو پاکستان کی نظر سے دیکھوں، عربوں کو ہالی ووڈ اور مستشرقین کی نظر سے دیکھوں، ترکوں کو عبدالرحمان کواکبی اور محمد کرد علی کی نظر سے دیکھوں تو معاف کیجئے، میری نظر کمزور ضرور ہے؛ لیکن اُسے آپ کے چشمے کی ضرورت نہیں-
ہمارے ممدوح حضرتِ ابوبکر قدوسی حفظہ اللہ نے بے قرار ہو کر امام حرم کی گرفتاری والی خبرپر اپنا کرب ظاہر کیا ہے، قدوسی صاحب کو شکوہ ہے کہ
‘سعودی حکومت کا یہ انداز رہا ہے کہ وہ ردعمل میں بہت تاخیر کرتی ہے – اتنی دیر کہ بسا اوقات زمانے بھر کی گالیاں پڑ چکی ہوتی ہیں، سعودی کچھ نہ کریں، تب بھی وہ متفقہ طور پر گالیاں کھاتے ہیں اور پھر سعودی کے معاملے میں الجزیرہ جھوٹ کی مشین بنا ہوا ہے، آئے دن وہ کوئی نہ کوئی شگوفہ چھوڑتا رہتا ہے، سعودی کہاں تک اُس کی صفائی دے؛ لیکن اب ہم بھی قدوسی صاحب کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں اور سعودیوں سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اب اُن کو بھی ذرا جلد باز ہو جانا چاہیے؛اس لیے کہ یہ امت اب حامل قرآن نہیں رہی، قرآن نے تو کہا تھا کہ:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ ـ
ہم جیسے عامی اس آیت کا اردو ترجمہ کیا کریں، اس کا ترجمہ تو بس شیخ حامد کمال الدین صاحب ہی کر سکتے ہیں؛اس لیے کہ اُن کے پاس بصیرت بھی ہے اور بصارت بھی، وہ انصاف پسند بھی ہیں اور غیر جانبدار بھی-
سعودیوں کی سُستی کا شکوہ کر کے ہمارے ممدوح قدوسی صاحب نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ:
"اصل میں یہ آمریت اور شخصی حکومت کا مزاج ہوتا ہے”ـ
اس فقرے کی داد ہم نہیں دے پائیں گے، البتہ خلافت و ملوکیت والے سید مودودی رحمہ اللہ اگر زندہ ہوتے، تو وہ اس بلیغ فقرے کی داد ضرور دیتے؛لیکن اب ہم ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کاکیا کریں؟ وہ تو کہتے ہیں کہ سید بادشاہ کی آمریت اور شخصیت ہی نے جماعت اسلامی کو تقریباً مفلوج کر کے رکھ دیا تھا، یہ بڑے لوگوں کی باتیں ہیں، ہم تو بس سن لیتے ہیں، ہماری کیا بساط کہ اس پر ہم اپنی نامعقول رائے دیں-
آپ لوگ جانتے ہیں کہ میرے پاس ایک عددمٹھو ہے، جو مجھے دنیاجہان کی خبریں لا کر دیتا ہے، آج اُس نے بھی ایک خبر مجھے دی ہے اور یقین مانیے اس خبر تک ابھی الجزیرہ کی بھی رسائی ہو نہیں سکی ہے، دروغ بر گردن راوی!
"مصدقہ ذرائع سے یہ اطلاع ملی ہے کہ اب کی بار دوحہ میں شیخ یوسف قرضاوی نے عیدالاضحٰی کے موقعے پر جو خطبہ دیا، وہ بڑا "انقلابی”، تھا، شیخ نے اپنے خطبے میں فرمایا کہ قطر کے جمہوری مزاج حکمراں مسٹر تمیم نے مجھے یقین دہانی کرائی ہے کہ قطر میں شخصی حکومت کے دن اب لد چکے، اب قطر میں بھی الیکشن کی بادبہاری چلے گی، حکومت پر کسی ایک خاندان کی اجارہ داری نہیں ہوگی؛ بلکہ عوام جسے منتخب کریں گے، وہی قطر کا”حقیقی حکمراں” ہوگا، قطر کے اس انقلابی قدم سے پورے خلیج میں ایک بھونچال آیا ہوا ہے، سعودیوں نے ہانپتے کانپتے اعلان کیا ہے کہ شوریٰ کونسل کو ہم بھی اب بحال کر رہے ہیں اور شیخ قرضاوی کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ علما کو اب ہم گرفتار نہیں کریں گے؛بلکہ اُنہیں شاہی سَمَّان دیں گے، شیخ سلمان عودہ صاحب کو دمشق کے محاذ جنگ پر سپریم کمانڈر بنا کر بھیجیں گے اور اپنی شیعہ اقلیتوں کی پکڑ دھکڑ بھی بند کریں گےـ
شیخ قرضاوی نے اپنے خطاب میں مزید فرمایا کہ ایران نے اُنہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ اب وہ اپنی سنی اقلیتوں کو تہران میں مسجد بنانے کا موقع دے گا، شیخ نے یہ مژدۂ جانفزا بھی سنایا ہے کہ ایران کے انقلاب اسلامی نےاتحادِاسلامی کی طرف مزید ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ ایران کے شہر کاشان میں بابا شجاع الدین کے نام سے ابو لولو مجوسی کا جو مزار ہے، اُسے اب منہدم کر دیا جائے گا؛تاکہ ہماری سنی اقلیتوں کی دل آزاری نہ ہو، ایران نے اُنہیں اب یہ بھی یقین دلایا ہے کہ وہ پاسداران انقلاب کے دستوں کو اور حزب اللہ کے گماشتوں کو شام سے نکل جانے کا حکم دے گا اور مستقبل میں وہ دبئی کی طرف للچائی نظروں سے نہیں دیکھے گا اور بحرین کی شورش میں اب اُس کا کوئی ہاتھ نہیں ہوگا، بغداد کا پایۂ تخت ایک بار وہ پھر سنیوں کے قبضے میں دے گا؛ لیکن شرط یہ ہے کہ یمن پر سعودی اتحاد بھی بمباری کرنا بند کر دے اور سمندر کا محاصرہ ڈھیلا کر دے؛ تاکہ ہم اپنے زیدی بھائیوں کو (جو اب اثنا عشری ہو چکے ہیں) غذا پہنچا سکیں-
شیخ قرضاوی نے قطر کے موجودہ حکمراں مسٹر تمیم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا کہ اگر تم ہماری باتیں نہیں مانتے،تو قذافی کی طرح ہم تمہارے قتل کا بھی فتوی دے دیتے، یہ سن کر کے مسٹر تمیم کی آنکھیں بھر آئیں اور وہ کہنے لگے کہ نہیں مرشدی! نہیں مرشدی! میں آپ کے مشورے کے بنا ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھاؤں گا،یہ سن کر پورے مجمعے نے اللہ اکبر کا فلک شگاف نعرہ لگایا، جس سے قطر کے شاہی در و دیوار لرز اٹھے،اس خطبے میں یوں تو عوام کی ایک کثیر تعداد موجود تھی؛لیکن خواص میں شیخ تمیم، مصر کے پہلے جائز اور حقیقی صدر مسٹر محمد مرسی، حسن نصر اللہ، اسماعیل ہانیہ موجود تھے”-
مٹھو کی رپورٹ سن کر کے ہمیں غالب یاد آ گئے:
بلائے جاں ہے غالب اُس کی ہر بات
عبارت کیا، اشارت کیا، ادا کیا!
(یہ مضمون نگارکے ذاتی خیالات ہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*