بلاد شام اور دور فتن

حافظ محمد زبیر
اہل علم اور جغرافیہ دان حضرات کی ایک جماعت ابو اسحاق اصطخری (متوفی 436ھ)، یاقوت الحموی (متوفی 626ھ)، ابن شداد (متوفی 684ھ)، زکریا القزوینی (متوفی 682ھ)، شمس الدین اسیوطی (متوفی 880ھ) اور ڈاکٹر شوقی ابو خلیل نے شام کی حدود کم وبیش ایک ہی جیسی بیان کی ہیں اور وہ طولاً (یعنی شمالاً جنوباً) فرات سے عریش مصر اور عرضاً (یعنی مشرقاً مغرباً) جبلِ طے سے بحیرہ روم تک ہیں۔ حالیہ جغرافیائی تقسیم کے تناظر میں شام سے مراد فلسطین، موجودہ شام، اردن اور لبنان کا علاقہ بنتا ہے۔
اگرچہ احادیث میں "شام” سے مراد بلادِ شام ہے کہ جس میں موجودہ شام کے علاوہ فلسطین، اردن اور لبنان بھی شامل ہے لیکن اس پورے خطہ میں فلسطین میں”بیت المقدس” اور موجودہ شام میں "دمشق” کی اہمیت وفضیلت نصوص میں بطور خاص منقول ہے۔ مسند احمد کی ایک صحیح روایت کے الفاظ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اس دوران کہ میں سویا ہوا تھا، میں نے دیکھا کہ کتاب کا عمود میرے سر کے نیچے سے کھینچ لیا گیا۔ پس مجھے یہ یقین ہو گیا کہ اب یہ جانے والا ہے تو میری نگاہ نے اس کا پیچھا کیا اور وہ شام تک پہنچ گئی۔ خبردار! فتنوں کے وقت ایمان شام کی سرزمین میں ہو گا۔”
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ خلق وامر میں مبدا ومعاد (Alpha and Omega) مکہ اور شام ہیں۔ اس دین اور دنیا کی ابتداء مکہ سے ہوئی اور انتہاء شام میں ہو گی کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول بھی اسی سرزمین میں ہونا ہے۔ سنن ابی داود کی ایک صحیح روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” "تمہارے دین اسلام کا معاملہ یہ ہو گا کہ تم لشکروں کی صورت میں بٹ جاؤ گے۔ ایک لشکر شام میں، ایک عراق میں اور ایک یمن میں ہو گا۔”
"راوی ابن حوالہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اگر میں اس زمانے کو پا لوں تو مجھے اس بارے کوئی وصیت فرما دیں۔ آپ نے فرمایا: شام کو پکڑ لے کیونکہ وہ اللہ کی زمینوں میں سے بہتر سرزمین ہے۔ اللہ کے بہترین بندے اس کی طرف کھنچے چلے جائیں گے۔ پس اگر تمہارا ذہن شامی لشکر کا ساتھ دینے پر مطمئن نہ ہو تو یمن کی طرف چلے جانا اور صرف اپنے گھاٹ سے پانی پینا۔ اللہ تعالیٰ نے میرا اکرام کرتے ہوئے شام اور اہل شام کی ذمہ داری لے لی ہے۔”
سنن النسائی کی ایک صحیح روایت میں ہے: "میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ مجھے اٹھا لیا جائے گا۔ اور تم میری اتباع کرو گے اور مختلف فرقوں میں تقسیم ہو کر کرو گے۔ اور ایک دوسرے کی گردنیں مارو گے۔ اور ان حالات میں شام اہل ایمان کا گھرہو گا۔” اسی طرح صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے: "دجال میری امت میں چالیس تک رہے گا۔ [راوی کہتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ چالیس سے مراد چالیس دن، یا چالیس مہینے یا چالیس سال ہیں]۔ پھر اللہ تعالیٰ عیسٰی بن مریم کو بھیجیں گے اور وہ عروہ بن مسعود سے مشابہ ہوں گے۔ پس وہ دجال کو تلاش کریں گے اور اسے قتل کریں گے۔
"پھر لوگ سات سال تک اس حال میں رہیں گے کہ دو آدمیوں کے مابین دشمنی نہ ہو گی۔ پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا بھیجیں گے اور دنیا میں کوئی بھی ایسا شخص باقی نہ رہے گا کہ جس کے دل میں ذرہ برابرہ بھی ایمان یا خیر ہو، چاہے وہ پہاڑ کی کھوہ میں ہی داخل کیوں نہ ہو جائے، وہاں بھی وہ ہوا گھس کر اس کی روح قبض کر لے گی۔”